کلچرل اکیڈیمی کا قومی مصوری کیمپ،صوبائی کمشنر نے افتتاح کیا | کہاجموں و کشمیر میں مصوری کی نہایت شاندار روایتیں موجود

سرینگر//جموں و کشمیر میں مصوری کے فن کو بڑھاوا دینے کے مقصد سے اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کی طرف سے مصوری کے قومی کیمپ کا انعقاد کیا گیا ۔قومی سطح کے اس کیمپ میں ملک کے مختلف علاقوں کے نامی گرامی اور مقامی مصور حصہ لے رہے ہیں۔ یہ کیمپ جموں و کشمیر اسمبلی کی سابق عمارت میں منعقد کیا گیا اور یہ کیمپ28 اکتوبرتک جاری رہے گا۔ صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے اتوار کو اس کیمپ کی افتتاحی رسم انجام دی۔ اس موقع پر نامور مصوروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ کیمپ کا افتتاح کرتے ہوئے صوبائی کمشنر کشمیر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مصوری کی نہایت شاندار روایتیں موجود ہیں اور یہ کیمپ ان روایات کو مزید آگے بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ انہوں نے فن مصوری کی ترویج کے لیے حکومت کی طرف سے ہرممکن حوصلہ افزائی کا یقین دلایا۔ اس موقع پر معروف مصور اور سابق ڈین جے جے سکول آف ممبئی پروفیسر وسنت سونابانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیمپ جموں و کشمیر کے مصوروں کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کیا گیا ہے اور اس میں بنائے جانے والے فن پارے دور رس اہمیت کے حامل ہوں گے۔ اکیڈیمی کے ایڈیشنل سیکریٹری سنجیو رانا نے اس موقع پر تمام مصور مہمانوں اور صوبائی کمشنر کشمیر کی تشریف آوری کو نیک شگون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کیمپ کی بدولت بیرونی اور مقامی مصوروں کو آپس میں بھرپور تبادلہ خیالات کے مواقع دستیاب ہوں گے۔اس کیمپ میں جو مصور حصہ لے رہیں ہیں اُن میں جگدیش چندر، کے ایس گِل، اے کے ڈِکشت، چنچل گانگولی، سابیا خان، سنجے رائے، جگموہن متھوڑی، وشاکھا آپٹے، کشور شنکر، وسنت سونابانی، اسلم نقشبندی، نوشاد غیور، محمد یوسف بچہ، مسعود تابش، روف قیاسی، ارشد صالح، یوسف نقشبندی، او پی شرما، سرپال سنگھ سلاتھیا، سرویشا سری نِواس وغیرہ شامل ہیں۔