کشمیر پالی تھین کے استعمال کی منڈی

سرینگر //قدرتی ماحول کیلئے تباہ کن پالی تھین اور پلاسٹک بیگز کی وادی کشمیر میں منڈی لگی ہوئی ہے اور یہاں دودھ سے لیکر کپڑے فروخت کرنے کے دوران بھی پالی تھین کا استعمال بے دریخ طریقے سے ببا نگ دہل کیا جارہا ہے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ اس پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے اس کے استعمال نہ کرنے پر بھی لاکھوں روپے خرچ کررہی ہے۔شہر سرینگر کے ہر چوراہے اور سڑک پر بڑی بڑی ہورڈنگ لگائی گئی ہیں جن پر عوام کو اسے استعمال نہ کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔کچھ ہورڈنگ پالی تھین کیخلاف مہم کے طور پر میوزیکل شو منعقد کرانے کیلئے بھی لگائی گئی ہیں جو 28اگست کو ہونے جارہا ہے۔بجائے اسکے کہ جموں کے اُن کارخانوں کو تالہ بند کیا جاتا جہاں جموں اور وادی کے آبی ذخائر کو زہر آلود بنانے کیلئے پالی تھین بنایا جاتا ہے اور جہاں جموں کشمیر  کے ماحولیات کو تباہ کرنے کیلئے چیزیں تیار کی جارہی ہیں، اسکے خلاف مہم پر بھی لاکھوں روپے صرف کئے جارہے ہیں۔بھارت اور دنیا کے کسی بھی صحت افزا مقام پر حتیٰ کہ کئی شہروں میں بھی پالی تھین کے استعمال پر مکمل پابندی ہے۔لیکن کشمیر جیسے سیاحوں کے مرکزمیں اسکی خرید و فروخت پر کوئی ممانعت نہیں ہے۔جموں کشمیر میں سابق حکومتوں کے سیاسی کارندوں نے پالی تھین بنانے والے نجی کارخانوں کیساتھ بندر بانٹ کی اور انہیں پالی تھین  کے لفافے بنانے کی کھلی چھوٹ دی جو ابتک جاری ہے۔
المیہ تو یہ ہے کہ جموں کشمیر کے حکام پالی تھین بنانے کیلئے 50مائکران  یا 125مائکران کی اجازت دے رہے ہیں، جو ایک منفرد فیصلہ ہے۔ممبئی میں 2009میں پالی تھین کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے اور وہاں کوئی 50یا 125 مائیکران کا سہارا نہیں لیا گیا ہے۔ممبئی میونسپل کارپوریشن نے سمندر کو بچانے کیلئے پالی تھین پر مکمل پابندی عائد کی  جو ابھی تک جاری ہے۔حتیٰ کہ جے پور، بنگلورو، مسوری، دھرم شالہ اور دلی میں بھی پالی تھین کے استعمال پر پابندی ہے جہاں اسکا استعمال نہ ہونے کے برابر ہورہا ہے۔ شمالی مشرقی ریاستوں میں پالی تھین کی فروخت پر بھی مکمل پابندی عائد ہے۔لیکن وادی کشمیر میں اسکے برعکس کام ہورہا ہے یہاں، سرکار کی طرف سے ہی پالی تھین بنانے کی ترغیب دی جارہی ہے جو تباہ کن ثابت ہورہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پالی تھین کی روک تھام کیلئے صرف اعلانات  یاہورڈنگ لگانا نیز میوزیکل پروگرام منعقد کرانا کافی نہیں بلکہ یہ وقت ضائع کرنے کے عین مترادف ہے۔ عملی طور پر ٹھوس اقدامات اور عوام کو اس کے نقصانات سے آگاہ کرنا بہت لازمی ہے اور اسکا واحد حل اس پر مکمل پابندی ہے۔میونسپل کارپوریشن سرینگر میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینگر میں روانہ350سے لیکر 400میٹرک ٹن کچرانکلتا ہے جس میں70میٹرک ٹن سے زیادہ پالی تھین ہوتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پالی تھین کا کاروبار اور استعمال کس قدر کاروبار کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ شہر میں ہر روز 70میٹرک ٹن پالی تھین ضائع کرنے کا کوئی سائنسی طریقہ کار نہیں ہے اور یہ سارا پالی تھین مختلف سیلوں میں ڈمپ ہوتا ہے۔یہ تو سرینگر کا حال ہے جہاں 14لاکھ کی آبادی والے شہر میں روزانہ 70میٹرک ٹن پالی تھین استعمال کیا جارہا ہے اور کم سے کم اس کا 60فیصد حصہ اچھن ڈمپنگ جگہ پر جمع کیا جارہا ہے جبکہ 10فیصد پالی تھین لفانے دریائے جہلم اور دیگر آبی ذخائر میں ڈالے جاتے ہیں۔لیکن وادی کے دیگر قصبوں، ضلع و تحصیل صدر مقامات پر اس طرح کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ وادی کے دیگر قصبوں میں پالی تھین لفافے ندی نالوں ، سڑکوں، گلی کوچوں میں پھینک دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وادی بھر کے پانے کے قدرتی آبی ذخائر زہر آلود بن گئے ہیں اور پانی کی سطح بھی کم ہورہی ہے۔ محکمہ پو لیوشن کنٹرول بورڈ میں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بات فہم و فراست سے پرے ہے کہ وادی میں پالی تھین کی اجازت کیونکر دی جارہی ہے ۔وادی میں دودھ و دہی سے لیکر پہننے والے کپڑوں کیلئے بھی پالی تھین کا استعمال کیا جارہا ہے۔کھانے پینے کی اشیاء، گوشت ، دودھ اور سبزی سمیت پالی تھین لفافوں میں فروخت کی جاتی ہے حتیٰ کہ ادوایات بھی دکانوں سے ان ہی لفانوں میں دی جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پالی تھین ضائع نہیں ہوتا اور یہ سو سال تک زمین میں رہ سکتا ہے ۔پالی تھین آبی ذخائر میں مل کر پانی کوزہر آلود بناتاہے۔
اس سے بنے بیگز شہروں میں نکاسی آب میں رکاوٹ کا سبب ہیں۔ پولیشن کنٹرول کمیٹی کے ریجنل ڈائریکٹر کشمیر رفیع احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وادی میں اس وقت کوئی بھی ایسا کارخانہ نہیں ہے جہاں پر پالی تھین تیار ہوتا ہو، اور جو بھی پالی تھین یہاں آتا ہے وہ باہر سے پہنچتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ میں عملہ کی کمی کے باوجود بھی اس کی روکتھام کیلئے کوشش کی جا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ 50مائکران سے کم پالی تھین پر جموں وکشمیر میں مکمل پابندی عائد ہے اور آنے والے کچھ دنوں میں حکام نے 125مائکران سے کم پالی تھین لفافوں پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں جو بھی غیر قانونی طور پر پالیتھین بنانے کے کارخانہ چل رہے تھے ان پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔کمشنر میونسپل کارپولیشن سرینگر اطہر عامر خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یوٹی حکام کا منصوبہ ہے کہ جموں وکشمیر کو پالیتھین سے پاک کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرینگر سے اس وقت قریب 200ٹن خشک کچڑا نکلتا ہے جس میں سے 50فیصد سے زیادہ پالی تھین ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پورے شہر میں اس کے خاتمہ کیلئے انٹی پولیتھین سکارڈ تشکیل دیئے گئے ہیں اور روزانہ کی بنیادوں پر اس کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے ۔کمشنر نے مزید کہا کہ مرکزی سرکار نے مستقبل میں منصوبہ بنایا ہے کہ پہلے 75میکران سے کم پالی تھین اور اس کے بعد 125مائکران  وزن سے کم پالی تھین پر مکمل پابندی عائد کرنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن نے ہر طرح کے پالی تھین پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور ایل جی حکام نے اس کو ایک مشن کا نام دیا ہے ۔