کشمیر ایڈیٹرس گلڈ کا اظہارِبرہمی

 سرینگر//کشمیر ایڈیٹرس گلڈنے اس کے ایک سینئر ممبر اور روز نامہ ’آفاق‘ کے مدیر اعلیٰ‘غلام جیلانی قادری کی رہائشگاہ پر شبانہ چھاپے کے دوران ان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے ۔گلڈ نے بیان میں کہا ہے کہ 62سالہ قادری ’جو بلڈ پریشر کے مریض ہیں‘ ،زائد از 35سال سے صحافت سے وابستہ ہیں ۔بیان کے مطابق ’’پولیس نے1990میں8 صحافیوں سے جڑے ایک کیس ،جن میں دو سینئر صحافی ‘صوفی غلام محمد(سرینگر ٹائمز) اور غلام محمد عارف (ہمدرد)انتقال کر چکے ہیں‘کے تحت قادری کی گرفتاری عمل میں لائی ‘‘۔گلڈ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابھی یہ بات واضح نہیں ہو رہی ہے کہ قادری کو ہی قانونی عمل کی مزاحمت کے الزام میں اس کیس کی آڑ میں نشانہ بنایا گیا جس کے بارے میں انہیں کوئی علمیت نہیں تھی ۔قادری کاکہنا ہے کہ انہیں خود یہ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کیوں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا ہے ۔گلڈ کاکہنا ہے کہ یہ معاملہ اور بھی زیادہ پر اسرار بنتا ہے کیونکہ جس پولیس تھانے نے انہیں اشتہاری ملزم قرار دیا اسی پولیس تھانے نے گزشتہ30 برسوں میں پاسپورٹ کی اجرائی کے حوالے سے ان سے جڑے دستاویزات کی جانچ پڑتال کی ہے ۔گلڈ بیان کے مطابق چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پولیس یہ بات کہنے سے مکمل طور پر قاصر رہی کہ آخر کار یہ معاملہ ہے کیا ۔عدالت کی جانب سے گرفتارسینئر صحافی کی ضمانت پر رہائی کے بعد کورٹ نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ عدالت کو یہ بتائے کہ اس نے گزشتہ تیس برسوں کے دوران اس کیس کی کیا تحقیقات کی اور کیوں رات کی تاریخی میں قادری کو گرفتار کیا ۔پولیس کی جانب سے قادری کو ایک اشتہاری ملزم قرار دیکر ان کی گرفتاری پرگلڈ نے افسوس کا اظہار کیاہے ۔گلڈ بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کے دوسرے افراد کی طرح قادری بھی ایک قانون ماننے والے صحافی ہیں اور وہ خود پولیس تھانے یا عدالت میں حاضر ہوتے ‘ اگرا نہیں ایسا کرنے کو کہا جاتا ۔گلڈ بیان میں کہا گیا ہے کہ قادری زائد از 20 سال سے ایک اخبار کے مدیر اعلیٰ ہیں اور کشمیر میں میڈیا کے تئیں ان کا ایک کردار رہاہے ۔گلڈ نے بیان میں پوچھا ہے کہ ایک شخص کو کیسے اشتہاری ملزم قرار دیا جا سکتا ہے جب کہ وہ آٹھوں پہر سرینگر کے وسط میں اپنے دفتر میں موجود رہتے ہیں۔اس معاملے میں عدالت کی مداخلت ‘ جس کے باعث قادری کی رہائی عمل میں آئی ‘گلڈ اس کی معترف ہے ۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے اس معاملے میں فکر مندی دکھا کراس بات پر اصرار کیا کہ میڈیا کی آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا ہے۔گلڈ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ قادری کی گرفتاری سے کشمیر پریس کلب کے انتخابات کا انعقاد بھی اثر انداز ہوا ہے کیونکہ بیشتر صحافی منگل کو عدالت اور پولیس تھانے کے بیچ چکر کاٹنے میں مصروف رہے ۔