کلچرل اکیڈیمی لال منڈی میں تقریب منعقد

سرینگر //ریاستی کلچرل اکیڈیمی کی جانب سے اکیڈیمی کے دفتر واقع لال منڈی سرینگرمیں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پہاڑی زبان وادب کے نامور قلمکار اور ادیب پرویز مانوس کی تازہ تصنیف ’’تتی چھان‘‘ کی رسم رونمائی دیہی ترقی ،قانون وپارلیمانی امور کے ریاستی وزیر عبدالحق خان نے انجام دی جبکہ ایم ایل سی و ریاستی کلچرل اکیڈمی کے ریاستی صدر ظفر اقبال منہاس نے تقریب کی صدرات کی جبکہ مشتاق احمد علی مہمان ذی وقار تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالحق خان نے کہا کہ ایسے پروگراموں کو منعقد کرنے سے زبانیں پھولتی اور پھلتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ زبان کو فروغ دینے کیلئے اگر کسی جگہ فنکاروں اور قلمکاروں کو ان کی مدد کی ضرورت پڑے تو وہ ہر وقت اُن کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ۔اس موقعہ پر ظفر اقبال منہاس نے کہا کہ’ مجھے جتنی محبت پہاڑی زبان سے ہے اُس سے کئی گناہ زیادہ کشمیر ی زبان اور اُردو زبان سے ہے ،ہم سب کو مل کر مکان کو پختہ کرنے کی ضرورت ہے‘ ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ی زبان ایک چھت کی طرح ہے او ر اُس کے بعد پہاڑی ، گوجری اور دیگر زبانیں ہیں اوراگر ایک مکا ن جو پانچ بھائیوں کا ہے تو ایک کو اس سے نکال دیا جائے تو مکان محفوظ نہیں رہتاہے اور اگر کشمیری زبان کو پہاڑی سے الگ کیا جائے تو پھر پہاڑی زبان کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مسائل اور مصائب ایک جیسے ہیں جب گولی چلتی ہے وہ کسی کی زبان ،رنگ اور نسل نہیں دیکھتی ،پہاڑی بھی پہلے سرحد پر مرتا ہے اور پھر گولیاں یہاں بھی چلتی ہیں اور ہمیں سب کو مل کر ایک ساتھ چلنا چاہئے اور زبانوں کو فروغ دینے کیلئے کام کرنا چاہئے ۔ مرکزی سرکار کی جانب سے کمسن بچیوں کی عصمت دری کے معاملے پر قانون بنانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صرف قانون پاس کرنے سے اس پر روک نہیں لگ سکتی ہے بلکہ سب کو اپنے ذہنوں کو تبدیل کرنا چاہئے ۔اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ غیروں کی تو بات ہی نہیں بلکہ اپنوں کے پاس بچیوں کو چھوڑنے میں ڈر محسوس ہوتا ہے پتا نہیں چلتا کہ کوئی بڑا کیا کر جائے ،یہ چیزیں قانون میں تبدیلیاں لانے سے حل نہیں ہونگی بلکہ اپنی سوچ ہو بدلنا ہو گی۔انہوں نے شعراء حضرات ،ادباء اور فنکاروں پر زور دیا کہ انہیں اس بات کو لیکر چلنا ہو گا کہ جہاں ہم ترقی کریں وہیں ہم اُن اقدار کی قدر کریں جن کا جنازہ اٹھ رہا ہے ۔  ظفر اقبال منہاس نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا ہے کہ مقبول ساحل (مرحوم) کے ا عزار میں یہاں کوئی بھی تقریب منعقد نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ان کے اعزار میں کوئی تعزیتی مجلس کا اہتمام کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مقبول ساحل نہ صرف پہاڑی زبان بلکہ اردو زبان کے قلمکار تھے جنہوں نے نہ صرف ملک بلکہ بیرون ممالک میں بھی اپنے کلام پڑھے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ کلچرل اکیڈمی نے ایسے شخص پر کوئی بھی ایسی تقریب منعقد نہیں کی جس نے کئی کتابیں تحریر کیں اور جب تک وہ زندہ تھے، ہمیشہ اکیڈمی کے ہر ایک پروگرام میں شرکت کرتے تھے۔ تقریب کے دوران مقبول ساحل کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا ۔ پہاڑی گلوکار مرحوم عالم قریشی سنگیت ایوارڈ سال2017کرناہ کلچرل کلب کی جانب سے پہاڑی کے ایک مایہ ناز نوجوان گلوکار سید قابل بخاری کو دیا گیا ۔ اس موقعہ پر ایک محفل موسیقی کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں معروف گلوکار سید قابل بخاری نے اپنے فن کا مظاہر کرتے ہوئے نہ صرف کشمیر ی زبان بلکہ اردو اور پہاڑی زبانوں میں بھی گیت گائے جنہیں حاضرین نے خوب سراہا ۔تقریب میںنظامت کے فرائض ریاستی کلچر اکیڈمی کے شعبہ پہاڑی کے ایڈیٹر کم کلچر افسر و آرگنائزر کرناہ کلچرل کلب ٹنگڈارنعیم کرناہی نے انجام دی جبکہ پرویز مانوس کی ادبی خدمات پر مولوی شبیر احمد نے مقالہ پڑھا ۔اس موقعہ پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے پروگرام میں شرکت کی ۔