کشمیر کے ’’ہمدردوں‘ ‘کا تکلیف دہ لہجہ

بھارتی کالم نگاروں اور صحافیوں میں ایک قلیل طبقہ ہے جو کشمیر سے متعلق ہمدردانہ لہجہ اختیار کرتا ہے۔ ان کی اصطلاحیں بھی عام ہیں۔ جیسے سخت گیر ملٹری پالیسی کشمیریوں کو قومی دھارے سے دُور کررہی ہیں، شفاف انتظامیہ اور نوجوانوں کو بغیر دھاندلیوں کے رو ز گار کے وسائل فراہم کئے جائیں، عبداللہ اور مفتی خانوادوں پر انحصار ختم کرکے نئے چہروں کو تلاش کرکے لوگوں کو دیانت دار لیڈر شپ مہیا کی جائے، فوج اور پولیس کو جوابدہ بنایا جائے اور بات چیت کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ ان میں بھارت بھوشن، برکھا دت ، راجدیپ سردیسائی وغیرہ سرفہرست ہیں۔ ان کی تحاریر سے لگتا ہے کہ انہیں کشمیریوں کی بقاء، ان کی تہذیبی شناخت، ان کی غالب سیاسی آرزو، تاریخ میں پیوست ان کی مزاحمت کی جڑوں اور مسلسل خوں آشامی سے زیادہ اس بات کی زیادہ فکر ہے کہ بھارت کی امیج خراب ہورہی ہے، کشمیری بھارت سے بددل ہوکر دُور جارہا ہے، بھارت کے قومی مفاد کو زک پہنچ رہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے یہاں بھی تجزیوں اور تبصروں پر میانہ روی کا جو زنگ چڑھا ہوا ہے اس کی وجہ بھی مقامی سیاست کی طویل تاریخ میں ہے۔بہت زیادہ پرانی بات نہیں ہے، جب مسافر بسوں اور نائی کی دکان میں یہ لکھا رہتا تھا کہ ’’سیاسی گفتگو کرنا منع ہے۔‘‘  شیخ عبداللہ اور بخشی غلام محمد کے ادوار میں بسیں، چوپالیں اور نائی کی دکانیں ہی سوشل میڈیا ہوتے تھے۔ آج صورتحال مختلف نہیں ہے۔ آج بھی زباں بندی کا دستور جاری ہے فرق صرف اتنا ہے کہ فیس بک، وٹس اپ اور ٹوٹر پر کڑی نظر ہے۔ کوئی افسر ہو یا عام حساس شہری اِن پلیٹ فارمز پر اس کی تحریر اس کے لئے وبال جان بن سکتی ہے۔ 
اس موازنہ سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ کشمیر میں کچھ نہیں بدلا۔ اتنا ضرور بدلا ہے کہ لوگوں کی بصیرت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہیں معلوم ہوا ہے کہ ان کی قربانیاں ہر بار سیاسی پینترے بازیوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں۔یہ سچ ہے کہ فی الوقت مزاحمتی خیمہ ایک باقاعدہ سٹرکچرل آئیڈیا کے لئے کوشاں ہے، کیونکہ پورے جموں کشمیر کو ساتھ لے کر چلنے کی خواہش کو ایک ہمہ گیر مزاحمتی آئیڈیالوجی کی ضرورت ہوگی۔ لیکن یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ کم از کم کشمیرکاپورا خطہ، چناب ویلی کا غالب حصہ اور پونچھ راجوری کی بیشتر آبادی 1947کو نہیں بھولے ہیں۔ وہ آج بھی اُن وعدوں کی دہائی دے رہے ہیں جو اقوام متحدہ میں ان کے ساتھ کئے گئے۔ سولہ یا بیس سال کا نوجوان مقامی حالات سے متاثر ہوکر بندوق اُٹھاتا ہے لیکن تحت الشعور میں وہ یہی سوچ رہا ہے کہ و ہ اپنی قوم کو ظلم سے نجات دینے کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ رہا ہے۔بااعتبار نتیجہ یہ رویہ کتنا ہی نقصان دہ کیوں نہ ہو لیکن اس خیال کو اس قدرعوامی تقدس حاصل ہوچکا ہے کہ فی الوقت کوئی بھی متبادل بیانیہ اسے غیر متعلق نہیں کرسکتا۔یہ ایسی صورتحال ہے جس میں حریت قائدین بھی خود کو کبھی کبھی بے بس پارہے ہیں۔ ان کی کال پر ہڑتال تو ہوتی ہے، لیکن انہیں خدشہ ہے کہ وہ اگر کوئی نئی نظریہ سازی کریں تو گراؤنڈ پر سرگرم نوجوان اس کی توثیق کرے گا بھی یا نہیں۔ 
حکومت کے لئے چند سو بندوق بردار مسلہ نہیں ہوتا۔ حکومت کے لئے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ان چند سو مسلح لڑکوں کی پشت پر پوری آبادی کھڑی ہے اور انہیں بچانے کے لئے وہ جان دینے پر بھی آمادہ ہے۔ یہ صورتحال سب کو نظر آرہی ہے، لیکن سب اس سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ کشمیریوں کا ہمدرد بننے والے لبرل قلمکاروں کے لئے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ حکومت ہند کو صحیح صورتحال سے آگاہ کریں۔ اول تو یہ کیا جاتا کہ کشمیر کے مسلہ کو قومی سیاست سے De-link کیا جاتا، لیکن اُلٹا پورے ہندوستان کی سیاست اس بات کے گرد گھوم رہی ہے کہ کشمیر میں حکومت لوگوں پر سختی کررہی یا نرمی برت رہی ہے۔ پاکستان کے انتخابات میں کشمیر کا شور سنائی نہیں دیا۔ بعض حلقوں کو یہ بات ناگوار گزری ہے۔ لیکن پاکستانی انتخابی مہم کی مثال کسی بھارتی دانشور نے نہیں دی۔ بی جے پی کشمیر کو ہی نظریاتی سرکس کیوں بنا رہی ہے۔ ٹھیک ہے کشمیر بھارت کے لئے ایک سرحدی خطہ ہے۔ اسی خطے میں پاکستان اور چین کی سرحدیں ہیں۔ لیکن جب دفاعی اور سیاسی مفادات گڑمڑ ہوجائیں تو خطے کی سرزمین آگ اُگلتی ہے۔
 بھارتی قلمکاروں کو اس باپت ٹھوس حقائق کے ساتھ بھارت بھر میں بحث چھیڑنی چاہیے کہ کیا کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ اب سابقہ فرقہ وارانہ فسادات کا متبادل ہے۔ کیا نظریاتی سیاست کواب قانون کی آڑ میں خوراک دی جارہی ہے۔ اکثر بھارتی صحافی کہتے ہیں کہ بی جے پی انتخابات سے قبل درجنوں مسلم کش فسادات کروا کے ہندو ووٹ موبلائز کرواتی تھی۔ کیا اب مودی سرکار بھارت کی امیج کو بہتر کرنے کے لئے فسادات کا مقصود کشمیر میں لوگوں کے ساتھ باقاعدہ جنگ سے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ 
اگر واقعی ان خدشات میں کوئی حقیقت ہے تو اس کے نتائج کشمیریوں کے لئے جو بھی ہوں، لیکن اہل اقتدار کے لئے اچھے نہیں ہونگے۔ سیاست ایک کوشن ہوتا ہے، جو متنازعہ خطوں میں قیام امن کے لئے سیفٹی وال کا کام کرتا ہے۔ اور جب نسبتاً امن قائم ہو تو دانشمند حکمراں تنازعہ کے تصفیہ کا عمل شروع کرتے ہیں۔ لیکن کشمیریوں نے دیکھ لیا کہ جب بھی طاقت کے بل پر خاموشی قائم کی گئی تو اسے ایک فتح کا نام دیا گیا اور ایک نظریہ کی شکست سے تعبیر کیا گیا۔سالہاسال سے یہی ہوتا آیا ہے اور سینوں میں دبے اسی لاوے نے اب آتش فشاں کا روپ دھار لیا ہے۔اب تو سب کہتے ہیں کہ اس کی وجوہات بے روزگاری یا غربت میں نہیں ہیں، پھر اصل حقیقت کے اعتراف سے یہ لیت و لعل کیوں؟  برکھا دت نے کہا ہے کہ نئے چہروں کو سامنے لاؤ، کسی اور صاحب کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو مفت سیر کراؤ، کوئی اور کہہ رہا ہے کہ نوجوانوں کو ایکسپوژر کی کمی ہے۔ لیکن گزشتہ تین سال کے حالات نے ان سبھی مفروضوں کو بھسم کرکے رکھ دیا ہے۔
 اب حالات بدل گئے ہیں۔ لوگ اب عبوری بیانیہ نہیں مستقبل بیانیہ چاہتے ہیں۔ اب تو یہ معلوم حقیقت ہے کہ حکومت ہند اور اس کے تابع دار ادارے اس باپت مجبور نہیں کہ وہ کشمیریوں کی بات سنیں یا کشمیریوںکے مطالبات تسلیم کریں۔ لیکن کشمیریوں کے ہمدرد بن کر اقتدار کے گلیاروں تک رسائی پانے والوں کو اپنے لہجے درست کرنے چاہیں۔ سٹیٹ ایک مانولِتھ ہوتا ہے۔ حکومت کے پاس فوج، خفیہ ایجنسیاں، بیوروکریسی اور بے پناہ افرادی قوت ہوتی ہے۔ کیاحکومت کو یہ معلوم نہیں کہ کشمیری قومی دھارے سے دُور ہورہا ہے؟ کیا حکومت نہیں جانتی کہ مسکیولر پالیسی سے کشمیریوں میں ہندمخالف جذبات کو تقوت ملے گی؟ حکومت کو سب معلوم ہوتا ہے۔ لیکن جنوب ایشیا میں سیاست کا باباآدم ہی نرالاہے۔ یہاں ریاست کے مفادات پر پارٹی کے مفادات غالب ہوتے ہیں۔ لہذا تجزیہ کرتے وقت ہمیں اس زعم میں مبتلا نہیںہونا چاہیے کہ ہم حکومت کو کسی ایسی بات سے الرٹ کررہے ہیں جو اسے معلوم ہی نہیں تھی۔تجزیہ نگاری کا مطمع نظر اقتدار کو سچ بولنا ہے،
 نہ کہ اقتدار کا مشیر بننا۔ اور جب اقتدار سچ کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تو یہ ذمہ دو گنا ہوجاتی ہے۔کیونکہ سچ کودبا کر جو بھی پالیسی سازی ہوگی وہ مزید کانفلکٹ پیدا کرے گی۔
………………………..
 ( بشکریہ: ہفت روزہ نوائے جہلم سری نگر)