کلسٹر یونیورسٹی سرینگر کیلئے وائس چانسلر

سرینگر//کلسٹر یونیورسٹی سرینگر کیلئے وائس چانسلر کی تقرری کیلئے قائم سرچ کمیٹی کی طرف سے کشمیر یونیورسٹی کے کسی امیدوار/ پروفیسر کو تبادلہ خیال کیلئے نہ بلانے پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنما یوسف تاریگامی نے تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کا کشمیریوں کے تئیں متعصبانہ رویہ اور ناانصافی کا عکاس ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یکم جولائی 2020 کو کلسٹر یونیورسٹی سرینگر کیلئے وائس چانسلر کے عہدے کیلئے درخواستیں طلب کی گئیں اور کشمیر یونیورسٹی کے نصف درجن سے زیادہ پروفیسروں جن کاٹریک ریکارڈ نہایت متاثر کن ہے ،اس کیلئے درخواستیں پیش کیں ۔لیکن حیران کن طور پربدقسمتی سے سرچ کمیٹی نے 11ستمبر جموں میںکو کئی امیدواروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیااور کشمیر یونیورسٹی سے کسی پروفیسر کو تبادلہ خیال کیلئے دعوت نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے موجودہ حکومت کامتعصبانہ رویہ اور شدیدناانصافی کااظہار ہوتا ہے جو تعلیمی اوراخلاقی معیار کی کوئی پرواہ نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ قومی سطح پر معروف کشمیری ماہرین تعلیم کو نظرانداز کیاگیا۔اس سے ہم اس نتیجہ پرپہنچے ہیں کہ کشمیرآمرانہ دور کی طرف واپس لوٹ آیا ہے جہاں غیرمقامیوں کو میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں وکشمیرپرمسلط کیاجارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسی پس منظر میں 1920میں کشمیری پنڈتوں نے ’کشمیر کشمیریوں کیلئے‘تحریک شروع کی تھی اور ریاستی باشندوں کے حقوق کا تحفظ کروانے میں کامیاب ہوئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس جموں کشمیرکاخصوصی درجہ منسوخ کئے جانے کے وقت کہاگیاتھا کہ پچاس ہزار نوجوانوں کو نوکریا ں فراہم کی جائیں گی تاہم قابل عمل ایجنڈااب منظر عام پر آگیا ہے وہ یہ کہ بھرتی بورڈ نے1005اسامیوں کو واپس لیا ہے،جن کے بارے میں11ستمبر کو کئی اخباروں میں خبریں شائع ہوئیں۔یہ سب موجودہ حکومت کے عوام مخالف ایجنڈا کی طرف اشارہ کررہے ہیں.۔