کشمیر کی جھیلیں اور آبگاہیں پرندوں سے خالی

سرینگر //5ماہ تک عارضی طور کشمیر کی آبی پناہ گاہوں میں قیام کے بعد مہاجر پرندے اپنے اپنے وطن لوٹ گئے ہیں اور رواں سال کشمیر آنے والے 13لاکھ پرندوں میں 30اقسام کے نئے پرندے بھی کشمیر کے حسن کو دوبالا کرنے کیلئے یہاں پہنچے تھے ۔ قبل ازوقت گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی جھیل ڈل ، ولر ، ہوکسر ، مانسبل ، میر گنڈ ،ہائیگام وغیرہ کی آبی پناگاہوںسمیت دیگر جھیلیں مہمان پرندوں سے خالی ہو گئی  ہیںاور مہمان پرندے  واپس چلے گئے ہیں ۔محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ اس سال 13لاکھ مہاجر پرندوں نے کشمیر کی جھیلوں اور دیگر آبی پناہ گاہوں میں ڈھیرہ جما یا تھا ،اور رواں سال وقت سے قبل پڑنے والی گرمی نے مہمان پرندوں کو واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا ۔ویٹ لینڈ وارڈن کشمیرمس افشان دیو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ رواں سال نئے 30اقسام کے پرندے بھی دیکھے گئے، جنہوں نے ان آبی پناگاہوں میں5ماہ تک عارضی طور پر قیام کیا ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلی حیات نے ان کی حفاظت کی خاطر ہر ایک ویٹ لینڈ میں نفری کو بڑھا دیا تھا اور خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی تھی ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نے 20بندوقیں ضبط کر کے ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانے کی سفارش کی ۔انہوں نے کہا کہ ہوکسر ، مانسبل ، ولر اور ڈل جھیل اور میر گنڈ میں سب سے زیادہ پرندوں کو دیکھا گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ پرندے مارچ کے آخر تک یہاں کی جھیلوں میں رہتے تھے لیکن رواں سال گرمی بڑھ جانے کے نتیجے میں یہ وقت سے قبل ہی لوٹ گئے ۔معلوم رہے کہ یخ بستہ سردیوں میں رہنے کیلئے سائبریااور وسطیٰ ایشیاء کیساتھ ساتھ دیگر ممالک سے بھی کشمیر آنے والے مہاجر آبی پرندوں کی آمد کا سلسلہ اکتوبر مہینے کے آخری دنوں میں شروع ہوجاتا ہے اور مارچ  کے آخرمیں یہ پرندے پھر اپنے اپنے ممالک میں واپس چلے جاتے ہیں۔
کشمیر کی آبگاہیں ان پرندوں کی کافی پسندیدہ جگہیں ہیںاور پرندوں کے یہ اقسام سائبیریا، چین، مشرقی یورپ،اور فلپائن سے لمبی مسافت طے کرکے وارد کشمیر ہوتے ہیں۔ملک کے معروف سائنسدان فیاض احمد خود سر کہتے ہیں یہ پرندے قسمت سے لوگوں کو ملتے ہیں کیونکہ انہی پرندوں سے ایکو سسٹم برقرار رہتا ہے اس لئے ان سے اتنی ہی محبت کی جانی چاہئے جتنی ہم اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ڈاکٹر فیاض نے مزید کہا کہ یہ ماحول کیلئے غیر موزوں، نقصان دہ اور ناپسندیدہ کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں۔ ایسی مچھلیاں، پودے اور گھاس کھاتے ہیں جن کا حد سے زیادہ بڑھنا ماحول کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ماحول کو متوازن رکھنے میں یہ مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہ کشمیر کو صاف وپاک کر کے یہ پرندے واپس لوٹ گئے اگر یہ پرندے یہاں نہیں آئیں گے تو ماحولیاتی توازن بگڑ سکتا ہے ۔ماہرین کہتے ہیں کہ کشمیرواردہونے والے ان آبی پرندوں کاڈسپلن بڑادیدنی ہوتاہے۔یہ جب اڑان بھرتے ہیں توایک لمبی قطارمیں چلتے ہیں اوران کے چلنے سے آسمان پرایک کالی لکیرنظر آجاتی ہے۔نقل مکانی کرنیوالے پرندوں کے بارے میں تحقیقی کام ایک عرصے سے جاری ہے اورماہرین یہ جاننے کی مستقل کوشش کررہے ہیں کہ آخر یہ پرندے اڑان بھرنے کیلئے راستے کا تعین کس منصوبے اور ڈسپلن کیساتھ کرتے ہیں کہ سبھی بلا تامل کے ایک ساتھ اڑنے لگتے ہیں۔ برسوں کی تحقیق اور تجربات کے بعد سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پرندے بالعموم شمالی علاقوں کیلئے زیادہ کشش محسوس کرتے ہیں تاہم وہ حسب ضرورت اپنے فیصلے پر نظر ثانی بھی کرلیتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ یہ پرندے لمبے سفر کو آرام کا ذریعہ بنانے کیلئے اس قدرتی ہنر سے کام چلاتے ہیں جنہیں ’عصری ہوابازی میں ‘ایوی ایشن'' کا نام دیا جاتا ہے اور یہ ہنر بھی انکی چھٹی حس کی ہی ایک قسم ہے جس میں پرندے انسان سے کہیں زیادہ سمجھدار اور ذہین پائے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں پرواز کی لمبائی اور بلندی دونوں میں حیرت انگیز توازن پیدا کرنے کی سکت ہے اور اسی بنیاد پر وہ نقل مکانی کیلئے کمر باندھتے ہیں ۔