کشمیر کو قتل گاہ بننے کی کھلی چھوٹ

سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے نظربندی کے بعد حیدرپورہ میں خانہ نظر بند گیلانی کی رہائش گاہ پر ایک اہم اجلاس میں جموں کشمیر کی موجودہ خونین اور غیریقینی سیاسی صورتحال کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا۔ مزاحمتی قیادت نے  قتل وغارت کا بازار گرم کرنے رہائشی مکانات کو مسمار کرنے اور دوسرے جابرانہ اقدامات کے سلسلے کو تیز تر کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے نہتے کشمیریوں کے خلاف باضابطہ جنگ چھیڑ رکھی ہے اور شہروگام میں لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنادیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صورت حال نے انتہائی بھیانک شکل اختیار کرلی ہے جسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنا اب ناممکن بنتا جارہاہے۔ انہو ں نے کہا کہ اس گھمبیر صورت حال کے پیش نظر ایک متفقہ و مربوط طریقہ کار مرتب کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکاہے اور مشترکہ مزاحمتی قیادت نے بھی عوامی حلقوں کے ساتھ سر جوڑ کربیٹھنے اور اس حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس ضمن میں سماج کے تمام مکتبہ ہائے فکر خاص طور پر سیاسی ودینی جماعتوں، تاجر برادری، ملازمین، وکلاء، ٹرانسپورٹرس اور دوسری اہم انجمنوں سے مشاورت کی جائے گی اور ایک مشترکہ و متفقہ لائحہ عمل ترتیب دے کر اسے عوام الناس کے سامنے لایا جائے گا۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ بھارتی فورسز نے کشمیر کو ایک قتل گاہ بنادیا ہے جہاں انہیں انسانوں کا شکار کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوجی سربراہ کے حالیہ دھمکی آمیز بیانات کے بعد اس صورتحال نے مزیدسنگین رُخ اختیار کیا ہے اور اب شہروں، قصبہ جات اور دیہات میں اس کے نتائج ظاہر ہونے لگے ہیں جہاں فوج اور نیم فوجی فورسز کسی بھی معمولی واقعے کے بعد سول آبادیوں اور نہتے شہریوں پر قہر برساتی نظر آتی ہیں ۔