کشمیر ایک سنگین اور سلگتا ہوا مسئلہ:گیلانی

سرینگر// حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے بھارت کو حقائق اور زمینی صورتحال پر غور کرنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر ایک سنگین اور سُلگتا ہوا مسئلہ ہے اور اس کو غیر حقیقت پسندانہ اور تیز طرار بیان بازیوں سے حل کیا جانا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا لیڈر سخت زبان استعمال کرکے بھارت میں اپنے ووٹ بینک کو کسی حد تک مطمئن تو کرسکتے ہیں، لیکن کشمیر کے حالات اور کشمیریوں کی سوچ پر اس کا کوئی اثر پڑتا ہے اور نہ اس طرح سے مسئلہ کشمیر کی حیثیت اور ہئیت کو تبدیل کیا جانا ممکن ہے۔ گیلانی نے  بھارت کے وزیرِ داخلہ کے اس بیان کہ ’’کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘‘ کو ہمالیائی جھوٹ اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی لاحاصل کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہونی چاہیے کہ جموں کشمیر بھارت کا کوئی حصہ نہیں ہے، یہ بین الاقوامی سطح پر ایک تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے۔ انہوں نے  اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کوئی بھی بھاجپا لیڈر معقول اور حقائق پر مبنی بات کرتا نظر نہیں آتا ہے۔ یہ سب جنگی جنون جیسی باتیں ہیں اور کسی بھی متوازن سوچ کے سیاستدان کو اس طرح کی باتیں زیب نہیں دیتی ہیں، بلکہ یہ ان کی اعتباریت پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ بھارت کا کوئی بھی حکمران ایسا نہیں گزرا ہے، جس نے ’’کشمیر ہمارا ہے‘‘ کا نعرہ نہ دیا ہو، 71سال مکمل ہوگئے، لیکن ان بیانات سے آج تک زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مسئلہ اور زیادہ سنگین نوعیت اختیار کرتا گیا اور آج کے کشمیر کی جو صورتحال ہے، وہ بھارت کے حکمرانوں کے سامنے ہے۔ راجناتھ سنگھ نے 2016؁ء میں بھی ایک ہفتے کے اندر حالات ٹھیک ہونے کا مُژدہ سنایا تھا اور اس کے لیے اپنی پوری فوج کو متحرک بھی کیا تھا، البتہ نہ صرف حالات دن بدن دھماکہ خیز رُخ اختیار کرگئے، بلکہ پاک وہند کے درمیان جنگ ہوتے ہوتے رُک گی، جس کے خوفناک بادل ابھی بھی پورے برصغیر پر منڈلارہے ہیں۔ گیلانی نے کہا کہ طاقت کے ذریعے سے مسائل حل ہوا کرتے تو پھر 71سال کا عرصہ اس کے لیے کافی زیادہ تھا۔ پھر نہ انگریز بھارت چھوڑ کر چلے جاتے، روسیوں کو افغانستان سے نہ نکلنا پڑتا اور نہ امریکی ویت نام سے واپس چلے جاتے اور نہ افغانستان سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرتے ۔ بھارت کے حکمرانوں کے بیان کہ ’’وادی کے صرف 3اضلاع میں پرابلم ہے‘‘ پر ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ ایسا ہے تو پھر آپ کو کشمیر میں ریفرنڈم کرانے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ آپ کے اُس وعدے کی بھی تشفی کرے گا جو آپ نے یہاں کے لوگوں کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر کیا ہے کہ ہم لوگوں کو استصواب کا موقع فراہم کریں گے۔ ہم بھی لوگوں کا فیصلہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا پُرامن اور قابل عمل حل بھی یہی ہے کہ لوگوں کی رائے کو معلوم کیا جائے۔ اگر صرف 3اضلاع کی بات ہے تو پھر بھارت کا کشمیر پر دعویٰ صحیح ثابت ہوجائے گا اور دنیا بھی اس حقیقت کو دیکھ لے گی۔ آپ الیکشن ریلیوں یا ٹی وی چینل کے اسٹیڈیو میں بیٹھ کر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں اور نہ اس کی کوئی اعتباریت تسلیم کی جائے گی۔ حریت چیرمین نے اپنے بیان میں اس بات کو بھی واضح کیا کہ بھاجپا لیڈروں کے دھمکی آمیز بیانات سے کشمیری مرعوب ہوں گے اور نہ وہ اپنے جائز مطالبے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں اور بھارت کی بالادستی کو کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کریں گے ۔