کشمیر یونیورسٹی میںڈیزاسٹر مینجمنٹ کے موضوع پرویبنار منعقد | پروفیسر طلعت احمد کا آفات سماوی کوتعلیم و تعلم اور ترقیاتی پالیسوں کا باقاعدہ حصہ بنانے پر زور

سرینگر//کشمیریونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کل کہا کہ آفات سماوی کوتعلیم و تعلم اور ترقیاتی پالیسوں کا باقاعدہ حصہ بنانا چاہئے تاکہ زمینی سطح پر اس کی تباہ کارویوںسے بچائو کیلئے ایک مضبوط نظام قائم ہو۔ “Mainstreaming Disaster Management in Higher Educational Institutions”کے موضوع پر منعقدہ ویبنار کے افتتاحی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمالیائی خطہ آفات سماوی والا ہے اور اس لئیڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لئے سنجیدہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ  عالمی رہنما موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات سے انکار کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں ،لہذا تعلیمی اداروں خصوصا ہمالیائی خطے اور ملک کے دیگر علاقوں کیلئیضروری ہے کہ وہ اکٹھے ہوں اور نصاب تعلیم میں آفات سماوی کو حصہ بنائیں ۔وائس چانسلر نے جموں و کشمیر میں اسپتالوں ، کالجوں ، اسکولوں اور سرکاری دفاترسمیت تمام اہم عمارتوں کے سروے کا مطالبہ کیا تاکہ اس بات کا اندازہ کیا جاسکے کہ آفات سے نمٹنے کے لئے یہ کتنے محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا آفات سماوی سے متاثرہ علاقوں ،اہم شاہراہوں کی مستقل نگرانی کے نظام کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی تباہی سے قبل کی صورت میں پیشگی اقدامات کئے جاسکیں ۔پروفیسر طلعت نے آفات کے وقت مختلف ایجنسیوں کے مابین تیز مواصلاتی نظام اور ایسے علاقوں میں اچھے مواصلاتی مراکز کے قیام پر زور دیا۔قومی سطح کا یہ ویبنار کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ جغرافیہ اورڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ہائر ایجوکیشن محکمہ کے اشتراک سے منعقد ہوا ۔محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمشنر سیکرٹری طلعت پرویز روحیلہ نے کالجوں میں طلباء اور اساتذہ کی بنیادی قابلیت کو فروغ دینے ، موثر ردعمل کے نظام کے لئے باقاعدہ موک ڈرل کا انعقاد ، مناسب منصوبہ بندی اور آفت سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی کی تجویز پیش کی ۔جمستجی ٹاٹا سکول آف ڈیزاسٹر سٹیڈیز ،ٹی آئی ایس ایس ممبئی کی ڈین  پروفیسر جانکی اندہاری نے کہا کہ آفات کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ ملک کا 85 فی صد حصہ میں زلزلے ، سیلاب ، قحط ، طوفانوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے ، یہاں تک کہ سالانہ 500 ملین سے زیادہ افراد قدرتی آفات سے متاثر ہوتے ہیں۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو سمجھنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیونٹی پر مبنی نقطہ نظر ، آگاہی میں اضافہ ، مناسب ٹکنالوجی کا استعمال اور دیسی طریق کار تباہی سے بچنے کیلئے مدد گار ہوسکتے ہیںیونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نثار اے میر،پروفیسر شمیم اے شاہ ،پروفیسر ایم اوائی پیرزادہ، پروفیسر شکیل اے رومشو ، پروفیسر ایم سلطان بٹپروفیسر یاسمین عشائی ، پروفیسر رویندر کمار ٹیکو ، پروفیسر چندن گھوش ، ڈاکٹر جی ایم ڈار اور عامر علی سمیت ممتاز ماہرین تعلیم اور منتظمین نے ویبنار میں حصہ لیا ۔