کشمیر میں 3429 وقف اثاثوں اور اراضی کی جی پی ایس نقشہ بندی مکمل

سرینگر// جموں وکشمیر میں وقف اراضی، عمارتوں اور دیگر اثاثوں کا جی پی ایس سروے اور میپنگ کا کام جاری ہے اور ابھی تک وادی کشمیر میں 3429 وقف اراضی اور دیگر اثاثوں کی جی پی ایس نقشہ بندی مکمل ہوچکی ہے اور اس عمل سے اب وقف اراضی پر غیر قانونی طور قبضہ جمانا بھاری پڑ سکتا ہے۔ وقف حکام نے غیر قانونی طور پر دکانوں ، املاک اور دیگر اثاثوں پر قبضہ کرنے والوں کو بری خبر سنائی ہے ۔ اب جس شخص کے پاس مکمل دستاویزات نہیں ہوں گے ،انہیں بے دخل کر دیا جائے گا ۔وقف عہدیداران کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کاغذات کی جانچ پرتال بھی چل رہی ہے ۔معلوم رہے کہ کئی سال قبل وقف سے لیز پر لئے گئے دکانوں ،کوارٹروں اور دیگر عمارات کے علاوہ اراضی پر اب بھی غیر قانونی قبضہ ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کئی سال قبل جن لوگوں نے 2یا 3سال کیلئے لیز پر وقف کی دکانیں یا دیگراملاک حاصل کئے تھے ،وہ دکانیں دوسروں کو  فروخت کی گئی ہیں، جبکہ کئی ایک وقف کے مکان اور عمارات بھی غیر قانونی طور پر قبضہ میں ہیں اور یہ قبضہ برسوں پہلے عوامی حکومتوں کے دور اقتدار میں کیا گیا، اور آج تک متعلقہ حکام قبضہ چھڑانے میں مکمل طور پر ناکام ہے ۔چیف ایگزیکٹو آفیسر وقف بورڈ مفتی فرید کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر قبضہ میں لی گئی املاک کو چھڑانے کیلئے 2ماہ قبل نوٹسیں جاری کیا گیاتھااور جو بھی غیر قانونی طور پر وقف کی املاک پر غیر قانونی طور قبض ہے اس کو وہاں سے بے دخل کیا جائے گا ۔ مفتی فرید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وقف ٹیم نے مکمل سروے کر کے جانکاری لی ہے اور اس کی مکمل چھان بین کی جارہی ہے تاکہ غیر قانونی طور پر قبضہ چھڑایا جاسکے ۔ جموں وکشمیر میں وقف اراضی ، عمارتوں اور دیگر املاک کا جی پی ایس سروے اور میپنگ کا کام ہورہا ہے۔ GPS یعنی ’گلوبل پوزیشنینگ سسٹم، جس کے ذریعہ وقف جائیدادوں کی تصویروں، وقف ملکیت کے نقشوں، وقف پراپرٹی کے اطراف کونسی عمارتیں، کونسی زمینیں موجود ہیں، وقف کی جائیدادیں کہاں کہاں ہیں، کس حال میں ہیں، اس طرح کئی ایک تفصیلات گھر بیٹھے حاصل کی جاسکتی ہیںاور اس کے تحت کوئی بھی شہری اب وقف کی بچی کچھی زمین پر قبضہ نہیں کر سکتا اور اگر قبضہ ہو بھی جاتا ہے تو ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی فوری طورپر عمل میں لائی جا ئے گی ۔محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وقف کے ملازمین اور عہدیداران کو یہ معلوم ہی نہیں کہ وقف اراضی کہاں کہاں پر ہے۔انہوں نے بتایا کہ سال 2017.18میں اس سکیم کا آغاز ہوا او ر اس کیلئے مکمل طور پر سینٹر وقف کونسل کی  WAMSI  یعنی ’وقفassets منیجمنٹ سسٹم آف انڈیا‘ ویب سائٹ شروع کی گئی جس سے اب آسانی سے کوئی بھی شہری ان اثاثوں کے بارے میں گھر بیٹھے جانکاری حاصل کر سکتا ہے۔ ۔وقف عہدیداران نے کہا کہ اب تک وادی میں 3453وقف کے اثاثوں ،زیارت گاہوں، اور دیگر مذہبی مقاما ت میں سے 3429کو جی پی ایس سسٹم میں لایا گیا ہے۔معلوم رہے کہ اننت ناگ میں وقف کے پاس اثاثوں کی کل تعداد 278ہے جبکہ بارہمولہ میں 555، بڈگام میں 217، بانڈی پورہ میں 20، گاندربل میں 27، کپوارہ میں 10، پلوامہ میں 188اور شہر سرینگر میں 2168ہے۔ان میں سے 3429 جائیدادوں کی جی پی ایس نقشہ بندی مکمل ہوچکی ہے ۔اس کا فائدہ اتنا ہے کہ وقف کی زمینوں پر ہونے والی غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی بھی فوری طور پر کی جاسکتی ہے۔