کشمیر میں پھلوں کی صنعت ! سانس لینے کے لیے ہانپ رہی ہے

پیر محمد عامر قریشی

جموں و کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں کے بیشتر لوگوں کے لئے زراعت ایک اہم اقتصادی ذریعہ ہے۔ زراعت جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کے مترادف ہے۔ یہ 64 فیصد آبادی کو بلواسطہ یا بلاواسطہ روزگار فراہم کرتا ہے۔ کشمیر کے پھل خصوصاً سیب ،آڈو،آلو بخار،چری گلاس ،اخروٹ اورزعفران ملک بھر میں مشہور ہیں۔سیب اور اخروٹ کی وادی میں اچھی خاصی پیداوار ہوتی ہے، لیکن سال بہ سال ان پھلوں سے وابستہ مالکان باغات ،کاشت کار اور دوسرے لوگ کسی نہ کسی طرح کےمشکلات کا شکار ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ کشمیر میں سیب اور اخروٹ کی بہترکوالٹی ہونے کے باوجود ملک کے شہروں میں ایرانی اور ترک سیب اور کیلیفورنیا کے اخروٹ کی زیادہ کھپت سے کشمیری سیب اور اخروٹ کی مانگ اور ان کی قیمتوں میں کمی ہورہی ہیں۔ ملک بھر کی منڈیوں میں کشمیری سیب اور اخروٹ کی مانگ اور قیمتیں کم ہونے سےکشمیری فروٹ انڈسٹری اپنی بقا کے لئے ہانپ رہی ہے۔ پھل باغات کے مالکان اوراس سے وابستہ کاشتکار وں کی پریشانیوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتارہتا ہے ، مزدوری کی شرح، ٹرانسپورٹیشن چارجز اور قیمتوں کی وجہ سے انہیں بھاری نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے۔اس پر ستم کہ گتّے اور لکڑی کے ڈبوں کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں،لیکن فی ڈبہ سیب کی قیمت آج بھی وہی ہے جو پانچ چھ سال پہلے تھی۔ یہ مصیبت یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ سیبوں سے لدے ٹرک سرینگر جموں قومی شاہراہ پر چار چار ،پانچ پانچ چار دن رُکے پڑنے سے سیب گل سڑ جاتے ہیں ۔جس کا سارا خمیازہ اُن مالکان باغات و کاشتکاروں اور بیوپاریوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے، جنہوں نے بینکوں سے قرضہ لیا ہوتا ہے۔ سری نگر جموں شاہراہ پر پھلوں سے بھرے ٹرکوں کے درماندہ رہنے کے نتیجے میں ستمبر کے مہینے میں سیب کی صنعت کو تقریباً 500 کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا ہے، خریدار ایسوسی ایشن فروٹ منڈی سوپور کے صدر مدثر احمد بھٹ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سیب کی صنعت کا حجم تقریباً 6,000 کروڑ روپے کاہے۔گذشتہ ماہ سرینگر جموں شاہر اہ پر وقفہ وقفہ کے بعد گذر گاہ بند رہنے سے بھی بڑے پیمانے
ٹرکوں میں بھرے سیبوں کا ذخیرہ گل سڑ کر تباہ ہوگیا،جس پرجموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پھلوں کے ٹرک ڈرائیوروں کے ساتھ مل کر سری نگر جموں قومی شاہراہ کو بند کر دیں گی، اگر اُن کی گاڑیوں کو گزرنے کے لئے راہ ہموار نہیں کی جاتی۔ کیونکہ پھلوں کی تجارت کرنے والوں نے جہاں بنکوں سے قرضہ لیا ہے وہیں دہلی کی منڈیوں سے پیسے لئےہوتے ہیں۔وہ رقومات وہ کیسے ادا کرسکیں گے؟انہوںنے موجودہ یو ٹی سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری پھلوں سے بھرےرُکے پڑے ٹرکوں کے لئے گذر گاہ کھول دے تاکہ پھلوں کے تاجران سمیت ٹرانسپورٹرز بھی معاشی بدحالی سے بچ جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں عسکریت پسندی ختم ہو چکی ہے، لیکن حکومت ہند کشمیری عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے مناسب راہیں ہموار نہیں کررہی ہے۔بلکہ اس طرح کی عدم دلچسپی سے انہیں مزید بدحال بنارہی ہے۔ سوپور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص غلام محمد ہے کا کہنا ہےکہ فروٹ صنعت میں مسلسل نقصانات اٹھانے کی وجہ سے اُس نے اپنے پانچ کنال کی اراضی پر محیط سیب باغ کے تمام درخت کاٹ دئیے ہیں، جس پر انہوں نے تقریباً 20 سال صرف کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے بھاری نقصان اٹھا رہے ہیں کیونکہ سیب کے باغات کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ہر ممکن کوششوں کے باوجو داُنہیں کچھ حاصل نہیں ہوسکا ہے۔ مزید یہ کہ اخروٹ کی صنعت بھی ہندوستانی منڈیوں میں کیلیفورنیا کے اخروٹ کی دخل اندازی کے بعد بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کشمیر میں اخروٹ کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ یہ مقامی طور پر وونتھ، کاغذی اور برزول کہلاتے ہیں۔ ونٹھ ٹوٹنے میں سخت ہوتا ہےجو زیادہ تر مقامی طور پر فروخت ہوتا ہے اور اسے تیل کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کاغذی ایک بڑے سائز کا اخروٹ ہے جس کا بیرونی خول پتلا ہوتا ہے۔برزول درمیانے سائز کی قسم ہے اور اعلیٰ معیار کا اخروٹ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں 2021-22میں 2.82 لاکھ ٹن اخروٹ کی پیداوارہوئی ،جس میں J&K کا حصہ تقریباً 92 فیصد ہے۔ کشمیر میںاننت ناگ اور کپواڑہ ضلعے اخروٹ پیدا کرنے والوں میں سرفہرست ہیں۔ لیکن اب اس کی پیداوار بھی دن بہ دن سکڑ تی جارہی ہے۔ سکڑنے کی وجوہات میں سائنسی مدخلت کی عدم موجودگی، گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کا نفاذ، موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی اور ملک کے بڑے بڑے شہروں میں کیلیفورنیا کے اخروٹ کی بڑے پیمانے پر دستیابی ہے۔ واضح رہےکہ اخروٹ کے درخت سے پہلی فصل حاصل کرنے کے لیے 15 سال سے زائد طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔اخروٹ کی پیداوار کے عمل کا یہ دورانیہ بھی اسکی پیداوار میں کمی کا ایک اہم عنصر ہے۔ اس ساری صور حال کو مدنظر رکھ کر حکومت پر لازم ہےکہ وہ اعلیٰ قسم کے اخروٹ اور سیب کے درخت متعارف کروا کر اخروٹ اور سیب کی صنعتوں کو بچانے کے لیے اقدامات کریں۔ کسانوں کو سبسڈی کی بنیاد پر معیاری سازوسامان فراہم کیے جائیں اور زرعی تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کے ذریعے تربیتی کیمپ لگائے جائیں۔ مٹی کی جانچ بھی کرائی جائے تاکہ ضرورت کے مطابق قابل عمل پھل یا فصل متعارف کروائی جائے۔ ہر اُس ضلع سے جہاں پھلوں کی پیداوار ہوتی ہے ، سے پھلوں کو بغیر کسی رُکاوٹ کے دوسری ریاستوں تک پہنچا نے کی گذر گاہ مہیا کی جائے۔ تاکہ منڈیوں اور قومی شاہراہوں پر پھل سڑ نہ جائیں۔ متنوع برآمدات پر مبنی حکمت عملی، زمینی قوانین کسانوں کے حق میں متعارف کرائے جائیں۔ پی ایم کسان یوجینا جیسی مزید اسکیمیں متعارف کرایا جائے جس سے زرعی سرگرمیوںمیں مصروف لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ حکومت کو ڈوبتی ہوئی پھلوں اور اخروٹ کی صنعت کو بچانے کے لیے مختلف اقسام اور اعلیٰ معیار کے پیوند شدہ پودے لگا کر کشمیر کی شان کو بچانے کی ضرورت ہے جو کہ لوگوں کی روزی روٹی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
(کالم نگار مصنف JKIFTS کالمسٹ کونسل کے آفیشل ممبر ہیں۔ زولوجی میں ایم ایس سی کر رہے ہیں(
[email protected]