کشمیر میں اُردو صحافت کا مستقبل!

صحافت  کے ساتھ کسی مخصوص زبان کا لاحقہ جوڑئے تو صحافت ایک ملک کی مانند لگتی ہے جس میں کسی مخصوص زبان کی صحافت اسی ملک کی اکثریت یا اقلیت معلوم ہوتی ہے۔ جب ہم "اُردو صحافت" کی ترکیب استعمال کرتے ہیں تو نادانستہ ہم سے دو گستاخیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔ چونکہ ہم "اُردو صحافت" کا فقرہ معذرت خواہانہ لہجے میں ادا کرتے ہیں لہذا سُنتے ہی اگلوں کو لگتا ہے یہ کوئی ' بی گریڈ صحافت ' کی بات ہورہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایسا کرکے ہم صحافت کو ایک مخصوص زبان کے پیراڈائم میں پیش کرکے گویا صحافت کی کسی کم تر قسم کی بات کرتے ہیں۔ 
میری ادنی رائے یہ ہے کہ صحافت اپنی ذات کے اعتبار سے 'سیکولر  ہوتی ہے۔ صحافت صحافت ہے، یہ کوئی اُردو صحافت یا انگلش صحافت یا ہندو صحافت یا مسلم صحافت نہیں ہے۔ آپ صحافتی ذمہ داریاں برتنے کے لئے محض ذریعہ اظہار کا انتخاب کرتے ہیں۔ اُردو اور انگریزی زبان میں رپورٹ کرنے والے دو الگ الگ نامہ نگاروں کی مثال لیجئے جنہیں محاذ جنگ پر رپورٹنگ کے لئے بھیجا گیا ہو۔ محاذ پر جنگ ہوئی، دو جہاز گر کر تباہ ہوگئے اور بمباری میں بیس فوجی مارے گئے۔ کیا حقائق کے اعتبار سے انگریزی اور اُردو کی رپورٹس میں کوئی فرق ہوگا؟ بالکل نہیں ہوگا۔ یہ طویل تمہید میں نے اس لئے باندھی کیونکہ اُردو زبان میں صحافت کرنے والے دوست اکثر احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور جب ایسی تقاریب کا عنوان بھی ایسا خوفناک اور ڈراونا ہو تو بے چارے صحافی کو لگتا ہے کہ یار اب مجھے ہی اس ڈوبتی کشتی میں بیٹھنا تھا کیا؟  نفسیات کے ادنی طالب علم ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ اُردو زبان کے قلمکاروں اور صحافیوں میں جدید چیلنجز کا سامنا کرنے کی سکت کا فقدان اسی روش کا مرہون منت ہے۔
 اُردو زبان میں صحافت کرنے والوں سے میری یہ گزارش ہوگی کہ وہ اپنی صلاحیتیوں میں اضافہ کرنے کا سفر جاری رکھتے ہوئے خود کو باقاعدہ صحافی سمجھیں۔ کسی کیٹاگری کے ساتھ منسلک ہونا اگر مرعات یا ہمدردی بٹورنے کے لئے ہے تو الگ بات ہے، لیکن  اگر آپ خود ڈر کے مارے مین سٹریم جرنلزم کے حاشیے پر بھاگ جائیں تو یہ قابل افسوس بات ہے۔ یہ کام آپ کیسے کرسکتے ہیں ، اس پر کسی آئیندہ محفل میں گفتگو ہوسکتی ہے۔ چونکہ بات مستقبل کی ہورہی ہے، ماضی کی طویل تاریخ کو دوہرانا ضروری بھی نہیں، تاہم کچھ پہلو ہیں جنہیں ماضی کے جھروکوں سے جھانک کر ہم مستقبل میں اُردو صحافت کی تشکیل نو کے بارے میں تھوڑی بہت خِیال آرائی کر سکتے ہیں۔ 
اُردو صحافت کا ظہور برصغیر میں اُنیسویں صدی کے وسط میں اُسوقت ہوا جب 1822 میں ہری ہر دتہ نے کلکتہ سے فقط تین صفحات پر مشتمل ہفت روزہ " جام جہاں نما" جاری کیا۔ ہری ہر اُسوقت کے بااثر بنگالی صحافی تارا چند دتہ کے فرزند تھے۔ یہ پرچہ چھیاسٹھ سال تک شایع ہوتا رہا۔ اس دروان 1850میں منشی ہرسکھ رائے نے ہفت روزہ "کوہ نور" شایع کیا۔آٹھ سال بعد یعنی 1858میِں من بیر کبیرالدین نے کلکتہ سے ہی پہلا روزنامہ "اُردو گائڈ" جاری کیا۔ اسی سال منشی نول کشور کی ادارت میں لکھنو سے "اودھ اخبار " منصہ شہود پر آیا اور لاہور سے بھی کئی پرچے نکالے گئے۔ ان مختصر حوالہ جات کا مدعا یہ باور کرانا ہے کہ اُردو زبان یا اُردو صحافت کسی مخصوص مذہب کی میراث نہیں ، البتہ یہ حقیقت ہے کہ  برصغیر کے مسلمانوں کی تہذیبی اور دینی روایات کی ترویج اُردو صحافت کے ذریعہ ہی ہوئی ہے۔ 1857 کے خونین واقعات کے بعد سید احمد خان کے تہذیب الاخلاق اور ابوالکلام آزاد کے البلاغ اور الہلال کے ساتھ ساتھ کئی اخبارات شایع ہوتے رہے جنکی فہرست بہت طویل ہے۔ یہ وہ دور ہے جب کشمیر میں صحافت ابھی بھی داستان گوئی اور طویل اسفار سے لوٹنے والے تاجروں یا مبلغین کی کہانیوں تک محدود تھی۔ مطلق العنان ڈوگرہ حکمرانوں نے اظہار کی آزادی کے تمام راستے مسدود کردئے تھے۔ 
اکثر مورخین کا اس بات پر اجما ہے کہ ہمارے یہاں پہلا اُردو اخبار 1924میں مہاراجہ رنبیر سنگھ نے نہایت فراخدلی کا دعوی کرتے ہوئے اخبار شایع کرنے کی اجازت دے دی، لیکن دلچسپ امر ہے کہ لالہ ملک راج صراف نے جب اجازت طلب کی تو اخبار کے لئے حکومت نے عنوان بھی "رنبیر" ہی طے کیا اور اس میں صرف مہاراجہ کی تعریف اور محل کے معاملات کی روداد ہوتی تھی۔ ہماری صحافتی تاریخ یہ پہلا المیہ ہے کہ ہمارے یہاں صحافت یا  اُردو صحافت کہیے، کی بنیاد سرکاری طور پر رکھی گئی۔ چونکہ اُسی دور میں امرتسر اور لاہور میں صحافتی سرگرمیاں تیز ہوگئیں تھیں، کشمیر میں پڑھے لکھے لوگ "لاہور سینٹر" میں مولانا ظفر علی خان، عبدالسلام مہر ، چراغ حسن حسرت اور محمد الدین فوق کی تحریروں کا مطالع کرکے نجی محفلوں میں ان پر بحث و مباحثہ کرتے تھے۔ لاہور میں انقلاب، سیاست، زمیندار اور کشمیر گیزیٹ جیسے اخبارات بھی شایع ہوتے تھے۔ ان ہی اخبارات میں کشمیریوں کی روداد الم چھپتی تھی ، اور ان کے مستقل قارئین میں شیخ محمد عبداللہ، محمد رجب، غلام مرتضی اور عبدالعزیز فاضلی وغیرہ  تھے جو خبروں اور مضامین پر "ریڈنگ روم" میں گفت و شنید کرتے تھے۔ اب اسے المیہ کہیے یا اعزاز ، کشمیریوں نے آغاز میں وہی اخبارات پڑھے جو نہ کشمیر میں شایع ہوتے تھے نہ اُن کے مدیر کشمیری تھے۔ لاہور سے "مسلم آوٹ لُک" عنوان سے جو اُردو اخبار یہاں بڑی دیر سے پہنچتا تھا، وہ ہاتھوں ہاتھ بکتا تھا۔ بعد میں جب برٹش حکام نے ڈوگرہ حکمرانوں کو کشمیریوں کے بنیادی حقوق کے بارے میں خبردار کیا، تو کشمیر میں اخبارات کی اشاعت پر لگی پابندی ہٹادی گئی، لیکن سینسرشپ کا دور مکمل طور پر ختم نہِیں ہوا۔ پنڈت پریم ناتھ بزاز نے 1932 میں پہلے تو ویکلی ویتیستا شروع کیا لیکن تین سال بعد انہوں نے شیخ محمد عبداللہ کی مدد سے ہفت روزہ ہمدرد جاری کیا جو بہت مقبول بھی ہوا۔ لیکن چند سال بعد شیخ عبداللہ کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے ۔ چونکہ شیخ صاحب نے موقف تبدیل کیا تھا ، ان کے خلاف دلی اور لاہور کے پریس میں بہت کچھ چھپتا تھا، جس کا جواب ہمدرد میں نہیں دیا جاسکتا تھا، اس لئے شیخ صاحب نے مولانا محمد سید مسعودی کی ادارت میں روزنامہ خدمت شروع کردیا۔ جو پھر بالآخر کانگریس کا آفیشل آرگن بن گیا۔ 
1947 شیخ محمد عبداللہ جیل سے رہا ہوکر کشمیر کے وزیراعظم بن گئے، لیکن پریم ناتھ بزاز نے الحاق پاکستان کی برملا حمایت کی اور اس کی وکالت مدلل مضامین لکھے۔ اس پر انہیں جیل بھیجا گیا۔ لیکن جب شیخ عبداللہ کو معزول کرکے ان کے خلاف مقدمہ بغاوت چلا تو پریم ناتھ بزاز نے شیخ کے ساتھ شدید ترین اختلافات کے باوجود اس کیس کی ہر ہر سماعت کی باریک بین رپورٹنگ کی اور اپنے اخبار میں شایع کی۔ صحافت اُردو ہو یا انگریزی ، یہ رواداری آج ناپید ہے۔ سینتالیس کے بعد والے کشمیر میں آفتاب اور سرینگر ٹائمز جیسے معروف روزنامے بے حد مقبول ہوئے۔ درجنوں اخبارات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں صحافت میں اپنی اپنی بساط کے مطابق کام کیا، لیکن مدعا ہمارے موضوع کا جدید اُردو صحافت کو اپنے درست پس منظر میں سمجھ کر اس کی بقا کے لئے صلاحیت سازی کرنا ہے۔ اس سمت میں گزشتہ تیس سال کے دوران قدرے پیش رفت دیکھی گئی۔ گریٹر کشمیر کمیونکیشن لمیٹڈ کا روزنامہ کشمیر عظمیٰ، جسے راقم نے محترم جاوید آزر کے تعاون سے پندرہ سال قبل پہلے ہفت روزہ کے طور اور پھر روزنامے کے طور پر لانچ کیا تھا، موجودہ دور میں معیاری صحافت کی علامت ہے۔ ہفت روزہ چٹان ، جو اب روزنامہ ہے، بھی ہماری جدید تاریخ کا اہم اور معروف حوالہ ہے۔آج کل ہفت روزہ نوائےجہلم بھی جی کے سی کے بینر تلے ہی گزشتہ دو سال سے بلاناغہ شایع ہورہا ہے۔ اُردو صحافت کو اگر محض اخبار کی علامت کے طور دیکھا جائے تو بلاشبہ مستقبل مخدوش ہے۔ لیکن دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح صحافت بھی قرطاس سے موبائل فون کی طرف گامزن ہے۔ ایسے میں اُردو زبان میں صحافت کرنے والوں کو نہ صرف جدید تیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا بلکہ اب انہیں ملٹی میڈیا کے ذریعہ صحافت کرنے کے بہتر اور موثر ذرایع میسر ہیں۔ مولانا حسرت موہانی نے خوب کہا ہے   
آرزو تیری برقرار رہے 
دل کا کیا ہے، رہا رہا نہ رہا  
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘