کشمیر : 28 فروری سے کھلیں گے تمام تعلیمی ادارے

سری نگر// وادی کشمیر میں سرمائی تعطیلات کے اختتام کے ساتھ ہی پرائمری سطح سے لے کر تمام تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل بحال ہوگا۔
 
جموں وکشمیر حکومت نے اتوار کے روز اسکولوں کے کھلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یونین ٹریٹری کے سرمائی زون کے تمام اسکولوں میں 28 فروری کے بعد درس و تدریس کا عمل بحال ہوگا تاہم اجتماعات کا انعقاد گنجائش کے مطابق پچاس فیصد تک جبکہ سنیما ہالز، تھیٹرز، ریستوران، کلب، سوئمنگ پولز وغیرہ میں گنجائش کے مطابق پچیس فیصد تک محدود رکھا گیا ہے۔
 
چیف سیکریٹری، جو محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ، ریلیف، بحالی و تعمیر نو جموں وکشمیر کی سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے اتوار کے روز کورونا کی موجودہ صورتحال کی تفصیلی جائزہ میٹنگ کے بعد فیصلہ لیا کہ وادی کشمیر میں سرمائی تعطیلات کے اختتام کے ساتھ ہی پرائمری سطح سے لے کر تمام تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل شروع ہوگا۔
 
حکمناے میں مزید کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ 15سال سے زائد عمر کے طلبا کے لئے ویکسینیشن سے متعلق رہنما خطوط ، سماجی دوری کے اصولوں اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کی جانی چاہئے ۔
 
آرڈر کے مطابق تعلیمی اداروں کے داخلی دروازے پر باقاعدہ اسکریننگ سینٹر قائم ہونے چاہئے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکا جاسکے۔
 
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ تمام یونیورسٹیوں، کالجوں ، پالی ٹیکنیک، آئی ٹی آئیز کو کورونا رہنما اصولوں پر عملدرآمد کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ آف لائن دس و تدریس کا آغازاحسن طریقے سے ہو سکے۔
 
سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی نے کہاکہ 15سے 17سال کے درمیان کے تمام طلبا جو باقاعدہ آف لائن کلاسز میں شرکت کرنے کے خواہاں ہونگے انہیں اپنے ساتھ ویکسنیشن سرٹیفکیٹ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ اسکولوں کے سربراہان کو کووڈ رہنما اصول کے نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا۔
 
آرڈر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی طالب علم میں کووڈ کے علامات ظاہر ہونگے تو اس کی ٹیسٹنگ کے لئے فوری اقدامات اُٹھانے کے لئے کہا گیا ہے تاکہ اسکولوں میں وائرس کے پھیلاو کو روکا جاسکے۔
 
حکمنامے کے مطابق تمام اسکولوں کے منتظمین سے کہا گیا ہے کہ وہ کووڈ مخالف رہنما اصولوں پر سختی کے ساتھ کاربند رہنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات اُٹھائیں۔
 
اُن کے مطابق کسی بھی طلاب کو بغیر ماسک کے اسکول کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔
 
سبھی اضلاع کے ضلع مجسٹریٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ جو کوئی بھی تعلیمی ادارہ عدولی حکمی کا مرتکب قرار پائے گا اُس کے خلاف ڈزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس حوالے سے زیرو ٹرولنس کی پالیسی پر کاربند رہنے کی ضرورت ہے۔
 
حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ کووڈ رہنما اصولوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی خاطر ضلع ترقیاتی کمشنرز ایگزیکٹیو مجسٹریٹس اور پولیس کی ٹیمیں تشکیل دے کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔
 
مشترکہ ٹیموں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں اور جائزے کے بارے میں وہ روزانہ کی بنیاد پر ضلع ترقیاتی کمشنروں کو رپورٹ پیش کریں گے۔