کشمیر کی نامور بیٹ انڈسٹری 1000کروڑ روپے کے خسارے کی شکار

سرینگر//کشمیر میں کرکٹ بلوںکی صنعت کو پچھلے تین برسوں سے 1000 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے اور یہ صنعت اپنے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔2019 میں جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کھیلوں کی سرگرمیاں معطل رہیں اور بعد میں کوویڈ کے تناظر میں سلسلہ وار لاک ڈائون کے تناظر میں بلوں کی خریداری کم ہوئی۔صدر کشمیر کرکٹ بیٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نذیر احمد سلرو نے کہا کہ اس صنعت کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور یونٹ ہولڈر بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلے بنانے والوں کیلئے صورتحال خراب سے خراب تر ہوئی ہے۔،طلب کافی حد تک کم ہوئی ہے اورکروڑوں روپے مالیت کے نہ فروخت ہونے والے بلے گوداموں میں پڑے ہیں،جس کے نتیجے میں ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خسارہ ہوا ہے۔سلرونے کہا’’حالیہ برسوں میں جن تعلیم یافتہ نوجوانوں نے یونٹوں کے قیام کیلئے سرمایہ کاری کی تھی ، وہ پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ انہوں نے جو قرضے لئے تھے، ان کی ادائیگی بھی نہیں ہو رہی ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ بلوں کو بنانے والے اب اپنے گوداموں میں خام مال اور تیار بلوں کے حوالے سے پریشان ہیں۔سالرو نے کہا’’اس سال ہم توقع کر رہے تھے کہ ہمیں تھوڑی سی راحت ملے گی لیکن کرونا کی دوسری نے ہماری تمام امیدوں  پر پانی پھیر دیاِ،درحقیقت یہ صنعت بیساکھیوں پر ہے ‘‘۔ کرکٹ بلے تیار کرنے والے صنعت کاروں نے ٹیکس میں ریلیف اور قرض پر سود معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے کاروبار کو بحال کرسکیں۔سرینگر،جموں شاہرہ پر ہلمولہ کے مقام پر کرکت بلے تیار کرنے والے ایک شاہین سپورٹس یونٹ ہولڈ کے مالک محمد اشرف نے کہا’’12فیصد جی ایس ٹی‘‘ نے بھی اس صنعت کو کافی دھچکہ پہنچایا۔صنعت کاروںکے مطابق جنوبی کشمیر کے علاقوں میں 400 کرکٹ بیٹ مینوفیکچرنگ یونٹ فعال ہیں۔اننت ناگ ضلع کے ببجبہاڑہ،ا ، سنگم ، ہالمولہ دیہات میں 220 یونٹ چل رہے ہیں اور پلوامہ ضلع میں اونتی پورہ کے پوجی ٹینگ،ستھر،چرسو ،جوبیارہ میں 180 یونٹ ہے۔ ہر سال تقریباً 35 لاکھ کرکٹ بلے کشمیر سے دوسری ریاستوں میں برآمد ہوتے ہیں۔100 کروڑ روپے سے زائد کے سالانہ کاروبار کے ساتھ ، کرکٹ بیٹ انڈسٹری کشمیر میں ہزاروں لوگوں کو معاش فراہم کرتی ہے۔کم مانگ اور خام مال کی کمی سے کرکٹ بلے تیار کرنے والے مشکلات میں مبتلا ہوگئے ہیں۔جدید کلسٹر پلانٹ کی عدم موجودگی میں یہ شعبہ چیلنجوں سے دوچار ہے۔اس سہولیات کی عدم موجودگی میں زیادہ تر  بلے تیار کرنے والوں کو و بھید کے لھٹوں کو کھلی ہوا  میںخشک کرنے پر انحصار کرنا پڑتا ہے ، جو عالمی معیار کے مطابق نہیں اور سست بھی ہے۔انگریزی  بیدکے مقابلہ میں کشمیری بیدمیں نمی کی سطح زیادہ ہے اس طرح بیدسے بنائے گئے بلے بھاری ہوتے ہیں۔