کشمیر پر ایوان میں بحث ہونی چاہیے:آزاد

نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا  ہے کہ گئورکشاکے نام پر تشدد کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پارلیمنٹ کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کل پارٹی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے مودی نے گئورکشا کے نام پر تشدد کرنے والوں کو سخت وارننگ دی اور کہا کہ ریاستی حکومتوں کو بھی ایسے لوگوں کے خلاف سخت قدم اٹھانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تشدد کو سیاسی فائدے کے لئے فرقہ وارانہ رنگ دے کر ملک کا بھلا نہیں کیا جا سکتا۔میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے نامہ نگاروں کو کل پارٹی میٹنگ کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے سخت لہجے میں کہا کہ ملک میں گئو رکشا کا جذبہ ہے لیکن اس کے نام پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومتوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ گئورکشا کے نام پر ہونے والے تشدد کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ مودی نے کہا کہ ریاستی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ گئورکشاکے نام پر تشدد پھیلانے والوں کو بخشا نہیں جانا چاہئے ۔ اس طرح کے واقعات سے قوم کا بھلا نہیں کیا جا سکتا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ گئورکشا کے نام پر بہت سے لوگ ذاتی دشمنی کی وجہ سے قانون ہاتھ میں لے کر خوفناک جرم کر رہے ہیں۔ جو لوگ اپنی دشمنی کی وجہ سے انتقام لینے کے لئے ایسے واقعات کو انجام دے رہے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ گائے کو ماں کہا جاتا ہے لیکن اس کے بہانے قانون ہاتھ میں لینے کا حق کسی کو نہیں ہے ۔ ملک کے مختلف حصوں میں گورکھشاکے نام پر آئے دن تشدد کی خبریں آرہی ہیں اور لوگوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کیا جا رہا ہے ۔ مودی نے اس سے پہلے بھی گورکشکو کو تشدد کاراستہ اختیار نہ کرنے کی صلاح دی تھی۔اجلاس کے بعد کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ آل پارٹی میٹنگ حکومت کی طرف سے بلائی گئی تھی۔ میٹنگ میں ہم نے کچھ مطالبہ کیا ہے۔ کشمیر پر ایوان میں بحث کے دوران پاکستان کے ساتھ چین کا بھی ذکر ہونا چاہیے۔آزاد نے کہا کہ حکومت الیمیشن کی پالیسی پر چل رہی ہے، اس پر ہم لوگ ساتھ نہیں ہے، گئو رکشا کے نام پر لوگ مارے جا رہے ہیں، خواتین کا تحفظ ایک مسئلہ ہے، مدھیہ پردیش سمیت ملک بھر میں کسانوں کی حالت پر بحث ہو گی۔ گجرات سمیت ملک بھر میں جی ایس ٹی کی وجہ سے ٹیکسٹائل ورکروں کے حالات خراب ہیں۔میٹنگ میںحزب اختلاف کے  جو قائدین  شریک ہوئے اُن میں کانگریس کے غلام نبی آزاد ، این سی پی کے شرد پوار، سی پی ائی ایم کے سیتا  رام یچوری، سماج وادی پارٹی کے ملایم سنگھ یادو، نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور سی پی آئی کے ڈی راجا شامل ہیں۔