کشمیر کئی دہائیوں سے حالت جنگ میں

سرینگر//حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے ترال میںجان بحق ہوئے جنگجوئوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے جموں کشمیر پچھلی کئی دہائیوں سے حالتِ جنگ میں ہے جس وجہ سے یہاں قیمتی انسانی زندگیوں کا اتلاف جاری ہے۔ انہوں نے زالورہ میں فورسز اور پولیس کی جانب سے عام لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، مکانوں کی توڑ پھوڑ کرنے اور دہشت کا ماحول قائم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں فورسز کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے جو انتقام گیرانہ پالیسی کے تحت مظلوم اور نہتے عوام کے خلاف برسرِ جنگ ہوگئی ہے جس وجہ سے یہاں کے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی جارہی ہے۔ گیلانی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جموں کشمیر میں قتل وغارت گری کے بازار کو گرم کرنے ، ظلم وجبراور بربریت ماحول کو قائم کرنے کے ساتھ ساتھ تمام پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر عائد سخت ترین پابندی اور سیاسی قائدین کی مسلسل نظربندی سیاسی غیر یقینیت اور عدمِ استحکام میں اضافے کا باعث بن رہا ہے اور یہ ایک قدرتی اور فطری ردّعمل ہے، جس کا یہاں کا نوجوان مظاہرہ کررہا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کا اپروچ اور حکومتی فورسز کی جبرو زیادتیاں ہمارے جوانوں کو سیاسی جدوجہد سے بددل اور پشت بدیوار کرکے انتہائی اقدام کی طرف دھکیلنے کے لیے مجبور کرکے انہیں بے دردی سے قتل کرنے کا جواز پیدا کرتے ہیں۔ گیلانی نے کہا کہ مسلح فورسز پولیس حوالات اور انٹروگیشن سینٹروں میں لوگوں خاص کر نوجوانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک روا رکھ رہی ہیں اور ان کا تھرڈ ڈگری ٹارچر کیا جاتا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ کوئی بھی ذی حس اور انسانی دل رکھنے والا شخص خون خرابے پر خوش ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ انسانی لاشیں دیکھنا پسند کرسکتا ہے، البتہ جموں کشمیر میں جاری تشدد کے ذمہ دار بھارتی حکمرانوں کے غیر حقیقت پسندانہ اپروچ کے باعث مسئلہ کشمیر ایک ایسے دیو کی شکل اختیار کرگیا ہے، جو ہر طرف سے قیمتی زندگیوں کو نگل رہا ہے۔ آزادی پسند راہنما نے اپنے بیان میں کہا کہ کشمیری عوام امن کے سب سے زیادہ ضرورتمند اور خواہشمند ہیں، البتہ اس خطے میں پائیدار امن لانے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ دہلی کے حکمران اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر زمینی حقائق کو تسلیم کریں اور کشمیری عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی حامی بھریں تو اس ریاست کا امن لوٹ آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ تنازعہ کشمیر نہ صرف کشمیری عوام کے لیے مصائب اور مشکلات کا باعث ہے، بلکہ اس کی وجہ سے پورے جنوب ایشیائی خطے کے عوام کی ترقی، خوشحالی اور امن وچین کی زندگی میں رُکاوٹیں حائل ہورہی ہیں۔