کلدیپ نیر

کلدیپ نیر ہندوستانیوں کی اس نسل کا حصہ تھے جنھوں نے غیر منقسم ہندوستان میں کالج سے گریجویشن کیا اور گاندھی کی اس سوچ پر بھروسہ کیا کہ ملک کی تقسیم ایک غلطی تھی۔کلدیپ نیر کا 95 سال کی عمر میں  گزشتہ دنوں دلی میںانتقال ہو گیا۔ وہ کئی قومی اخبارات کے تجربہ کار مدیر رہے۔ اس کے علاوہ وہ 14 زبانوں میں شائع ہونے والے 80 پبلشرز کے کالم نویس بھی تھے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر 15 کتابیں لکھیں۔ وہ سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے پریس مشیر بھی رہے۔ انھوں نے انگلینڈ میں ہندوستان کے سفیر کی شکل میں بھی کام کیا۔ 90 کی دہائی میں وہ راجیہ سبھا کے رکن رہے۔ انھوں نے ریاست کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف تاریخی عرضیاں ڈالیں جن میں ایمرجنسی سے لے کر بابری مسجد کا انہدام تک مسائل بھی شامل تھیں۔ روایتی طور پر دیکھا جائے تو انھوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری لیکن انھوں نے اپنی زندگی میں کافی خطرے بھی اٹھائے۔ جب بھی میڈیا کی آزادی خطرے میں ہوگی، میڈیا میں کام کرنے والے ہم جیسے لوگ ان کی غیر معمولی شخصیت کو ہمیشہ یاد کریں گے۔ ان کی ہمت، دائرہ اثراور دل کافی بڑا تھا۔ انھوں نے بار بار اپنی پوری طاقت کے ساتھ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی اور اسے چیلنج دیا اور اپنے پیشے کے لوگوں کو فخر کا احساس کرایا۔کلدیپ نیر ہندوستانیوں کی اس نسل کا حصہ تھے جنھوں نے غیر منقسم ہندوستان میں کالج سے گریجویشن کیا اور گاندھی کی اس سوچ پر بھروسہ کیا کہ تقسیم ایک غلطی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان ایک ماں کے دو بیٹے ہیں اور جب تک وہ اپنی چھوٹی موٹی خواہشات کو نہیں چھوڑتے اور پڑوسی دوست کی شکل میں خود کو نہیں بدلتے، اس وقت تک دونوں امن سے نہیں رہیں گے۔ جنگ، سرحد پر ہونے والی ہلاکتیں اور اقوام متحدہ میں نفرت آمیز ٹکراؤ نے بھی ان کے اس اعتماد کو نہیں ہلایا اور سال 2000 میں انھوں نے راج گھاٹ سے واگہہ سرحد تک امن دوستی یاترا شروع کی، جس کا اختتام ہندپاک سرحد پر شراکت داروں کے ذریعہ امن کے لیے ہر سال 14 ؍ اگست کو موم بتیاں جلا کر ہوا۔ یہ پوری طرح غیر یقینی تھا کہ ان کی آخری عوامی موجودگی اس سال 12 ؍ اگست کو ہوئی جب انھوں نے امن دوستی یاترا کو ہری جھنڈی دکھائی۔ہم ہندوستانی جمہوریہ کی تاریخ میں کئی سرکاروں پر کئی چیزوں کے لیے الزام لگا سکتے ہیں، لیکن کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب بھی ان کے اقتدار کو خطرہ ہوا تو انھوں نے طاقت کے اختیارات کا استعمال کرنے میں جھجک کا مظاہرہ کیا۔ ایسے مواقع پر کلدیپ نیر نے ہم لوگوں کو مایوس نہیں کیا جب ہم نے اپنے عوامی حقوق کو کچلے جانے کو لے کر مخالفت کی۔ انھوں نے ایمرجنسی کے خلاف عرضی دی اور میسا کے تحت جیل گئے، لیکن کچھ سال بعد انھوں نے پھر بابری مسجد انہدام کے خلاف جسٹس سیتلواڑ کے ساتھ مل کر عرضی داخل کی۔ انھوں نے میڈیا کی آزادی پر اٹھنے والے ہر خطرے کی مخالفت کی۔ جب ہم میں سے کچھ سینئر خاتون صحافیوں نے مل کر انڈین ویمنس پریس کلب کی تشکیل کا فیصلہ لیا تو انھوں نے اپنے ساتھیوں سینئر صحافی بی جی ورگیز اور ایچ کے دُوا کے ساتھ مل کر مضبوطی کے ساتھ ہماری حمایت کی اور ہماری تقاریب میں ہمیشہ شریک ہوئے۔جب وہ لندن میں ہندوستانی ہائی کمشنر تھے تب ایک بار دہلی سفر کے دوران میں ان سے ملی تو انھوں نے جھڑکتے ہوئے کہا ’’جب پچھلے مہینے آپ لندن میں تھیں تو آپ کو گھر آنے کا وقت نہیں ملا؟‘‘ میں نے بھنبھناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا گناہ کرنا میرے لیے ناقابل تصور ہے۔ میں ایک سال پہلے لندن کے ان کے گھر میں ان سے اور ان کی بیگم سے ملنے اور ان کی پنجابی مہمان نوازی کا لطف اٹھانے کے بعد لندن نہیں گئی تھی۔ وہ مسکرائے اور کہا ’’میری غلطی ہے۔ کسی نے مجھ سے کہا کہ آپ نظر آئی تھیں۔‘‘ پھر انھوں نے میرا سر تھپتھپایا اور کہا ’’میں نے ان سے کہا تھا کہ مرنال میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میں دُرست تھا۔‘‘
جو لوگ انہیں جانتے تھے اور تقریباً نصف صدی تک انہیںایک صحافی، ایک سماجی کارکن کے طور پر کام کرتے ہوئے دیکھا تھا، ان کے لیے کلدیپ نیر ایسے شخص بنے رہے جو واگہہ سرحد کے دونوں طرف کی حکومتوں اور اوپر موجود ایشور کے بارے میں وہ جو کچھ سوچتے تھے، کھل کر بولتے تھے اور اس کی فکر نہیں کرتے تھے کہ انھیں ستایا جائے گا یا مارنے کی دھمکی دی جائے گی۔ آج جب میڈیا پیشہ وروں کے درمیان کھل کر نظریات کے لین دین اور عوامی مباحث تیزی سے غائب ہوتے جا رہے ہیں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اچانک بے عزتی کے ساتھ غیر ملکی بتایا جا رہا ہے، کلدیپ نیر جیسا کھل کر بولنے والا غیر معمولی شخص نظروں کے سامنے ہے۔ وہ بہت سارے لوگوں کے لیے انصاف کی آواز بن گئے تھے اور انھوں نے ناانصافی کے تئیں ہمیشہ آواز اٹھائی جیسا کچھ ہی لوگ کر پاتے ہیں۔نکہل چکرورتی، پریم بھاٹیہ اور بی جی ورگیز کی طرح ہی کلدیپ نیر صحافیوں کی اس آخری جماعت کا حصہ تھے جو ہمارے غصے کو ظاہر کرنے کا آخری ذریعہ تھے۔ وہ ہمیشہ آنکھوں میں ایک چمک لیے اپنے نوجوان ساتھیوں کی تمتماہٹ سے بھری باتیں صبر کے ساتھ سنتے تھے اور جب وہ مطمئن ہو جاتے تو عوامی آزادی کو خطرہ پہنچانے والے بل اور نفرت پھیلانے والے نعروں کو سر کے بل کھڑا کر دیتے۔ انھوں نے ہمیشہ تنازعات کو سیدھے عدالت لے جا کر سلجھانے میں یقین کیا، سڑکوں پر نعرے لگا کر نہیں اور کتنے حیرت انگیز طریقے سے وہ ریاست کو عدالت لے گئے۔ عدلیہ نے بھی کبھی انھیں مایوس نہیں کیا۔ دونوں نے مل کر یہ یقینی بنایا کہ نااتفاقیوں کا حل عدالتوں میں نکالا جائے، سڑکوں پر نہیں، تاکہ میڈیا، خواتین اور اقلیتیں یکساں حقوق حاصل کر سکیں اور فخریہ زندگی گزار سکیں، ساتھ ہی ہندوستان کے سبھی لوگ مذہب ہونے کی بنیادی شرطوں کو پورا کریںجیسا کہ لکشمن نے رامائن میں اہلیا کے بارے میں کہا تھا، ایسی ہمت، ایسے وقار کے سامنے سر جھکانا چاہیے۔ 