کشمیر میں اپنی نوعیت کا پہلا بزنس کنکلیو ، تاجروں نے تجاویز پیش کیں

سرینگر// معیشت کے مختلف طبقوں سے وابستہ کاروباری انجمنوں نے اتوار کو سرینگر میں منعقدہ پہلے بزنس کنکلیو میں حصہ لیا تاکہ کشمیر کی اقتصادیات سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں ۔اس موقعے پر ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئیں جبکہ وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو اعزازی مہمان تھے ۔کنکلیو سے خطاب کرتے ہوئے فیڈریشن چیمبرآف انڈسٹریز کشمیر محمد اشرف میر نے کشمیر میں تجارتی شعبہ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ کشمیر میں تجارتی شعبہ 1990کی دہائی سے ہی متاثر ہوا ہے جس کے نتیجے میں معیشت کی ترقی ممکن نہیں ہوپائی لیکن گذشتہ چند برس تجارت کے لئے زبردست مشکلات کے حامل رہے جس نے یہاں کی تجارتی کمیونٹی کو خسارے سے دوچار کیا۔محمد اشرف میر نے کہاکہ سرکاری رعایتوں کے اعلانات کے باوجود وہ متاثرین تک وقت پر نہیں پہنچ پائے جس کی وجہ سے تاجرقرضوں پر سود ادا کرنے پر مجبور ہوئے ۔انہوں نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ وہ ایک ٹاسک فورس تشکیل دیں جو کشمیری کے تاجروں کو مالی پریشانیوں سے باہر نکالنے کیلئے تبادلہ خیال کرکے راستے نکالیں ۔اس موقعے پر پی ایچ ڈی چیمبرآف کامرس اینڈ اندسٹریز کے چئیرمین مشتاق احمد چایا نے کہاکہ’’ سیاحتی سیکٹر نے گذشتہ کئی برسوں سے انتہائی مشکلات برداشت کیں ۔اس وقت بیرون ریاستی میڈیا کے ذریعے کشمیر ی سیاحت کے خلاف ایک جنگ چھیڑ دی گئی ہے جو لوگوں کو کشمیر آنے سے ڈرا رہے ہیں۔انہوں نے وزیرخزانہ پر زور دیا کہ وہ تواضع سیکٹر کو جی ایس ٹی سے باہر نکالیں ۔مشتاق چایا نے کہاکہ اس سے قبل ہم سروس ٹیکس سے مستثنی تھے اور اب یہی طرز عمل جی ایس ٹی کے حوالے سے بھی اپنایا جائے تاکہ سیاحتی سیکٹر فروغ پاسکے۔انہوں نے حکومت پر قرضوں کی ادائیگی کے لئے رعایتی مدت میں توسیع کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے کہاکہ ہم قرضوں کو معاف کئے جانے کا مطالبہ نہیں کرتے لیکن ہمیں وقت دیں اور کشمیر یوں نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ چور نہیں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جے کے بنک کے این پی اے کھاتوں کا بیشتر حصہ بیرون ریاست سے ہے ،انہوں نے کہاکہ 97این پی اے باہر سے ہیں ۔کنکلیو سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اکنامک الائنس محمد یاسین خان نے کہاکہ کشمیر بزنس 2016کے بعد سے 80فیصد گراوٹ درج کررہا ہے ۔ہمارا کاروبار انتہائی برے وقت سے گذر رہا ہے ۔یہاں سرکاری مداخلت مطلوب ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو سامنے آکر تاجر طبقے کو مشکلات سے باہر نکالنا ہوگا ۔چیئرمین پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن شوکت چودھری نے پرائیویٹ سکولوں کے بارے میں بات کی ۔انہوں نے کہاکہ یہاں کے نجی سکول مالی امداد نہیں چاہتے ہیں لیکن انہیں اس بات کی اجازت ہونی چاہئے کہ وہ ایسے اقدامات کرسکیں جس سے یہاں کا تعلیمی نظام فروغ پاسکے ۔انہوں نے کہاکہ یہاں3500پرائیویٹ سکول قائم ہیں جو7.5لاکھ طلباء کو تعلیم فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی 80000افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں ۔چودھری نے اعلی تعلیم شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت پرز ور دیا ۔انہوں نے کہاکہ ہر برس 2000کروڑ روپے کشمیریوں کے ذریعے بیرون ریاست تعلیم پر  صرف کئے جاتے ہیں ہمیں وادی میں ہی ایسی سہولیات دستیاب رکھنی ہونگی جس میں ریاستی حکومت ایک کردار ادا کرسکتی ہے ۔