کشمیر میں منشیات کا چلن عام کیوں؟

اگرچہ بادشاہ جہانگیر نے کشمیر کے حوالے سے لکھا تھاکہ  ؎
گر فردوس بروئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
 مگر اس جنت میں رہنے والے لوگ بھی کئی امراض میں آئے دن مبتلا ہو رہے ہیں۔پھر چاہے وہ ''دل کے امراض'' ہوں یا ''پھیپھڑوں کے امراض'' ۔ان مہلک بیماریوں کا تعلق براہ راست منشیات اور نشیلی ادویات سے ہے۔ یہ بات کافی دکھ کے ساتھ کہناپڑر ہی ہے کہ منشیات کے کاروبار اور استعمال کرنے میں نہ صرف ہمارے بزرگ لوگ ملوث ہیں بلکہ اس میں وادی کشمیر کا نوجوان طبقہ بھی شامل ہے۔
آئے دن اگرچہ منشیات کے نقصانات کے حوالے سے مختلف مجالس اور پروگراموں کا انعقاد کیا جارہا ہے مگر زمینی سطح پر اس کا کوئی خاص اثر دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے بلکہ ہمارے سماج کی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ جو لوگ منشیات کے نقصانات کے حوالے سے مجالس کا انعقاد کرتے ہیں،ان میں بھی کافی لوگوں کو نشیلی ادویات اور منشیات کے جال نے خودگھیر لیا ہے پھر چاہے وہ ہمارے مذہبی رہنما ہو یا سیاسی لیڈران۔
اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ قوم کا مستقبل نوجوانوں کے کندھوں پہ ہے لیکن اگر وادی کشمیر کے نوجوان اسی طرح سے ان چیزوں کا کاروبار اور استعمال کرتے رہے، تو پھر وہ دن دور نہیں جب ہمیں ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح نوجوانوں کو گلی اور کوچوں سے بے ہوشی کی حالت میں اٹھانا پڑ رہا ہوگا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے قوم کے والدین حضرات بھی بلاجھجک اپنے نونہالوں کے سامنے نشیلی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے کافی حد تک ہمارے نونہال بھی نشیلی چیزوں کی طرف راغب ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔بقول شاعر ؎
 سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
اگر منشیات کے کاروبار اور استعمال کرنے کی بات کی جائے تو یہاں پہ صرف بات مرد حضرات پر ختم نہیں ہوتی ہے، بلکہ یہ بات بھی میرے ذہن کو اندر ہی اندر پریشان کرتی جا رہی ہے کہ اب ان بیہودہ اور فضول کاموں میں ہمارے سماج کی خواتین بھی شامل ہیں۔کچھ دن پہلے ہی سوشل میڈیا کے ذریعے ایک خبر گردش کر رہی تھیں جس میں یہ لکھا تھا کہ ''کچھ کشمیری خواتین سے پولیس نے منشیات برآمد کی۔''کیا یہ بات غور و فکر کرنے کے لائق نہیں ہے۔ ایک ایسی ماں یا ایک ایسی بہن جو خود منشیات کے کاروبار سے جڑی ہو، وہ اپنے بچوں کو کیا صحبت دے گی، اس کے ہاتھوں تو ہمارے قوم کے نونہال تباہ و برباد ہو جائیں گے۔
اب اگر ہمارے حکمرانوں کی طرف رخ کریں تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ منشیات کے کاروبار اور استعمال میں اکثر سیاستدان اور حکمران بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ جڑے ہوتے ہیں۔وہ اسی لئے جہاں ہمارے حکمرانوں کو منشیات تیار کرنے والی کمپنیوںاور فیکٹریوں پر پابندی عائد کرنی چاہیے تھی، وہاں ہمارے اعلی افسران دوکاندار حضرات سے نشیلی چیزوں کو فروخت کرنے پر جرمانہ وصول کر رہے ہیں۔
 یہاں میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ منشیات کے کاروبار کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ میرا اصل مقصد یہ ہے کہ حکمرانوں کو منشیات تیار کرنے والی کمپنیز اور فیکٹریز پر پابندی عائد کرنی چاہیے تاکہ جب جڑ ختم ہو تو شاخیں خود بخود ختم ہوگی۔
اب آتے ہیں ہمارے سماج کے اس طبقے کی طرف جن میں اکثر لوگ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کا ہر وقت سوچتے رہتے ہیں۔ پھر چاہے کیوں نہ وہ منافع حرام کا ہی ہو اور ہمارا سماج اس منافع سے تباہ و برباد کیوں نہ ہوتا جا رہا ہو۔جی ہاں! بات دوکاندار حضرات کی ہو رہی ہے جو منشیات کے کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔ چاہے بات سگریٹ کی ہویا تمباکو کی، دونوں ہی ان کے پاس 24 گھنٹے دستیاب ہوتے ہیں۔ شاید ہمارے دکاندار حضرات اس بات کو بھول چکے ہیں کہ ہمارے پیغمبر جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نشہ کاکاروبار کرنے والوں پر لعنت کی ہے اور اس کاروبار کو حرام قرار دیا ہے۔
اب آخر میں قوم کے ہر ایک فرد کے ساتھ ساتھ اس طبقے سے یہی گزارش رہے گی کہ برائے مہربانی ہوش میں آ کر ان بے ہودہ اور فضول چیزوں کے استعمال اور کاروبار دونوں سے پرہیز کریں اور باقی لوگوں کو بھی پرہیز کرنے کی تلقین کریں تاکہ ہماری صحت اور اخلاق دونوں ہی منشیات کے مضر اور برے اثرات سے محفوظ رہیں اور آنے والے وقت میں دنیا ہمیں صحت مند و بااخلاق اقوام کے ساتھ شمار کرے۔
پتہ۔ گوئیگام کنزر، بارہمولہ کشمیر
فون نمبر۔ 8803250765