کشمیر ثالثی پر ٹرمپ کا بیان

مودی ملکی مفادات کے ساتھ دھوکہ دہی کے مرتکب:راہول گاندھی

سرینگر//کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر کا بیان سچ ہے تو نریندر مودی نے بھارت کے مفادات اور 1972 کے شملہ معاہدے کے ساتھ دھوکہ دہی کی۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے کشمیر سے متعلق بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا‘۔انہوں نے کہا کہ ’ اگر یہ سچ ہے تو وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت کے مفادات اور 1972 کے شملہ معاہدے کے ساتھ دھوکا دہی کی ہے۔
 
 
 

حریت (ع) کا خیر مقدم

سرینگر// حریت (ع) اور فریڈم پارٹی اورپیروان ولایت جموں و کشمیر  نے امریکہ کے صدر کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کو ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حریت کا ہمیشہ سے یہ اصولی موقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بنیادی طور ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کو اسی تناظر میں حل کرنے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں ۔بیان میں کہاگیا کہ ذمہ دار جوہری ممالک ہونے کے ناطے یہ بھارت اور پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطے سے بدامنی ، غیر یقینیت اور مخاصمانہ ماحول کو ختم کرنے کیلئے اس مسئلہ کا کوئی دیرپا اور آبرومندانہ حل تلاش کریں اور اگر ایسی کوششیں بروئے کار لائی جاتی ہے تو حریت ایسے کسی بھی عمل میں بھر پور تعاون کیلئے تیار ہے۔بیان میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے گزشتہ طویل عرصہ سے اس خطہ میں خون خرابے کا عمل جاری ہے اور ایک طرف روزانہ کشمیری نوجوانوں کا قتل عام جاری ہے یہاں کے عوام روز اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں ۔ انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر ہیں اور دوسری طرف اس مسئلہ کی وجہ سے ہی سرحدوں پر دونوں ممالک کے فوجی اس تنازعہ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں لہٰذا وقت آچکا ہے کہ اس دیرینہ تنازع کا کوئی ایسا قابل قبول حل تلاش کیا جائے تاکہ اس پورے خطے میں خوشحالی ، ترقی اور استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکے اور نہتے کشمیریوں اور بھارت اور پاکستان کے فوجیوں کی صورت میں جس طرح روز انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے اس پر روک لگ سکے ۔بیان میں کہاگیا کہ یہ امریکہ سمیت عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس دیرینہ تنازعہ کے حل کیلئے بھارت اور پاکستان کو قریب لانے اور انہیں بامعنی مذاکراتی عمل کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔اس دوران ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کشمیر حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔فریڈم پارٹی نے نئی دلی پر زور دیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو قبول کرے تاکہ تنازعہ کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حل کیا جاسکے۔یہ تنازعہ کشمیر ہی ہے جس کی وجہ سے یہاں خون خرابہ جاری ہے اور پورے جنوب ایشیائی خطے میں عدم استحکام پایا جارہا ہے۔ اس لئے بھارت کیلئے یہ سنہر ی موقع ہے کہ وہ امریکی صدر کی پیشکش کو قبول کرکے سیاسی بالغ نظری کا ثبوت فراہم کرے۔ایسا کرکے بھارت ایک ایسے مسئلے سے چھٹکارا حاصل کرپائے گا جس نے پورے خطے کے امن کو دائو پر لگا رکھا ہے۔ پیروان ولایت جموں و کشمیر نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا۔ 
 
 
 

جموں وکشمیر پر کس قسم کی ثالثی

مودی اور ٹرمپ وضاحت کریں :بھیم سنگھ

سرینگر// نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے امریکی صدر ڈونالڈ ترمپ کے گمراہ کن بیان پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ وہ بتائیں کہ ہندستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر سے جموں وکشمیر کے تعلق سے کس قسم کی ثالثی کے خواہاں ہیں اور جموں وکشمیر میں ایسی کیا صورتحال ہے جو مسٹر ٹرمپ کی مداخلت کی ضرورت پڑی۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے مابین خفیہ بات چیت کو، ایجنسیوں نے ’ہائی جیک‘کرلیا ہے جس سے ہندستان اور امریکہ کے مابین تعلقات کو الجھایا جاسکے۔پنتھرس سربراہ نے پریس /میڈیا/بین الاقوامی ایجنسیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پہلے وضاحت کریں کہ معاملہ کیا ہے۔ کیا ہندستانی وزیراعظم نے امریکی صدر سے جموں وکشمیرکی صورتحال پر بات چیت کی تھی۔