کشمیر میں سحری کے وقت ڈھول بجا کر لوگوں کو جگانے کی روایت برابر جاری

سری نگر// عصر حاضر میں جدید ترین ٹیکنالوجی جیسے موبائل فون، لائوڈ اسپیکر، ڈیجیٹل الارم وغیرہ جیسی سہولیات کے باوجود بھی وادی کشمیر میں لوگوں کو ماہ رمضان میں سحری کے لئے ڈھول بجا کر اٹھانے کی روایت نہ صرف برابر برقرار ہے بلکہ مذکورہ تمام ترسہولیات سے بہر ور ہونے کے باوجود بھی مسجد کمیٹیاں یا محلہ کمیٹیاں 'سحر خوانوں' کا بندوبست کرتی ہیں۔
 
وادی کے شہر و دیہات میں ماہ رمضان کے دوران سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کے لئے ڈھول بجایا جاتا ہے اور ڈھول بجانے والے کو 'سحر خوان' کہا جاتا ہے جو رات کے سناٹے اور گھپ اندھیرے میں جان بکف اپنے مقررہ علاقے میں گلی گلی گھومتے ہوئے ڈھول بجا کر اور 'وقت سحر' کی آوازیں دے کر لوگوں کو جگاتا ہے۔
 
سرحدی ضلع کپوارہ کے کلاروس علاقے سے تعلق رکھنے والا 23 سالہ محمد شکور شہر سری نگر کے نور باغ، صفا کدل و ملحقہ علاقوں کے لوگوں کے لئے سحری کے وقت ڈھول بجا کر جگانے کی خدمت گذشتہ چھ برسوں سے مسلسل انجام دے رہا ہے۔
 
موصوف سحر خوان نے یو این آئی کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ میں گذشتہ چھ برسوں سے یہاں یہ کام انجام دے رہا ہوں اور مذکورہ علاقوں کی گلی کوچوں میں جا کر لوگوں کو سحری کے لئے بیدار کرتا ہوں۔
 
انہوں نے کہا: ’میرے ساتھ میرا دوسرا ساتھی راجا امتیاز بھی ہوتا ہے جس کے ہاتھوں میں ڈنڈا ہوتا ہے تاکہ وہ سڑکوں پر موجود آوارہ کتوں کے حملوں سے بچانے میں کام آئے‘۔
 
ان کا کہنا تھا: ’قبل ازیں میں ایک بجے رات کو ہی نکتا تھا اور لوگوں کو اٹھاتا تھا لیکن امسال چونکہ ماہ رمضان ماہ اپریل میں آیا جس کی وجہ سے وقت بدل گیا اور میں اب تین بجے رات کو نکل کر لوگوں کو سحری کے لئے اٹھاتا ہوں‘۔
 
محمد مشکور نے کہا کہ میں یہ کام صرف ثواب حاصل کرنے کے مقصد سے ہی انجام دیتا ہوں۔
 
انہوں نے کہا: ’لیکن لوگ ہدیہ بھی دیتے ہیں جس کا میں کوئی مطالبہ نہیں کرتا ہوں وہ اپنی خوشی سے دیتے ہیں اور اس ہدیے سے میری گھریلو ضروریات پوری ہوجاتی ہیں'۔
 
ان کا کہنا تھا: 'لوگ مجھے دیکھ کرخوش ہوجاتے ہیں اور میری عزت بھی کرتے ہیں'۔
 
موصوف سحر خوان نے کہا کہ یہ کام انجام دینے سے مجھے کافی سکون ملتا ہے اور میں خود بھی وقت پر عبادات انجام دے پا رہا ہوں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ میں سال کے باقی گیارہ ماہ گھریلو کام کرتا ہوں لیکن میں نے یہ ایک ماہ اسی کار ثواب کی انجام دہی کے لئے مخصوص رکھا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ پہلے میرا بڑا بھائی یہ کام کرتا تھا اور میں اس کے ساتھ آیا کرتا تھا اور اب میں خود یہ کام کرتا ہوں۔
 
دریں اثنا محمد اشرف نامی ایک نوجوان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں سحر خوان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ آج ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے اور وہ ان پر الارم رکھ کر آسانی سے سحری کے وقت اٹھ سکتے ہیں۔
 
تاہم وادی کے بزرگ لوگوں کا کہنا ہے کہ سحر خوان کا سحری کے وقت لوگوں کو اٹھانا اب ہماری شاندار ثقافت کا ایک حصہ بن گیا ہے جو ہر حال میں جاری رہنا چاہئے۔
 
خورشید احمد نامی ایک شہری نے کہا کہ سحر خوانوں کی طرف سے ڈھول بجا کر جگانے میں کچھ الگ ہی لطف ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ یہ روایت اب ہمارے معاشرے کا ایک حصہ بن گئی ہے جس کو برقرار رکھا جانا چاہئے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ سحر کے وقت ڈھول بجنے کی آواز سنتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا سحری کے متبرک ترین وقت پر بیدار ہو رہی ہے۔
 
موصوف شہری نے کہا کہ اس سے میری بچپن کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں اور آج بھی بچے سحری کے وقت ڈھول کی آوازیں سن کر خوش بھی ہوجاتے ہیں اور تر تازہ بھی ہوجاتے ہیں۔