کشمیر کاز کے دواہم کردار

کشمیر کازکے دو اہم کردار میر واعظ کشمیر مولانا محمد فاورق صاحب اور خواجہ عبدالغنی لون صاحب ہمیں سال ہا سا ل پہلے داغِ مفارقت دے گئے اور تحریک کشمیر قدم قدم پر ان کی یادمیں آ وہ وزاری کر تی رہی ۔ آج جب ہم اپنی تاریخ کے ایک نازک ترین دور میں سے گزرہے ہیں،ان کی کمی سب لوگ بری طرح محسوس کر تے ہیں۔ وقت کی دُھول یا زمانے کے گردش ایسی عبقری شخصیات کی یاد کبھی لوگوں کے دلوں سے محو نہیں ہونے دیتی۔ زندہ اور باشعور قوم اپنے محسنوں ،رہنمائوں،انقلابی دانشوروں اور قربانی دینے والے محب وطن عظیم سپوتوں کو اپنی اجتماعی اور قومی زندگی کا حصہ بنا لیتی ہیں۔یہ سلسلہ ان کے بلند نظریات ، زریں خیالات اور تاریخ ساز اقدامات کی صورت میں نسل در نسل قومی و ملّی اثاثے کی صورت میں منتقل رہتا ہے۔ ہمارے یہ دونوں ہر دلعزیز مرحومین چونکہ کشمیرکاز پر نچھاور ہوئے اس لئے یہ آج تک کشمیر کے ہر پیروجوان کے دل میں زندہ ووتابندہ ہیں۔ خواجہ عبدالغنی لون تحریک جموںو کشمیر کے وہ سالارتھے جنہوں نے اپنی فہم وفراست اور سفارتی تدّبر سے کشمیر کاز کو نئی جلابخشی ، وہ ہمہ تن جدوجہدآزادی میں کمر کس کر ڈٹے رہے ،انہوں نے کبھی ہوائے تندوتیز کی پرواہ نہ کی بلکہ اپنے اٹل ارادے اور عزم راسخ کے ساتھ اپنا تھریکی سفر جاری رکھا ۔ اسی انتھک سفر میں مصروف وسرگرم خواجہ صاحب21؍مئی کو مولانا محمد فاروق کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ابھی مزار شہداء عید گاہ سے نکل ہی رہے تھے کہ انہیں بھی اسی کے خاک پر حیات جاودانی کا جام پلایا گیا۔ عبدالغنی لون مرحوم کے سیاسی ماضی کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں مگر تحریک کشمیر کے دوران میں نے پانچ سال موصوف کو قریب سے دیکھا ۔ ان کو ہر پہلو سے دیکھ کر ان کے خلوص اوروژن سے نہیں بلکہ بہادری اور استقامت سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ بقول چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ محمد یاسین ملک جب ہم نے  1988ء تحریک کی مشعل فروزاں کی تو لون صاحب اُن چند کشمیری رہنماؤں میں سے پیش پیش تھے جو عملاً عوامی تحریک کا حصہ بصد شوق بنے۔ انہوں نے ہر سطح اور ہر مرحلے پر ہماری رہنمائی کی اور ہر مشکل وقت پر تحریکی عزم کی آبیاری کر نے میں اپنی غیر مشروط اور بھر پور مدد بہم رکھی ۔ وادی کشمیر میںسیاسی قائدین کی کمی نہیں جنہوں نے تحریک کشمیر میں اپنی اپنی جدوجہد اور  اپنی اپنی قربانیوں کے بل پر اپنا مقام متعین کیا ہے۔ ان میں لون صاحب بھی ایک مردحق آگاہ اور آہنی عزائم والے بے خوف قائد تھے ۔ان کی سیاسی بصیرت اور دور بینی ،ان کے سیاسی خیالات میں پختگی اور اپنے قول پر ثابت قدمی ، مزاج میں خودداری جیسے مثبت اوصاف ان زندگی میں نمایاں طور دیکھے جاتے تھے۔ مجھے کئی بارخواجہ عبدالغنی لون کے آبائی گھر لونہ ہرے کپوڑاہ جانے کا موقع ملا جہاں ان کی گھریلو زندگی کے علاوہ اپنے عوام سے قریبی رشتے رابطے کی مثالیں دیکھ کر ہمیشہ متاثر ہوئے بنا نہ رہا ۔ ایک موقع پر محترم سید علی گیلانی اور محترم محمد یاسین ملک کی ہمراہی میں بہت سارے دیگر چھوٹے لیڈر اور کارکنوں کے ساتھ وہاں موجود تھے ۔ ہم نے دیکھا کہ لون صاحب کس طرح انسانی خدمات کے دائرے میں نمایاں کردار انجام دے رہے تھے اور کس دل جمعی کے ساتھ مختلف اجتماعی مسائل کا نپٹارا عمدہ اخلاق اور بہترین روشوں سے کر تے تھے کہ ہم سب پر اس میٹھی شخصیت کا جادوئی اثر مزید بڑھ گیا۔ موصوف کا شیوہ تھا کہ کپواڑہ کے ہر علاقہ میں بہ نفس نفیس جاکر جلسہ کرتے تھے ۔ یہاں ایک دن کے واقعے کی یاد آرہی ہے۔ یہ1996ء کادورتھا اور ا سمبلی الیکشن بائیکاٹ کاپروگرام حریت متحدہ طور زوروشور سے چلارہی تھی ۔ اس دوران حاجن چوک میں کسی اخوانی کا جلسہ تھا۔لون صاحب نے اسی کے جلسے میں گیا اور اپنی تقریر  دلپذیرشروع کی ۔ گیلانی صاحب اور یاسین صاحب پیچھے کھڑے تھے ۔اسی دوران کوئی بدترین اخوانی وہاں آیا اور آتے ہی اس بدمعاش نے ہمارے تینوں قائدین پر حملہ شروع کیا ۔ مجھے یاد نہیں ان بدترین لوگوں سے ہمارے دوسرے قائدین نے کیا کیا کہا مگر بہادر ونڈر لون صاحب پیچھے مڑے اور ان سر پھرے لوگوں سے بآواز بلند کہا دیکھو شیخ محمد عبداللہ نے ہنددستان کے لئے کیا کچھ نہیں کیا ، پھر بھی وہ اس کے نہ ہوئے ، تم لوگ کس کھیت کی مولی ہو ؟ایک اور واقعہ بتاتا چلوں، تینوں قائدین حضرات لیگٹ ہندوارہ میں موجود تھے ، پوری بستی میں کرفیو جیسی صورت حال تھی۔ہم صرف چھ ورکر ان قائدین کے شانہ بشانہ تھے، ہمارے علاوہ لون صاحب کا اسی بستی میں ایک ورکر بھی موجود تھا ۔ آپ نے مجھ سے کہا مائیک لائو ،میں نے مائیک لائی تو لون صاحب نے شیر کی طرح گرج کر اپنی تقریر شروع کی ، چاروں طرف آرمی کا سخت پہرہ تھامگر موصوف کی دلیری کی داد دیجئے کہ پورے ایک گھنٹے تک ہمارے ساتھ ساتھ آرمی کو بھی اپنی تیز طرار تقریر کا لفظ لفظ بے باکی سے سناکر دم لیا۔ حق یہ ہے کہ موصوف ایک خوددار انسان اور ایک سیاسی مفکرتھے جس کی بنا پر ان کا تحریکی مقام بہت بلند وبالا تھا ۔وہ ایک بالغ نظر مفکر ،ممتاز سیاسی قائد اور پرجوش عملی انسان تھے اور دیکھا یہ گیا ہے کہ یہ سب قابلیتیں کسی ایک ہی ذات میں خال خال ہی جمع ہوتی ہیں۔ 
   اس میں دورائے نہیں کہ ہمار ا مشترکہ دشمن بہت ہی طاقت ور اور چالاک ہے ، کشمیر میں جس نے کسی بھی حکومت کی، ہمیشہ یہاں اپنے ظلم وجبر کی تلوار کا دبدبہ قایم کیا اور ہمیں غلامی اور بے نوائی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اہل کشمیر کے ساتھ ہربار وشواس گھات ہو ا، ہمارے سیدھے سادے لوگوں کا جذباتی استحصال کیا گیا، ہمارے ساتھ مکر وفریب اور دھوکہ بازیاں کی گئیں مگر ہمیں فخر ہے کہ خرابی ٔ بسیار کے باوجود ہمارے پاس تحریک کشمیر کے حوالے سے مخلص، محب وطن اور ایثار پیشہ قیادت بھی قانون نِ قدرت کے تحت میسر رہی ۔ خواجہ عبدالغنی لون اور میرواعظ اور دیگر جان نثاران ِ کشمیر انی معنوں میں ہمارے لئے عطیہ ٔ الہٰیہ تھے۔جب بھی ان اہم تاریخی کرداروں کا تذکرہ کیا جائے گا تو یہ لوگوں کو انسپائر کریں گے کہ کمزروں کو قوت ملے گی ، بے سہاروں کو سہارا ملے گا ، بے نواؤں کی ہمتیں بندھیں گی۔میرواعظ مولانا محمد فاروق صاحب کو میں نے زیادہ تر صرف منبرو محراب پر حق گوئی وبے باکی کاحق کر تے ہوئے دیکھا۔ میرواعظ صاحب ایک بہترین عالم،اعلیٰ پایہ کے مقرر اور بلند نگاہ سیاست دان تھے جنہوں نے تاریخ کے مختلف مایوس کن ادوار میں کشمیر مسئلے کو اپنی محنتوں سے زندہ رکھا اور اپنی گوناگوں صلاحیتوں سے کشمیریوں کی قیادت کا حق اداکیا۔ تحریک موئے مقدس ؐ ہو کہ ۱۹۸۸ ء کا انقلاب، آب ہمیشہ عوام کے دوش بدوش رہے ۔ اس وادی ٔ پُر خار میں انہوں نے اپنے حامیوں سمیت وقت کے جابرین کے ہاتھوں بارہا اذیتوں اور تکالیف کا سامنا کیا لیکن اُن کے پایۂ استقلال اور شجاعت میں ذرا بھی لغزش نہ آئی۔تحریک کشمیر کے یہ درخشندہ ستارے صاحب اب ہمارے درمیان نہیں مگر ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور مدبرانہ اقدامات سے ہم اب بھی استفادہ کر سکتے ہیں ۔اس لئے اس قماش کے سیاسی رہنما قوموں کا سرمایہ ٔ پُر افتخار ہو ا کرتے ہیں ۔ کشمیر کی عصری تاریخ جب جب رقم کی جائے گی لوںن صاحب اور میرواعظ کا تذکرہ سنہری الفاظ میں کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں عظیم المرتبت شخصیات کے سمیت تمام جانثارانِ جموں کشمیر کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ا ور ان کے طفیل نہ صرف وادیٔ گلپوش کو ہر بلا وآفت سے نجات دے کر بلکہ دنیا کے نقشہ پر ریاست کو ایک پُرامن، خوش حال، آزاد وخودمختار مملکت میں شامل کرے۔ آمین 