کشمیر میں روایتی باغبانی تبدیل| ہا لینڈ اور اٹلی کے اعلیٰ معیار کے پودے لگانے کا عمل جاری

سرینگر //ہا لینڈ اور اٹلی کے بعد اب محکمہ باغبانی مستقبل قریب میں واشنگٹن سے اعلیٰ معیار کے پودے خریدے گا اور فی الوقت وادی میں 5ہزار کنال اراضی پر مختلف اقسام کے اعلیٰ معیار یعنی ہائی ڈنسٹی کے پودے لگائے گئے ہیںاور2026تک مزید ساڑھے 5ہزار کنال ارضی پراعلیٰ معیار کے پودے لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ محکمہ باغبانی، جموں کشمیر کو ہائی ڈنیسٹی باغات میں تبدیل کر رہا ہے جبکہ بیشتر باغ مالکان نے روایتی باغبانی سے ہٹ کر اب اعلیٰ معیار کے پودے لگانا شروع کر دیئے ہیں ۔وادی میں ان دنوں ہائی ڈینسٹی سیب کے مختلف اقسام تیار ہیں اور باغ مالکان ان درختوں سے اپنی پیداوار اُتارنے میں مصروف ہیں۔پچھلے کچھ برسوں سے باغ مالکان کو اس کی اچھی خاصی آمدنی بھی ہوئی ہے۔ معلوم رہے کہ محکمہ باغبانی جموں وکشمیر کی معیشت میں ریڈ کی ہڈی مانا جاتا ہے اور کشمیر میں 7لاکھ کنبوں کے 33لاکھ افراد اس شعبہ کے ساتھ بلواسطہ یا بلا واسطہ منسلک ہو کر روزگار کماتے ہیں۔
باغ مالکان کو ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن کی جانب راغب کرنے کے لیے زرعی یونیورسٹی اور محکمہ ہارٹیکلچر کسانوں کو جانکاری دینے کے ساتھ ساتھ کئی اسکیمیں چلا رہا ہے ، تاکہ کاشتکار اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔وادی میں سب سے پہلے ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن کو 2015-2016 میں جنوبی کشمیر میں متعارف کرایاگیا اور اس کے بعد وادی کے مختلف علاقوں میں میوہ کاشتکار اس جانب راغب ہوئے اور حکومت کی مدد سے اب تک کئی ہیکٹئر اراضی پر اعلیٰ کثافت والے یا ہائی ڈینسٹی سیب کے باغات لگائے گئے ہیں۔ان پودوں کو درآمد کرکے زرعی یونیورسٹی اور محکمہ باغبانی نے پیوند کاری کرکے انہیں نہ صرف کسانوں میں تقسیم کیا ، بلکہ ان پودوں کے رکھ رکھائو کی خاطر ماہرانا مشورے بھی فراہم کئے۔ کاشتکاروں کو یہ باغات لگانے کیلئے حکومت کی جانب سے پچاس فیصد سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ جبکہ جموں و کشمیر بینک کی ایک اسکیم کے تحت کاشتکاروں کو آسان شرحوں پر رقوم بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن کے لگ بھگ چار ہزار پودے ایک ہیکٹئر اراضی میں لگائے جاسکتے ہیں ، جبکہ روایتی کاشتکاری کے تحت صرف دو سو پچاس پودے ہی ایک ہیکٹر میں لگ سکتے ہیں۔ درآمد کئے گئے اعلیٰ اقسام کے ان سیب کے درختوں میں ریڈ ویلاکس ، گالا ، ریڈ چیف ، اور سپر چیف قابل ذکر ہیں جن سے کاشتکاروں کی مالی حالت میں کافی حد تک بہتری بتائی جا رہی ہے ۔
محکمہ باغبانی کے ڈائریکٹر جنرل اعجاز احمد بٹ کا کہنا ہے کہ گذشتہ اڑھائی برسوں کے دوران محکمہ نے 5ہزار کنال اراضی پرمختلف اقسام کے اعلیٰ معیار کیسیب کے درخت لگائے ہیں جبکہ 2026تک مزید ساڑھے پانچ ہزار کنال اراضی پر باغات اُگائے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ زینہ پورہ شوپیان، کھنمو ہ سرینگر سمیت دیگر اضلاع میں محکمہ نے 12لاکھ پودے کے بیچ لگائے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی تک اُتنے پودے تیار نہیں ہوئے ہیں، جنہیں ہر جگہ تقسیم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک واشنگٹن سے بھی اب پودوں کو خریدا جائے گا کیونکہ محکمہ کے ماہرین یہاں کی جغرافائی حالات کو دیکھتے ہوئے موزون میوہ کے پودوں کو یہاں اُگا رہے ہیں تاہم ابھی تک زیادہ تر پودے اٹلی اور ہا لینڈ سے ہی منگوائے جارہے ہیںا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نے اس کیلئے نرسری ڈیولیمنٹ سکیم بنائی ہے اور اس سکیم کے تحت آنے والے وقت میں لوگوں کو محکمہ کے باغات سے ہی اعلیٰ معیار کے پودے دئیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کے پاس 2لاکھ میٹرک ٹن سیب کو ذخیرہ کرنے کیلئے کولڈ سٹور موجود ہیں اور اچھی قیمت ملنے تک کسان سیب کو ان میںجمع رکھ سکتے ہیں ۔