کشمیر میں جنگی صورتحال کس نے پیدا کی؟

سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی نے مرکزی حکومت اور ریاست میںگورنرانتظامیہ سے پوچھا ہے کہ وہ واضح کریں کہ ریاست میں ہنگامی اقدامات کاسلسلہ کشمیراوراس کے شہریوں کیخلاف جنگ کاپیش خیمہ ہے۔ایک بیان میں سینئرپی ڈی پی لیڈراورسابق وزیرنعیم اختر نے کہا کہ جموں کشمیراس وقت غیرمحفوظ ہاتھوں میں ہے اور اس نازک صورتحال میں جب کشمیر میںپلوامہ میں ہوئی بھاری ہلاکتوں اور اس کے ملک پر اثرات کے بعد حالات ٹھیک ہونے جارہے ہیں ،توجموں کشمیر کوغیرمستحکم کرنے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے۔نعیم اختر نے کہا کہ یہ کوئی تغلقی فرمان نہیں ہوسکتا۔یہ جموں کشمیر کے لوگوں کو ذہنی طور غیرمستحکم اورریاست اور باقی ملک کے درمیان مزیددوریاں قائم کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ حالیہ اقدامات کامقصد اُن ہزاروںلڑکوں اورلڑکیوں جنہوں نے ریاست سے باہر کے کالجوںکو چھوڑا ،میں خوف اور گھبراہٹ پیدا کرنا ہے ۔یہ خوف وہراس انہیں ریاست کے موجودہ حالات میںذہنی طور مصروف رکھے گاتاکہ وہ دوبارہ اپنے کالجوں کو نہ جاسکیں ۔اختر نے مزید پوچھا کہ کس کے کہنے پراِن احکامات کوجاری کیاگیااور کس نے میڈیکل ایمرجنسی کااعلان کیاجہاں محکمہ صحت کو اسپتالوں میں مریضوں کیلئے دوماہ تک کی ادویات کاذخیرہ رکھنے کوکہاگیا۔ کس کے کہنے پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آرمڈ پولیس نے بینڈ اور چپراسیوں تک کو کارروائی کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی ۔حکومت کو جواب دینا ہے کہ کون ریاست کو چلا رہا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گورنرانتظامیہ اور مرکزی سرکار ریاست میں موجودہ افراتفری کی ذمہ دار ہے اوراُنہیں اس معاملے میں صفائی دینی چاہیے اور لوگوں کو بتانا چاہیے اگر کچھ نہیں ہے جیساکہ گورنرانتظامیہ اب پریس بیانوں سے صاف کرنا چاہتی ہے ۔ اختر نے کہا کہ اگر یہ چنائو کیلئے فورسزکی معمول کی حرکت تھی ،ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ پوراآپریشن رات کی تاریکی میں انجام دیاگیااور اُسے کشمیر میں جنگ کی شروعات جیسا بنایا گیا۔سابق وزیر نے کہا کہ کیوں یہ سارا آپریشن ہنگامی طور انجام دیاگیا اور کیوں اُسی دن ایسا لگ رہاتھا کہ کشمیر پر جنگ شروع ہونے والی ہے،جب وزیراعظم ملک کو بتارہے تھے کہ ہمیں کشمیر کے عوام کی فکر ہے ۔کیوں ریاست میں بیسیوں مجسٹریٹوں کو عجلت میں تعینات کیاگیا اور حکومت کس کے پیچھے ہے ۔ان سوالات کا جواب دینا چاہیے اور اب دینا چاہیے ۔گورنر انتظامیہ اس سے آسانی سے بچ نہیں سکتی۔