کشمیر ہاؤس بوٹ ایسو سی ایشن اپنی ٹریڈ یونین صدر سے ملاقی

سرینگر//اپنی ٹریڈ یونین کے صدر اعجاز کاظمی سے کشمیر ہاؤس بورٹ آنرس ایسو سی ایشن ممبران نے ملاقات کی اور مسائل کے حل کیلئے اُن سے مداخلت کی اپیل کی۔پریس بیان کے مطابق اعجاز کاظمی نے کہاکہ کشمیر ہاؤس بوٹس ایسو سی ایشن ترجمان محمد یعقوب ڈنو نے اُنہیں دفعہ370کی منسوخی کے بعد ہاؤس بوٹ مالکان کو درپیش مشکلات ومسائل بارے جانکاری فراہم کی۔ انہوں نے بتایاکہ ہاؤس بوٹ مالکان کی روزی روٹی کا انحصار وادی کشمیر میں سیاحوں پر ہے جن میں پچھلے اڑھائی سالوں کے دوران بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ ہاؤس بوٹ مالکان کی حالت قابل ِ رحم ہے اور حکومت کو اِن کے دیرینہ مطالبات حل کرنے چاہئے۔ کاظمی کاکہنا ہے کہ ایسو سی ایشن ممبران نے فوری طور پر بجلی فیس معاوف کرنے اور کم سے کم ماہانہ فیس 1750پر نظرثانی کرنے کو کہا ۔ بجلی کٹوتی معاملہ کو بھی حل کیاجائے کیونکہ اِس وجہ سے سیاح ہاؤس بوٹ چھوڑ کرجانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ہاؤس بوٹ مالکان مشکلات سے دو چار ہیں لیکن کوئی بھی اُن کو سُن کر راضی نہیں، میری کشمیر پاور ڈسٹریبوشن کارپوریشن لمیٹیڈ سے گذارش کی ہے کہ ماہانہ فیس پر نظرثانی کی جائے اور کورونا وباء کی وجہ سے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بجلی بل معاف کئے جائیں۔ اعجاز کاظمی نے کہا کہ ہاؤس بوٹ مالکان کو کولنکنگ پر بھاری رقم خر چ کرنا پڑتی ہے تاکہ اُن کی بوٹس ڈوب نہ جائیں لیکن مالی دشواریوں کی وجہ سے وہ دیکھ ریکھ کی قیمت بردداشت نہیں کر پارہے۔ بہت سارے ہاؤس بوٹس ڈوب گئے ہیں کیونکہ اُن کے مالکان دیکھ ریکھ پر پیسہ نہیں خرچ کرپائے ۔میری حکومت سے گذارش کی ہے کہ اُن کے لئے اقتصادی پیکیج کا اعلان کیاجائے کیونکہ اُن کے پاس کوئی دوسرا آمدنی کا ذریعہ نہیں۔