کشمیر اور خالصتان

گذشتہ چالیس برسوں کے دوران ہندوستان میں علیحدگی کی دو مسلح تحریکیں اٹھیں ۔ جہاں پنجاب کے سکھوں نے خالصتان کے نام سے اپنے لئے ایک علیٰحدہ مملکت کا مطالبہ کیا وہاں جموں کشمیر کے لوگوں نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے مسلح تحریک شروع کی ۔ دونوں تحریکوں میں کچھ بنیادی باتوں کو لے کر آسمان و زمین کا فرق تھا ۔ جہاں پنجاب کی علیحدگی پسند تحریک کو براہ راست کسی ملک کی حمایت حاصل نہیں تھی اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر خالصتانی تحریک کا کوئی پس منظر تھا ،وہاں کشمیریوں کو نہ صرف پاکستان کی لگ بھگ ہر محاذ پر کھلی کھلی حمایت حاصل تھی بلکہ اپنی ہی ریاست کے ایک تہائی حصہ پر قائم’’ آزاد جموں کشمیر ‘‘کے نام سے پاکستان کے زیر انتظام نیم خودمختار علاقہ کو تحریک مزاحمت کیلئے بیس کیمپ بنانے میں کشمیری جنگجوؤں اور انقلابیوں کو بظاہر کوئی دشواری پیش نہ آئی ۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی کشمیر کا تنازعہ ہر ایک کی نظر میں تھا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے لیکر شملہ اور تاشقند معاہدہ اس بات کا کھلا کھلا ثبوت تھا کہ جموں کشمیر پر ہندوستان کا دعویٰ بے حد کمزور ہے اور اسے حل کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ہندوستانی ریاست نے پنجاب اور کشمیر میں قتل و غارت گری کا جو بازار گرم کیا وہ ہندوستانی تاریخ کا سیاہ باب بن چکا ہے اور اسے جھٹلانے اور چھپانے کی جتنی بھی کوششیں کی جائیں گی اس قدریہ مظالم ، جو کہ اہنسا کے علمبردار ہونے کے دعویداروں کے ماتھے پر کسی کلنک سے کم نہیںہیں،اور زیادہ وضاحت کے ساتھ سامنے آجائیں گے ۔ یہ قدرتی بات ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں اگر تشدد اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہو جائے تو اس بد نصیب خطہ کے کچھ لوگ کسی نہ کسی وجہ سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کیلئے مجبور ہو جاتے ہیں۔ جہاں پنجاب کے سکھوں کو ہجرت کرنے میں کافی زیادہ مشکلات آئیں وہاں کشمیری ایک بار خونی لکیر کے اس طرف عبور کر گئے تو پاکستانی اور (آزاد)کشمیری لوگ ان کا استقبال کرنے کیلئے بیتاب نظر آئے ۔ فی الحال عیاں ہے کہ سکھوں کا خالصتان کا خواب ابھی خواب تک ہی محدود ہے اور دور دور تک ان کا سپنا پورا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا ۔ لیکن سکھ مہاجرین نے نہ صرف پوری دنیا میں ہجرت کے بعد اپنا لوہا منوالیا بلکہ کنیڈا میں اس حد تک اپنے پائوں جما لئے کہ پوری دنیا ا سے چھوٹا خالصتان کے نام سے جاننے لگی ہے۔ اگر چہ کنیڈا اور پنجاب کا اس طرح کا کوئی بھی دور دراز کا رشتہ نہیں رہا ہے کہ جس طرح کشمیری اور پاکستانی ایک دوسرے کے ساتھ تاریخی ، تواریخی ، جغرافیائی ، مذہبی ، ثقافتی اور لسانی رشتوں کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں ۔آج کی تاریخ میں نہ صرف کنیڈا کی پارلیمنٹ میں بیس سکھ اراکین منتخب ہو کے آئے ہیں بلکہ کنیڈا کی سرکارمیں چھ سکھ وزراء بھی موجود ہیں ۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ ،بینت سنگھ ،کے قتل میں سزا یافتہ بلونت سنگھ رجوانہ کی سزائے موت کو رکوانے میں کنیڈا کے سکھ مہاجرین نے کلیدی رول ادا کیا۔ سکھوں کے کنیڈا میں جمتے ہوئے قدم اور بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی صاف اور واضح جھلک کنیڈا کے وزیر اعظم جسٹن تریدیوا کے حالیہ دورہ ہندوستان کے دوران تب صاف دکھائی دی کہ جب ہندوستانی میڈیا سے لے کر سیاست دانوں تک نے کنیڈا کی خالصتانیوں کے تئیں حد سے زیادہ مروت اور محبت کا رونا رویا ۔ کشمیری مہاجرین چاہتے تو کشمیریوں کے سفیر بن کر پوری دنیا میں تحریک مزاحمت کے مثبت پہلوئوں کو اجاگر کرکے اپنی قوم پر ایک بہت بڑا احسان کر سکتے تھے لیکن اس تلخ حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں کہ جہاں چند ایک کو چھوڑ کر باقی ماندہ حضرات نے اپنی دنیا ’’نئے دور کے تقاضوں‘‘ سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تحریک کے نام کا صرف ٹریڈ مارک استعمال کیا وہاں مخلص تحریک پسند مہاجرین کا زیادہ تر وقت سرحد کے ہماری طرف کے تحریک پرستوں سے پردے کے پیچھے الجھنے اور انہیں مناسب بات منوانے میں صرف ہوا ۔ اس سوال کا جواب کشمیریوں کی قیادت کو دینا ہی پڑے گا کہ نہ صرف دنیا کی اہم نیوکلیر طاقت پاکستان ان کی پشت پر کھڑی تھی بلکہ پاکستان اس تنازعہ میں اس حد تک مصروف ہوگیا بھی کہ، جموں کشمیر کے تنازعہ کی وجہ سے،اسکا اپنا وجود خطرے میں پڑ ھ گیا ۔ اخلاقی ، سفارتی اور دیگر محاذوں پر اہل کشمیر کی حمایت کے علاوہ پاکستانی مائوں نے اپنے جواں سال بیٹوں کے گرم گرم لہو سے کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کو جلا بخشنے میں بخل سے کام نہیں لیا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ہماری طرف کے کچھ ایسے لوگوں، جن کی اوقات اس بات سے زیادہ کچھ بھی نہ تھی کہ انہوں نے سرحد عبور کی تھی ،کو پاکستانیوں نے مجاہد اور غازی سمجھ کر اپنی انتہائی تعلیم یافتہ بیٹیاں، خدا کے بھروسے،نکاح میں دیدیں۔ایسی کئی پاکستانی بیٹیاں کشمیر آکرکس حال میں ہیں اور ان کی مزاحمتی قیادت کو کتنی فکرہے ، ان پاکستانی بیٹیوں سے ہی معلوم کیا جائے تو بہتر رہے گا ۔ 
یہ بات بحث طلب ہو سکتی ہے کہ کیا کشمیریوں نے پاکستان کو مایوس کیا یا پاکستان نے کشمیریوں کو مایوس کیا یا پھر دونوں نے ملکر تحریک مزاحمت کو منطقی انجام تک لیجانے میں عقل اور خلوص سے کام نہ لیالیکن ہمارے سامنے چند ایسے سوالات ہیں کہ جنکا تشفی بخش جواب ڈھونڈے بغیر تحریک کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسکے نتیجہ خیز ہونے کی امید کی جا سکتی ہے ۔ گیلانی صاحب بلا شبہ تحریک کے سب سے بزرگ ، کہنہ مشق اور مستقل مزاج مانے جانے والے سیاستدان ہیں لیکن شائد انہیں بھی معلوم نہیں کہ کس طرح کئی بار ان کے پُر خلوص اقدامات یا بیانات بھی نئی دلی کے منصوبوں کو جلا بخشنے کا باعث بنے ہیں ۔ کشمیری قوم ہرگز خامیوں اور کوتاہیوں سے مبرا نہیں لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ قوم نے اس مقدار سے زیادہ قربانیاں دی ہیں جو کہ تحریک مزاحمت کو ثمر آور بنانے کیلئے درکار تھیں ۔ اگر قیادت کچھ اہم بنیادی چیزوں کو لیکر خود انتشار کی شکار ہو تو بھلا منز ل کی امید کیونکر رکھی جا سکتی ہے ۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ جن سوالات اور معاملات کو لیکر حریت دو پھاڑ ہوئی تھی کیا ان سارے سوالات کا تسلی بخش جواب قوم اور خود گیلانی صاحب کو ملا ہے ۔ گیلانی صاحب بجا طور سے اکثر اوقات یہ بات دہراتے ہیں کہ اصولوں ،نظریہ اور خلوص کے آگے افراد کی کوئی وقعت نہیں ہوتی اور ا ن ہی باتوں کو بنیاد بنا کر انہوں نے تمام خطرات مول لیکر حریت( گ ) کا قیام عمل میں لایا تھا ۔ 2016؁ کی عوامی مزاحمت کے بعد مشترکہ مزاحمتی قیادت کا قیام تو لایا گیا لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ ان سارے بنیادی سوالات کا جو کہ خود گیلانی صاحب نے اٹھائے تھے انہیں ملا بھی کہ نہیں ۔ اس سے بڑھکر کوئی خوش قسمتی کی بات تمام کشمیریوں کیلئے اور کیا ہو سکتی ہے کہ قیادت ایک بار پھر 2016؁ء میں متحد ہوئی لیکن یہ پوچھنا کوئی گناہ نہیں ،بلکہ تحریکی ضرورت ہے ،کہ اگر سارے اختلافات ختم ہو گئے ہیںتو مشترکہ مزاحمتی قیادت کی بجائے منقسم حریت کو جوڑ کر حریت کو اپنی اصل حیثیت اور شکل میں بحال کیوں نہیں کیا گیا تاکہ دونوں دھڑوں کے قائدین اور حریت کے باہر کے آزادی پسند لوگ ملکر موثر طریقے سے قوم کی ترجمانی کرتے ۔ اگرچند ایک قائدین کے بغیر باقی تمام لیڈروں کے متعلق بد گمانیاں اور سوالات اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں تو ان لیڈروں کو تحریک سے باہر کیوں نہیں پھینکا جاتا کیونکہ تحریک افراد کی نہیں بلکہ عوام کی ہے ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ گیلانی صاحب نادانستہ طور کچھ افراد کو تحریکی ہونے کی سند عطا کرکے کچھ مخلص حضرات کو تحریک سے دور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ جب تک گیلانی صاحب بقید حیات ہیں تب تک مشترکہ مزاحمتی قیادت کی افادیت اور اس کے مخلص ہونے میں شک کرنے کی زیادہ گنجائش نہیں لیکن ان کی رحلت کے بعد کچھ ایسے خدشات ، سوالات اور معاملات درپیش آسکتے ہیں جو ہر مخلص کشمیری کیلئے فکر مندی کا باعث بن سکتے ہیں اور جن کے اثرات سے تحریک مزاحمت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ہمارا مقصد ہرگز کسی کے مخلص ہونے پر شک کرنا نہیں نہ ہماری شائد اتنی اوقات ہے لیکن ریاست کے ایک شہری کی حیثیت سے اورخود تشدد سے متاثرہ فرد ہونے کی حیثیت سے جائز سوال کرنے کا ہر کسی کے سمیت ہمیں اختیار حاصل ہے۔ حالانکہ ان سوالات کا جواب ڈھونڈنا ہم سے زیادہ مزاحمتی قیادت کیلئے زیادہ ضروری ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو لوگ آج کل اپنے سوا سبھوں کو غدار اور تحریک دشمن کہتے تھکتے نہیں ہیں کل ایسے نظر آئیں کہ ان کے دشمنوں کو بھی اپنی آنکھوں پر یقین نہ آئے اور رہبر انقلاب کی زندگی میں ان کو ملی ہوئی سند پوری قوم کو انتشار اور مصیبت میں ڈالنے کا باعث بنے۔  