کشمیر سے فلمی سفر کا آغاز کرنے والے رشی کپور کے مداح رنجیدہ

سرینگر //کشمیر میں اپنے طویل فلمی کیرئر کا آغاز کرنے والے مشہور بالی وڈ ادا کار رشی کپوار جمعرات کو فوت ہو گئے ۔رشی کپور کی پہلی فلم’ بوبی‘ تھی، جو انکے والد راج کپور نے ڈائریکٹ کیا تھا۔بوبی فلم کی شوٹنگ قریب60فیصد کشمیر میں ہوئی اور یہ فلم اپنے زمانے کی سپر ہٹ ثابت ہوئی تھی۔پہلگام میں آج بھی بوبی نام سے منسوب ایک ہٹ موجود ہے جس میں مشہور گیت ’ ہم تم اک کمرے میں بند ہیں‘، ڈمپل کپاڈیہ کیساتھ فلمایا گیا تھا۔ کپوار خاندان کو کشمیر کیساتھ گہرا لگائو رہا ہے،۔ رشی کپور کے چاچا شمی کپور اور ششی کپور کو بھی وادی کشمیر کی خوبصورتی کیساتھ گہری وابستگی رہی تھی۔وہ اکثر یہاں آتے رہے۔ دور درشن کیندر سرینگر کے سابق ڈائریکٹر فارو ق احمد نازکی نے کشمیر عظمیٰ کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ’’میرے مراسم کپور خاندان سے اُس وقت کے ہیں جب راج کپوار پہلی بار کشمیر آئے، رشی کپور سے ان کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ اپنے والد راج کپور کے ساتھ پہلگام میں ’بوبی‘ فلم کی شوٹنگ کیلئے آئے تھے‘‘ ۔انہوں نے کہا ’بوبی‘ فلم کی وجہ سے رشی کپور کو کافی شہرت ملی ۔ انہوں نے کہا  ’’پہلگام میں اس وقت سپر ہٹ ’فلم بوبی‘ کا مشہور گانا’ہم تم ایک کمرے میں بند ہو جائیں اور چابی کھو جائے ‘ ایک ہٹ میں فلمایا جا رہا تھا، اور اس کے بعد اس ہٹ کو بھی بوبی ہٹ کا نام دیا گیا‘‘ ۔
انہوں نے کہا کہ ہندی فلمی صنعت میں کپور خاندان ایک الگ مقام رکھتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ اس خاندان میں کسی نے اپنی الگ پہچان بنائی، وہ رشی کپور تھے۔فاروق نازکی نے کہا کہ رشی کپور کی اکثر فلموں کو لوگوں نے کافی پسند کیا اور ان کی ایک فلم’ قرض‘ کے متعلق راج کپور کے ساتھ ہماری ایک طویل بات چیت بھی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ کپور خاندان کشمیر میں کافی مشہور رہا کیونکہ راج کپور، شمی کپور،اور ششی کپور نے اپنی کئی ایک فلموں کی شوٹنگ کشمیر کے پہلگام اور جھیل ڈل میں کی ۔ انہوں نے کہا کہ راج کپور جب بھی کشمیر آتے تھے، وہ ڈل کے کنارے ایک ہاوس بوٹ میں قیام کرتے تھے اور ان کے چاہنے والے وہاں انہیں ملنے جاتے تھے، اس وقت کپور خاندان کے مداحوں کی کشمیر میں کوئی کمی نہیں تھی ،وہ ایسا دورتھا کہ کشمیر میں کسی چیز کو بھی وہ ہاتھ لگاتے تھے ،وہ بک جاتی تھی ۔وہ کہتے ہیں ’’ رشی کپور مجھے سے کافی چھوٹے تھے، ہمارے مراسم راج کپور صاحب کے ساتھ تھے لیکن جو ٹیلنٹ جو حوصلہ کام کرنے کا رشی کپور میں تھا ،اس کو دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ نوجوان ایک دن نام کمائے گا اور واقعی اس نے بعد میں نام بھی کمایا ۔نازکی نے کہا کہ رشی ہر قسم کی اداکاری کیلئے مشہور تھے اور ان کی موت سے کپور خاندان میں ایک بہت بڑا خلا ء پیدا ہوا ہے ۔ وادی کے مشہور فلم بین شبیر احمد نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا 1990تک رشی کپور کی زیادہ تر فلموں کے گیت کشمیر میں فلمائے گئے۔انہوں نے کہا کہ بوبی فلم آنے سے قبل فلم انڈسٹری پر راجیش کھنہ کا دبدبا تھا لیکن ’بوبی‘ نے اس قدر دھوم مچائی کہ راجیش کھنہ کو بھول کر لوگ رشی کپور کی فلمیں دیکھنے لگے۔انہوں نے کہا کہ رشی کپور کی ایسی کوئی فلم نہیں ہے ،جسے انہوں نے نہیں دیکھا ہو ۔انہوں نے کہا کہ لیلا مجنو ں فلم میں جب نوجوان فلم سٹار رشی کپور کو ہیرو کا رول ملا تو اس وقت وہ کشور کمار سے فلم کے گیت گوانا چاہتے تھے ،تاہم اس وقت کپور خاندان نے کہا ’’ان کے خاندان کیلئے کشمیر میں شوٹنگ اور محمد رفیع کے گانے حصہ ہوں گے، بعد میں فلم کے سبھی گیت رفیع نے ہی گائے ،جو فلم سے زیادہ لوگوں نے پسند کئے ،جو آج بھی مقبول ہیں ۔انہوں نے کہا کہ رشی کپور کی فلموں میں انٹری سے قبل فلموں میں جو بھی ہیر و آتے تھے، ان کی جوانی کی عمر ڈھل چکی ہوتی تھی لیکن کپور خاندان نے رشی کپور کو جوانی میں ہی فلموں میں لایا گیا جنہوں نے اپنا ایک الگ مقام بنایا ۔شبیر نے رشی کپور کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ۔ایک فلم بین محمد مقصود کہتے ہیں کہ کشمیر میں اُس وقت اس لئے لوگ فلموں کے زیادہ تر شائقین تھے کیونکہ زیادہ تر فلموں کی شوٹنگ کشمیر میں ہوتی تھی جبکہ ششی کپور، شمی کپوراکثر کشمیر آیا کرتے تھے اور کشمیر میں ان کے مداحوں کی ایک اچھی خاصی تعداد تھی ۔
تاہم جب سے کشمیر میں فلموں کی شوٹنگ بند ہوئی تو آہستہ آہستہ لوگوں کی دلچسپی فلمی سٹاروں سے بھی ختم ہو گئی ۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے معروف بالی وڈ اداکار رشی کپور کے انتقال پر اظہار رنج کرتے ہوئے کہا کہ آنجہانی اداکار کے کچھ ڈائیلاگ میرے بچپن کے جدا نہ ہونے والے حصے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریشی کپور بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں ایک ممتاز اداکارہ رہ چکے ہیں جنہوںنے اپنی اداکاری کے جوہر دکھا کر فلمی دنیا میں بہت چھوٹی عمر میں نام کمایا ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ میں ریشی کپورکی فلمیں شوق سے دیکھتا تھا ۔عمر عبداللہ نے آنجہانی اداکار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا: 'بوبی سے لے کر "قرض" اور "زمانے کو دکھانا ہے" تک آپ کی فلمیں اور کچھ ڈائیلاگ میرے بچپن کے جدا نہ ہونے والے حصے ہیں۔انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ فلم انڈسٹری ایک نایاب اداکار سے جدا ہوگئی ہے جنہوںنے کشمیر میں متعدد فلموں کی شوٹنگ کی تھی ۔