کشمیر میں رک رک کر برف وباراں کا سلسلہ جاری| 9 فروری تک موسم خراب رہنے کی پیش گوئی

سری نگر// محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق وادی کشمیر میں وقفے وقفے سے برف و باراں کا سلسلہ جاری ہے اور وادی کے مشہور ترین سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میں بالترتیب 5.5 سینٹی میٹر اور 4.5 سینٹی میٹر تازہ برف جمع ہوئی ہے۔
 
ادھر متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان کے مطابق جموں وکشمیر میں 9 فروری تک موسم کی صورتحال جوں کی توں رہنے کا امکان ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ اس دوران وادی کے میدانی علاقوں میں بارشیں جبکہ بالائی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکے درجے کی برف باری متوقع ہے۔
 
گرمائی دارلحکومت سری نگر جہاں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے0.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت 2.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ شب 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
سری نگر میں 18 دسمبر کو رواں موسم کی سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی6.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ جہاں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 5.5 سینٹی میٹر تازہ برف جمع ہوئی ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ شب منفی7.5 سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام جہاں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 4.5 سینٹی میٹر تازہ برف جمع ہوئی ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی0.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ شب منفی3.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
سرحدی ضلع کپوارہ جہاں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 6.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت 0.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ شب 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کم سے کم درجہ حرارت 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی11.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ضلع کرگل میں منفی12.5 ڈگری سینٹی گریڈ اور قصبہ دراس جو سائبیریا کے بعد دنیا کا دوسرا سرد ترین علاقہ ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی10.9 ڈگری سینٹی گریڈ رریکارڈ ہوا ہے۔
 
دریں اثنا وادی کے میدانی علاقوں میں پیر کے روز رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔
 
وادی میں بیس روزہ چلہ خورد تخت نشین ہے جس کا دور اقتدار بیس فروری کو ختم ہوگا اگرچہ اس چلہ کے دوران بھاری برف باری کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے تاہم اس کے دوران ہونے والی برف زمین پر زیادہ دیر تک جمع نہیں رہ سکتی ہے اور درجہ حرارت میں بھی بتدریج بہتری ہی واقع ہوتی ہے۔