کشمیر انسانی مسئلہ طاقت حل نہیں:حریت

 سرینگر // حریت (ع) کی ایگزیکٹیو کونسل، جنرل کونسل اور ورکنگ کمیٹی کا ایک غیر معمولی اجلاس چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی ، تحریکی اور تنظیمی صورتحال کے مختلف پہلوئوں پر تفصیل کے ساتھ غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں کشمیرکے طول وعرض میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں جاری مار دھاڑ، ظلم و تشدد اور CASO کی آڑ میں پکڑ دھکڑ، ہراسانیوں ، قدغنوں اور نہتے عوام کیخلاف زورزبردستیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس طرز عمل کو حکمرانوں کے آمرانہ حربے قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے جس کو دھونس دبائو اور فوجی طاقت کے استعمال سے حل نہیں کیا جاسکتابلکہ اس کو مسئلے سے جڑے فریقین کے درمیان بامعنی مذاکراتی عمل سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ اجلاس میںکہا گیا کہ افسپا اور دیگر کالے قوانین کی موجودگی میں سرکاری فورسز کو جو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں ان کے بل پر وہ کسی بھی قسم کے محاسبیاور جواب دہی سے بالا تر ہوکر جموںوکشمیر میں لوگوں پربے انتہا مظالم ڈھا رہے ہیں جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور جموں کشمیر کے عوام زیادہ دیر تک اس طرح کی جارحانہ رویوں سے عبارت صورتحال کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ جیلوں میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار پرتشویش کا اظہار کیا گیا۔