کشمیر میں ڈینگو متاثرین کی تعداد 21

سرینگر //شمالی و جنوب اور وسطی کشمیر میں تمام سرکاری اسپتالوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ممکنہ ڈینگی وائرس سے نپٹنے کیلئے اسپتالوں میں 5سے 10بیڈ مخصوص رکھیں جبکہ ڈینگی مریضوں کو علاج و معالجہ فراہم کرنے کیلئے طبی عملہ کو تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ادھر بیرون ریاستوں سے کشمیر آنے والے ڈینگی مریضوں کی تعداد 21تک پہنچ گئی ہے۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر مشتاق احمد راتھر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ بیرون ریاستوں سے کشمیر آنے والے ڈینگی وائرس سے متاثر افراد کی تعداد 21ہوگئی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ان ڈینگی وائرس کے پھیلائو کیلئے تین چیزیں جن میں ڈینگو پھیلانے والے مکوڑے، میزبان اور ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں نہ تو ڈینگو پھیلانے والے مکوڑے اور نہ ہی ماحول ہوتا ہے۔ ناظم صحت نے کہا کہ اسکے بائوجود بھی ہم نے تمام احتیاطی تدابیر اٹھائے ہیں ،جن میں ڈینگو سے نپٹنے کیلئے صوبائی اور ضلع سطح پر ٹاسک فورسوں کا قیام، علاج کیلئے قواعد و ضوابط کا اعلان،نجی لیبارٹریوں سے تشخیص کیلئے معاہدے،جنوب و شمال کے اسپتالوں میں 5سے 10بستروں کا قیام اورتعیناتی کیلئے خصوصی عملہ کی تربیت شامل ہے۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے کہا کہ ڈویژنل کنٹرول روم میں جمعہ کو مختلف علاقوں سے بلائے گئے طبی و نیم طبی عملہ کو تربیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ مقامی سطح پر ڈینگی وائرس سے کوئی بھی شخص متاثر نہیں ہوا لیکن اس کے بائوجود بھی احتیاطی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے کہا کہ چیف سیکریٹری نے بھی اس حوالے سے ایک میٹنگ کا انعقاد کیا ہے جس میں انتظامات کو حتمی شکل دی گئی۔