کلیدی محکموں کے اخراجات اور واجب الادابقایاجات

 جموں//وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب اے درابو نے واجب الادائیگیوں کو قابو رکھنے اور پروجیکٹوں کو دستیاب رقومات کے اعتبار سے ہاتھ میں لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ واجب الادائیگیوں میں اضافہ نہ ہوسکے ۔وزیر موصوف نے ان باتوں کا اظہار یہاں مختلف محکموں کے اخراجات کا جائزہ لینے کی غرض سے میٹنگ سے خطاب ہوئے کیا۔ میٹنگ میں چیف سیکرٹری بی بی ویاس، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل روہت کنسل ، پرنسپل فائنانس نوین کے چودھری ، پرنسپل سیکرٹری اعلیٰ تعلیم اصغر سامون ، انتظامی سیکرٹری اور کئی دیگر افسران بھی موجو دتھے۔اس موقعہ پر مکانات و شہری ترقی ، اعلیٰ تعلیم ، بجلی ، آر اینڈ بی اور سکولی تعلیم محکموں کے اخراجات اور واجب الادائیگیوں پر تبادلہ خیال کیاگیااور بتایاگیا کہ ان میں سے اکثرمحکموں نے 50فیصد رقومات صرف کی ہیں۔ ڈاکٹر درابو نے انتظامی سیکرٹریوں سے خطاب کرتے ہوئے بجٹ ہدایات پر سختی سے عمل آور ی پر زور دیا اور کہا کہ تیسری سہ ماہی تک 70 فیصد رقومات جبکہ مالی سال کے آخری کوارٹر میں 30فیصد تصرف یقینی بنایا جانا چاہئے۔انہوں نے افسروں سے کہا کہ وہ محکمہ خزانہ کی رہنما خطوط کی سختی سے پاسداری کریں تاکہ واجب الادائیگیاں سامنے نہ آجائیں۔ ڈاکٹر درابو نے اخراجات عمل میں لانے کے دوران اخراجات ، منیجمنٹ اور مونیٹرنگ نظام وجود میں لانے کی ضرورت پر زوردیا۔اس موقعہ پر فیصلہ لیاگیا ہے کہ شہروں اور قصبوں کی آر ای الوکیشن کے تحت رقومات 2000کروڑ روپے تک بڑھائی جائیں گی۔یہ بھی فیصلہ لیاگیا کہ اگلے سال ریگولر کیپس اور ریاستی حصے کے تحت 5250کروڑروپے برقرار رکھی جائیں گی۔