کشمیر: خشک موسم کے بیچ سردی کا زور برابر جاری، گلمرگ سرد ترین جگہ

سری نگر//وادی کشمیر میں شبانہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے درج ہونے سے سردی کا زور برابر جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق جموں وکشمیر اور لداخ یونین ٹریٹری 15دسمبر تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔
متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جموں وکشمیر اور لداخ یونین ٹریٹریوں میں 15 دسمبر تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے تاہم 8 اور9 دسمبر کو زوجیلا- دراس علاقوں میں ہلکی برف باری متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الوقت دونوں یونین ٹریٹریوں میں دن کے دوران موسم خوشگوار جبکہ رات کے دوران سردیاں متوقع ہیں۔
گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی0.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی1.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
سری نگر میں یکم دسمبر کو رواں سیزن کی سرد ترین ات ریکارڈ ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی6.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی7.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی3.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی1.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی0.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی7.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اور قصبہ دراس میں کم سے کم درجہ حرارت منفی14.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
دریں اثنا وادی میں بدھ کو بھی صبح سے ہی موسم خشک رہا اور ہلکی دھوپ بھی چھائی رہی جس سے لوگوں کو صحنوں، دکان تھڑوں اور پارکوں میں لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔
لوگوں کا الزام ہے کہ خشک موسم کے بیچ بجلی آنکھ مچولی اور پانی کی قلت نے جینا دو بھر کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ خشک موسم کے بیچ لوگوں کو ان بنیادی سہولیات کو فراہم کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے تو سردیوں کے بادشاہ ’چلہ کلان‘ کے دوران بھاری برف باری ہوگی تو اس وقت حال کیا ہوگا۔