کشمیر میں ہانگل کی سر شماری کاعمل مکمل

 سری نگر//وادی میں شہرہ آفاق جانور’’ہانگل‘‘کی تعدادمیں گزشتہ کئی برسوں سے معمولی اضافہ ہواہے۔ رواں برس کے اپریل مہینے کی3تاریخ سے 10تاریخ تک کی گئی ایک سروے ،جوداچھی گام کی جنگلی حیات کی پناہ اور اس کے گردونواح میں کیاگیا،سے معلوم ہوا ہے کہ ہانگل کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔سرشماری سے پتہ چلا ہے کہ اس وقت وادی میں تقریباً260ہانگل ہیں کو2019 میں237 تھے۔  یہ جانور داچھی گام نیشنل پارک میں پائے جاتے ہیں اور اپنے شاخوں والے سینگوں کے لئے مشہور ہیں۔اگرچہ سر شماری کی رپورٹ کو ابھی منظر عام نہیں کیا گیا ہے تاہم محکمہ جنگلی حیات کے ایک سینئر آفیسر نے ایک نجی نیوز چینل کوبتایا کہ ہانگل کی سر شماری کے نتائج جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔ خوشخبری کی بات یہ ہے کہ ان جانوروں کی آبادی میں8 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مردم شماری ٹرانسکرپٹ طریقے سے اپریل کے مہینے میں کی گئی تھی۔بتادیں کہ ٹرانسکرپٹ یعنی نقل طریقے کی مردم شماری کے دوران جانوروں کی گنتی ایک مقررہ رفتار اور مقررہ وقت کے دوران گاڑی میں سفر کرکے کی جاتی ہے۔ ہانگل کا شمارنایاب ہورہے دوچار جانوروں میں کیا جاتا ہے۔ ان کی آبادی جہاں انیسویں صدی کے اولین میں 5 ہزار سے زائد تھی تاہم اب یہ جانور صرف داچھی گام نیشنل پارک کے 141 مربع کلومیٹر علاقہ تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہانگل کی آبادی میں نمایاں گراوٹ کی وجہ ان کے قدرتی ماحول جہاں وہ رہتے ہیں،کے علاقہ میں چھیڑ چھاڑ، شکار اور  صنفی تناسب (سیکس ریشو) کابگڑنا ہے۔ ماہرین نے ان جانوروں کی آبادی میں کمی کی وجہ سمجھنے کے لیے سائنسی طریقوں کے استعمال پر زور دیا ہے۔اس حولے سے بات کرتے ہوئے محکمے وائلڈ لائف کے افسر کا کہنا تھا کہ2017 میں ہمیں ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ ہانگل کے گلے میں سیٹلائٹ کالر لگایا گیا تھا جس سے اْن کے بارے میں کافی اہم جانکاری حاصل ہوئی تھی۔ جس کے بعد ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے گئے۔اْن کا مزید کہنا تھا کہ پروجیکٹ ٹائیگر کے طرز پر پروجیکٹ ہانگل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔