کشمیر ثالثی: سیزن 2

ایسے  وقت جب کشمیر کی صورتحال کو اب عوامی خواہشات نہیں بلکہ اعدادوشمار کی روشنی میں سمجھا اور سمجھایا جارہا ہے، طویل روپوشی کے بعد حکومت ہند کے مصالحت کار دنیشور شرما پھر ایک بار سرخیوں میں ہیں۔ انہوں نے گورنر ستیہ پال ملک اور دیگر اہم شخصیات کے ساتھ سرینگر میں تبادلہ خیال کیا ہے۔  نئی دلی میں پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس بھی جاری ہے اور ایوان میں کشمیری اراکین کی باتیں نقارخانے میں طوطی کی کانا پھوسی تک محدود ہے، تاہم وزیرداخلہ امیت شاہ،کابینہ وزیر جتیندر سنگھ وغیرہ نے کشمیر پر رائے زنی ہے۔ امیت شاہ نے کشمیریوں کی رواداری اور بھائی چارے کے دعوے پر یہ کہہ کر سوال اُٹھایا ہے کہ تیس سال قبل کشمیری پنڈتوں کی جلاوطنی پر کوئی سڑک پر کیوں نہیں آیا۔ مسٹر شاہ نے چند تلخ باتیں بھی کیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے اقتدار پر باری باری براجمان رہنے والی سیاسی جماعتوں کا مفاد خصوصی یہاں کی  ملی ٹینسی کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔ اس الزام پر نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اسی دوران آر ایس ایس کے اہم کارکن اور بی جے پی کے کلیدی راہنما رام مادھو نے قطعیت کے ساتھ کہہ ڈالا کہ بات چیت کی باتیں محض خام خیالی ہے، اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہونگے۔ لیکن ان متضاد آوازوں کے درمیان بھارت اور پاکستان کے درمیان ٹریک ٹو رابطے بحال ہورہے ہیں اور تھائی لینڈ سے لے کر اسلام آباد تک سفارتکاروں، ثالثوں اور مصالحت کاروں کی محفلیں سج رہی ہیں۔ اسی اثنا میں دنیشور شرما بھی پھر ایک بار کشمیر پدھارے ہیں۔
2016  کے ہلاکت خیز ایجی ٹیشن پر قابو پانے کے بعد حکومت ہند نے کشمیر معامالات کے لئے سابق آئی بی چیف دنیشور شرما کو مصالحت کار کے طور نامزد کیا تو معتبر تجزیہ نگار اور جنوب ایشیائی امور کے ماہر عبدالغفور نورانی نے فوری تبصرے میں کہا: ’’پولیس والے کو پوسٹ مین بنایا گیا ہے۔‘‘ 2016 میں برہان وانی کی ہلاکت سے برپا ہوئی عوامی تحریک کے دوران  انٹیلی جینس بیورو یا آئی بی کے حاضر سربراہ تھے۔اہم بات یہ ہے کہ دنیشور 1992سے 1994تک کشمیر میں آئی بی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے تعینات تھے۔ یہ وہ دور تھا جب کشمیر میں مسلح مزاحمت عروج پر تھی اور اسے ٹھکانے لگانے کے لئے اخوان کا درپردہ تجربہ شروع ہوچکا تھا ۔ نئے مصالحت کار کے اس پس منظر کا جو بھی مطلب ہو، لیکن مودی سرکار نے نئے ’’پوسٹ مین‘‘ کوایسا لفافہ تھمایا جس پر کوئی مخصوص پتہ درج نہیں تھا، اور بہار کے گیا ضلع سے تعلق رکھنے والے3 6 سالہ مصالحت کار نے کشمیر آمد سے قبل اپنا منڈیٹ یہ کہہ کر بیان کیا کہ وہ ’’اُن سب کے ساتھ بات کریں گے جو بات چیت پر آمادہ ہوں‘‘ تاکہ لوگوں کی ’’جائز خواہشات ‘‘ کو معلوم کیا جاسکے۔ 
مذاکرات کاروں کی تعیناتی ایک طویل سلسلۂ تاریخ ہے ،جس پرسابقہ شمار وں میں بات ہوچکی ہے۔لیکن صورتحال کے جس موڑ پر دنیشور شرما مصالحت کاری کے لئے منتخب کئے گئے ہیں، وہ نہ صرف گنجلک بلکہ فکری اعتبار سے دھندلی صورتحال کا عکاس ہے۔ کئی دہائیوں سے بھارت کا لبرل و سیکولر حلقہ تو نیشنل کانفرنس کی اٹانومی یا پی ڈی پی کے سیلف رُول کو جائز خواہشات ماننے پر تیارتھا ، لیکشن گزشتہ برس کانگریس کے سنیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیرداخلہ پالانیاپن چدامبرم  نے  بھارتی وفاق کے اندر کشمیریوں کے لئے زیادہ سے زیادہ خودمختاری یا گریٹر اٹانومی کی تجویز سامنے رکھی تو خود وزیراعظم نریندر مودی نے اس تجویز کو فوجیوں کی قربانی کے اپمان سے تعبیر کیا یہاں تک کہ ارون جیٹلی نے اس بیان کو ’’اینٹی نیشنل‘‘ قرار دیا۔اس بیک ڈراپ سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ دنیشور جی نہ آزادی کا پروانہ لے کر آتے ہیں نہ خودمختاری کا فری پاس۔
حالانکہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ این آئی اے کے محاصرے میں پھنسی حریت قیادت اس بار نئی دلی کو کشمیر میں سپیس دینے پر آمادہ ہے، لیکن نئی دلی کی طرف سے سیاسی رعایت کا حدودِ اربع دیکھے بغیر حریت کس حد تک جا سکتی ہے، یہ سوال خود حریت قیادت کے لئے بھی باعث تذبذب ہے۔
دلچسپ امر ہے کہ جب بھی پاک۔امریکہ تناؤ مصالحت اور تعاون میں بدل جاتا ہے ، تو کشمیر میں ڈائیلاگ کی ڈفلی بج جاتی ہے۔حالانکہ نئی دلی اور واشنگٹن کے درمیان تذویراتی تعاون نئے منازل طے کررہا ہے، مگر پھر بھی چین ، روس اوردیگر طاقتیں بھارت کی عالمی شبیہہ پر چیں بہ جبیں ہوجاتی ہیں، جو بھارت اب نہیں چاہتا۔ جس طرح کرتار پور کاریڈور اور کلبھوشن کا معاملہ آگے بڑھ رہا ہے، اور جس طرح پاکستان اب دہشت گردی کے بارے میں بھارتی تحفظات کو ایڈریس کررہا ہے، اُمید کی جارہی ہے بڑے پیمانے پر جو لین دین کی باتیں ہورہی ہیں اُن میں کشمیر بھی شامل ہو۔ لیکن ماضی کے تجربات اس قدرتلخ ہیں، کہ مذاکراتکاری کی ہر نئی کاوش محض شورشرابہ معلوم ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام میں اس حوالے سے گرمجوشی نہیں پائی جاتی۔ 
 جنوب ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی جیوپالیٹکس کے پس منظر میں اگر پاکستان اپنے ملکی مفاد میں بھارت اور امریکہ سے رعایات لینے میں کامیاب ہوبھی جاتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اُن رعایات میں کشمیریوں کا کس قدر حصہ ہوگا۔ کیا پاکستان باقاعاعدہ طور پر بھارت کے ساتھ لوکل ڈِس آرما منٹ کا  معاہدہ کرکے سرگرم عسکریت پسندوں کو غیرمسلح کرکے سیاسی سپیس دینے کی بات کرے گا؟ کیا کشمیر میں انتخابی عمل کو گرین  سگلنل دے کر علیحدگی پسندوں کو الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا جائے گا؟ کیا سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا؟ کیا علیحدگی پسند اور مذہبی جماعتوں پر عائد پابندی ختم ہوجائے گی؟ کیا جموں ، کشمیر اور لداخ میں مسابقتی سیاست کی بجائے مشترکہ سیاست پروان چڑھے گی یا تینوں خطوں کے درمیان تقسیم کی باتیں اب مذاکراتی ایجنڈے میں تبدیل ہونگی؟ یہ ایسے سوال ہیں جو دنیشور شرما کی ملاقاتوں میں زیر بحث تو نہیں آتے، لیکن اُن کے دورے کے عالمی پس منظر کی وجہ سے ہر حساس کشمیر کے دل و دماغ میں اُبھر رہے ہیں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘
