کشمیر کے معروف اردو شاعر ، اداکاراور تھیٹرسٹ فاروق آفاق نہیں رہے

سرینگر//معروف اداکار ،تھیٹریسٹ اور شاعر فارق احمد میر المعروف فاروق آفاق گزشتہ روز انتقال کر گئے ۔ انہوں نے 70اور80 کی دہائی میں کئی فلموں اورڈراموں میں شاندار کردار نبھائے ، ریڈیو کشمیر سرینگر سے بطور وائس آرٹسٹ اور دورشن کیندر سرینگر سے بطور کامیاب ادا کار کام کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے کئی پرائیویٹ پروڈ میں بھی اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ۔ وہ ایک منجے ہوئے شاعر تھے۔ انکی شاعری کے ابتدائی دور میں ترقی پسند تحریک کا اثر رہا جس نے بعد ازاں جدیت کے اثرات قبول کئے۔ کچھ عرصہ صحافت سے بھی جڑے رہے اور اخبار آئینہ کے ادبی گوشہ کے ایڈیٹر رہے۔ فاروق آفاق گزشتہ کچھ ماہ سے علیل تھے اورانہوں نے گزشتہ روز سرینگر میں اپنی آخری سانس لی ۔ مرحوم کی آخری رسومات جمعہ کوان کے آبائی قبرستان خان محلہ چھانہ پورہ سرینگر میں انجام دی گئی جہاں ہزاروں لوگوں نے پر نم آنکھوں سے انہیں سپر د خاک کیا ۔ مرحوم کی وفات پر ادبی، سماجی  اور تھیٹر سے وابستہ حلقوں میں صف ماتم ہے ۔ فاروق آفاق کا تعلق شہر خاص سے تھا لیکن گزشتہ کئی سالوں سے وہ خان محلہ  چھان پورہ میں رہائش پذیر تھے۔ فاروق آفاق کا شمار جموں کشمیر کے بہترین اور سینئر اداکاروں میں  ہوتا ہے ۔ انہوں نے اپنی پچاس سالہ کریئر کے دوران  تقریباً اڑھائی سو کے قْریب ٹیلی فلموں اور ڈراموں میں کام کیا  جن میںـ’ فرمان‘،’ سوداگر‘، ’نازو‘ ’مختہ مال‘ کنڈ تہ گلاب، ‘بہ چھیڑت نا‘ اور’ اندھیرے اُجالے قابل ذکر ہیں۔ سال 2017میں فاروق آفاق محکمہ خوراک و شہری رسادات  سے سبکدوش ہوئے جبکہ بطور اداکار انہوں نے اپنے کیئر کا آغاز ریڈیو کشمیر سرینگر کی یوا وانی سروس سے کیا جس کے بعد  دوردرشن کیندر سرینگر اور کئی پرائیویٹ پرڈوکشنز کے بینر تلے  مختلف ڈراموں اور فلموں میں کام کر کے  اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ۔  فاروق آفاق کو کشمیری شاعری سے کافی دلچسپی تھی لیکن شعر اُرودو میں کہتے تھے ۔ ابتدا میں ترقی پسند تحریک سے متاثر رہے  بعد ازاں جدیت کے اثرات قبول کئے ۔  کافی عرصہ تک صحافت سے بھی منسلک رہے اورمرحوم شمیم احمد شمیم کی سرپرستی میں آئینہ اخبار کے ادبی گوشہ کے ایڈیٹر رہے ۔معروف شاعرہ اور سابق ڈائریکٹر آل انڈیا ریڈیو سرینگر رحسانہ جبین  نے فاروق آفاق کی وفات کو ایک سانحہ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ نکا ہر ایک شعر دل کو چھو  لیتا ہے۔ نامور ادیب اور سابق ڈائریکٹر دوردرشن کیندر سرینگر  شبیر مجاہد نے فاروق آفاق کو ایک منفرد شخصیت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت کی کئی جہتیں تھیں جو انہیں منفرد مقام عطا کرتی ہیں ۔