کشمیر میں نوجوان کُش پالیسیاں جاری: شمیمہ فردوس

سرینگر//نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے تئیں گذشتہ 5سال سے روا رکھی جارہی پالیسی  تشویشناک اور افسوسناک ہے۔ پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میںاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شمیمہ فردوس نے کہا ہے کہ ہر طرف سے نظر انداز اور ہر طرح سے پشت بہ دیوار کئے جانے سے کشمیری نوجوانوں کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ درخواستیں اور فارم جمع کرنے میںروزگار کے متلاشی نوجوانوں کی عمر کی حد پار کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ گذشتہ برسوں سے بھرتی ایجنسیاں بیکار ہوگئیں ہیں، وقت پر امتحانات اور انٹرویو نہیں لئے جارہے ہیں، جو امتحانات لئے جاتے ہیں اُن کے نتائج آنے میں برسوں لگ جاتے ہیں اور اگر خدانخواستہ نتائج آ بھی جاتے ہیں تو پھر عدالتوں میں زیر التوا رہتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ حکومتی سطح پر اُمیدواروں کو راحت پہنچانے اور بھرتی عمل میں سرعت لانے کیلئے ذرا سی بھی سنجیدگی نہیں دکھائی جارہی ہے۔ شمیمہ فردوس نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہKASجیسے بڑے امتحانات بھی متاثر ہوئے بنا نہیں رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سابق پی ڈی پی۔ بھاجپا مخلوط حکومت نے جہاں ہر ایک شعبہ سیاست کی نذر کردیا تھا وہیں گورنر انتظامیہ سے لوگوں نے اُمیدیں باندھ رکھیں تھیں لیکن گورنر انتظامیہ سے بھی اُمیدیں بھر نہ آئیں۔ شمیمہ فردوس نے کہا کہ بے روزگاری اور تاریک مستقبل یہاں کے نوجوانوں میں دہنی تنائو کا سبب بن رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی پود منشیات کی طرف راغب ہورہے ہیںاور لڑکیاں بھی اس ذہنی تنائو سے نہیں بچ پائی ہیں،ان میں خودکشی کا رجحان بڑھ گیا ہے جبکہ روزگار کی آس لگائے لڑکیوں کی نوکریوں اور شادیوں کیلئے عمر نکل رہی ہے۔شمیمہ فردوس نے کہا کہ عمر عبداللہ کی سربراہی والی سابق نیشنل کانفرنس حکومت کے دوران بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے نہ صرف سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئیں بلکہ حمایت، اڑان اور شیر کشمیر روزگار پالیسی جیسی سکیموں کے ذریعے نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے کی کوششیں کی گئیں۔ شمیمہ فردوس نے ریاست کے گورنر شری ستیہ پال ملک سے اپیل کی کہ وہ بھرتی ایجنسیوں کو متحرک کرنے کیلئے ذاتی دلچسپی لینے کے علاوہ سابق نیشنل کانفرنس حکومت میں نوجوانوں کی فلاحی سکیموں کو دوبارہ بحال کریں خصوصاً بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ مشاہرہ فراہم کیا جائے اور اس میں لڑکیوں کیلئے الگ سے کوٹا رکھا جائے۔