کشمیر: برف و بارں کا سلسلہ جاری، فضائی و زمینی ٹریفک متاثر

سری نگر//وادی کشمیر میں برف و باراں کا سلسلہ بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا جس سے زمینی و فضائی ٹرانسپورٹ متاثر ہو کر رہ گیا۔
 
گرچہ وادی کو ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل جاری ہے تاہم حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پر سفر کرنے سے پرہیز کریں۔
 
سری نگر ہوائی اڈے پر بدھ کو صبح کی تمام پروازوں کو خراب موسمی حالات کے پیش نظر منسوخ کر دیا گیا ہے۔
 
ادھر محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وادی کے بالائی علاقوں میں منگل کی شب سے بدھ کی صبح تک کہیں کہیں دو فٹ برف جمع ہوئی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ بدھ کی شام سے موسم میں بہتری واقع ہوسکتی ہے تایم 7 اور8 جنوری کو ایک بار پھر بھاری برف باری کا امکان ہے۔
 
متعلقہ محکمے نے ایک بار پھر ان علاقے کے لوگوں جہاں برفانی تودے گر آنے کے خطرات لاحق رہتے ہیں ، سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلنے سے احتیاط کریں۔
 
لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کمروں میں مناسب وینٹلی لیشن کا بندوبست رکھیں۔
 
گرمائی دارلحکومت سری نگر میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 5 ملی میٹر برف و بارش درج ہوئی ہے۔
 
سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
سری نگر میں 18 دسمبر کو رواں موسم کی سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی6.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 33 ملی میٹر تازہ برف ریکارڈ ہوئی ہے۔
 
گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 5.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں 15گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملی میٹر تازہ برف ریکارڈ ہوئی ہےاور کم سے کم درجہ حرارت منفی0.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
 
سرحدی ضلع کپوارہ میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 12 ملی میٹر برف ریکارڈ ہوئی ہے۔
 
کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درج حرارت 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
موصولہ اطلاعات کے مطابق سونہ مرگ میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران قریب ڈیڑھ فٹ برف جمع ہوئی ہے جبکہ بانڈی پورہ- گریز روڈ کو بند کر دیا گیا ہے اور بانڈی پورہ میں تین سے چار انچ برف جمع ہوئی ہے۔
 
کپوارہ کے بالائی علاقوں میں قریب دو فٹ برف جمع ہوئی ہے جس کے باعث کیرن، مژھل سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل بند کر دی گئی ہے۔
 
گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 15 ملی میٹر برف و بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
 
قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
 
وادی کے بعض دیہی علاقوں میں بدھ کو بھی برف باری سے جہاں ٹرانسپورٹ کی نق و حمل متاثر رہی وہیں بجلی کا نظام بھی درہم وبرہم ہے۔
 
ادھر برف و باراں سے سری نگر کی کئی سڑکیں زیر آب ہیں جس سے لوگوں کا چلنا پھرنا از بس محال ہوگیا ہے۔
 
لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی7.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
 
قابل ذکر ہے کہ سردیوں کا بادشاہ ’چلہ کلان‘اکیس دسمبر سے اپنے چالیس روزہ مسند اقتدار پر پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ افروز ہوگیا۔
 
چلہ کلان جو ’شہنشہاہ زمستان‘ کے نام سے بھی وادی کے قرب وجوار میں مشہور ہے،21 دسمبر سے شروع ہو کر31 جنوری کو اختتام پذیر ہوتا ہے۔
 
اس کے اختتام کے بعد بیس روزہ چلہ خورد تخت نشین ہوجاتا ہے تاہم اس کی حکومت کے دوران سردی کی شدت میں بتدریج کمی واقع ہونے لگتی ہے تاہم بھاری برف باری کو کارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔