کشمیر دیرینہ حل طلب مسئلہ: پومپیٔو

واشنگٹن//جنوبی ایشیاء کے دو ہمسایوں کے درمیان کشمیر کو ایک دیرینہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے امریکہ کے وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک ایسی راہ تلاش کررہا ہے، جس میں دونوں ممالک مثبت انداز سے کام کرنے کے اہل ہوں۔ لووامیں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امریکہ کی سفارتی ہنرمندی کی مثالیں پیش کرتے ہوئے ہند پاک جھگڑے اور اسرائیلی تنازعہ کاذکر کیا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا ماحول تلاش کرنے کی کوشش کیسے کرتے ہیں اور امریکہ کی طرف سے مصالحت کی گفتگوکرتے ہیں؟پومپیئو نے کہا کہ آپ مشکل ترین مسئلوں پر نظر ڈالیں ۔بہترین مثال کیاہے؟مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن قائم کرنا یا حال ہی میں کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دیرینہ لڑائی۔ہم جو کام بحیثیت سفارتکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورایسے ممکنات تلاش کرتے ہیں جو دونوں کیلئے مفید ہو۔انہوں نے مزیدکہاکہ آپ سب لوگ یہ اپنی روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں۔ایسی بھی چیزیں ہوتی ہیں جو واضح طور مختلف ہوتی ہیں ۔کئی معاملوں میں آپ مقرراقدار دیکھتے ہیں جو مختلف ہوتے ہیں۔کئی معاملوں میں زمینی تنازعات ہوتے ہیں،کچھ معاملوں میں عقیدے کی دلیل دی جاتی ہے،کبھی وہ وسائل پر جھگڑتے ہیں ،ٹھیک،نہیں صرف زمین،بلکہ دولت ،چاہے وہ زیرزمین تیل ہو،قدرتی گیس ہویا پانی ،جو بھی ہو۔پومپیئو نے کہا کہ امریکہ کی کوشش ہوتی ہے کہ اُن مقامات کو کھوج لیا جائے جہاںفریقین ایک دوسرے پردعویٰ کررہے ہوں۔اور اس کے بعد اُن کو قائل کرنا ہوتا ہے ،کبھی ہم اس میں ثالث ہوتے ہیں کبھی کسی خاص تنازعے میں تشدد کو کم کرنے یا کسی مشکل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس میں ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو بھی سب کچھ نہیں ملتا۔اس میں ہر ایک کو کچھ منظور کرنا ہوتا ہے سب کچھ سے کم ۔ کچھ ایسا جووہ سوچتے ہیں کہ انہیں ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملتا،لیکن انہیں قائل کرنا پڑتا ہے کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد اگر وہ چاہیں تو وہ سب کچھ اکٹھے حاصل کرسکتے ہیں،اور اس کا نتیجہ اِن دونوں کیلئے بہتر ہوگا۔ہوسکتا ہے کہ مکمل نہیں تو یہ بہتر ہوگا۔