کشمیر یونیورسٹی میں سمینار اورصوفیانہ محفل | وائس چانسلر نے ’علمدار‘ کے دو جریدے جاری کئے

سرینگر// کشمیر یونیورسٹی نے اتوار کو ’آئیکونک ویک فیسٹیول‘ کے سلسلے میں ایک سمینار اور ’صوفیانہ محفل‘ کا انعقاد کیا۔وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے مرکزی کیمپس میں دن بھر جاری رہنے والے سمینار ’’ شیخ العالمؒ( کشمیر کی ہم آہنگی ثقافت کا ایک مجسمہ) کی صدارت کی۔ جموں و کشمیر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور کشمیر یونیورسٹی کے زیر اہتمام سمینار کے بعد ’’ کلام شیخ العالم ‘‘ اور ’’ صوفیانہ محفل ‘‘ کو پڑھا گیا۔پروفیسر طلعت نے اپنے صدارتی خطاب میں کشمیر کو ایک ایسی جگہ قرار دیا جس کی رواداری کی روایات شیخ العالمؒ جیسی شخصیات نے رکھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شیخ العالم ؒ نہ صرف ایک سماجی مصلح تھے بلکہ ایک فطرت پسند بھی تھے جن کا سوچنے کا عمل بہت ترقی یافتہ تھا۔رجسٹرار ڈاکٹر نثار احمد میر جو کہ مہمان خصوصی تھے ، نے یونیورسٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ شیخ العالمؒ کی اہمیت کو تسلیم کریں جن کی زندگی اور تعلیمات کو بین الضابطہ نقطہ نظر سے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے استقبالیہ خطاب میں سینٹر فار شیخ العالم اسٹڈیز (CSAS) کے پروفیسر جی این خاکی نے شیخ العالمؒ کو ایک انتہائی اہمیت کی حامل شخصیت قرار دیا جنہوں نے کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔سینٹرل ایشین سٹڈیز کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر گلشن مجید نے کلیدی خطبہ دیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ کشمیر کے کئی نامورعلماء نے اپنی تحریروں میں شیخ العالمؒ کے ہم آہنگی کے پیغام کو مسلسل تقویت دی ہے۔پروفیسر شاد رمضان سابق سربراہ شعبہ کشمیری نے اپنے خطاب میں بطور مہمان خصوصی شیخ العالمؒ کو ایک کثیر جہتی شخصیت قرار دیا جسے پڑھنے کی ضرورت ہے اور اس کو کسی صوفیانہ طول و عرض سے باہر تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر رئیس اے قادری کی سرپرستی میں شاعری کا مقابلہ اور صوفیانہ محفل کا انعقاد یونیورسٹی کے شعبہ بہبود طلبہ (DSW) نے کیا۔ تقریبات میں طلباء کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔CSAS کی طرف سے شائع ہونے والے 'علمدار' (2019 اور 2020) کے دو جریدے بھی وائس چانسلر نے جاری کیے جبکہ پروفیسر اعجاز محمد شیخ کی زیر صدارت ٹیکنیکل سیشن کے دوران شیخ العالمؒ کے مختلف پہلوؤں پر 8 تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔