کشمیر کے حالات بہت بہتر:ڈی جی

بارہمولہ// پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا کہ وادی کے حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ڈاکٹر ایس پی وید نے ان باتوں کا ظہار بدھ کو یہاں ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وادی میں سرگرم جنگجوو¿ں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے، تاہم ایک اندازے کے مطابق شمالی کشمیر ،میں ایسے جنگجوو¿ں کی تعداد 100 بتائی جارہی ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ہاتھوں 7 علیحدگی پسند لیڈران کی گرفتاری کے بارے میں پوچھے جانے پر پولیس سربراہ نے کہا کہ اگر کسی نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کو قانون کے شکنجے میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کے حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا ’کشمیر میں جو حالات آج سے آٹھ مہینے پہلے تھے، اس کے مقابلے میں آج کے حالات بہت بہتر ہیں۔ ڈاکٹر وید نے کہا کہ وادی میں سرگرم جنگجوو¿ں کی تعداد پر تضاد ہے کیونکہ تعداد بدلتی رہتی ہے، کونسا جنگجو کس تنظیم سے تعلق رکھتا ہے، اس طرح کی گنتی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے پاس وادی میں سرگرم جنگجوو¿ں کی تعداد سے متعلق ایک اندازہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں سرگرم جنگجوو¿ں کا کوئی جادوئی ہندسہ نہیں ہے۔ پولیس سربراہ نے دعویٰ کیا کہ ریاستی پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کو وادی میں انسداد عسکریت پسندی کی کاروائیوں کے دوران مقامی لوگوں کا بھرپور تعاون حاصل ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا ’شمالی کشمیر میں جو کامیابی ملی ہے وہ لوگوںکی بدولت ہی ملی ہے۔ اب جنوبی کشمیر میں لوگوں کا تعاون ملنا شروع ہوگیا ہے۔ کشمیر کے لوگ دہشت گردی کے خلاف ہیں، وہ نہیں چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں کے ذریعے خون خرانہ ہو۔ علیحدگی پسند لیڈران کی این آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری کے بارے میں پوچھے جانے پر پولیس سربراہ نے کہا کہ اگر کسی نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کو قانون کے شکنجے میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’میں اتنا ہی کہوں گا کہ وقت بتائے گا۔ آپ کو این آئی اے کی تحقیقات کی تکمیل تک انتظار کرنا ہوگا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ کشمیری کے لوگوں کا یہ جاننا حق بنتا ہے کہ اُن کے خون خرابے کے سوداگر کون ہیں۔ اگر یہاں خون خرابہ ہورہا ہے، اسکول جلائے جارہے ہیں اور دہشت گردی ہورہی ہے۔ اگر کسی نے اس کی سودا بازی کی ہے تو اس کو قانون کے شکنجے میں لایا جانا چاہیے‘۔ ڈاکٹر وید نے کہا کہ شمالی کشمیر میں صورتحال بالکل قابو میں ہے اور یہاں انسداد عسکریت پسندی کی کاروائیوں کے دوران بہت سارے جنگجو مارے گئے ہیں۔