کشمیر انسانی اور سیاسی مسئلہ:حریت (گ)

سرینگر// حریت (گ)نے مسئلہ کشمیر کو ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بھارت ریاستی عوام کی حق خودارادیت کی تحریک کے خلاف فوجی طاقت کا بے تحاشا استعمال کرنے پر بضد ہے۔موصولہ بیان کے مطابق حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس حریت جنرل سیکریٹری غلام نبی سمجھی کی صدارت میںصدر دفتر پیرباغ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مجوزہ بلدیاتی اور پنچائتی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کرنے کے فیصلے کی تائید وتوثیق کرتے ہوئے حریت کانفرنس کی طرف سے مشترکہ مزاحمتی قیادت کو ہر ممکن تعاون دینے کی یقین دہانی کی گئی۔ الیکشن بائیکاٹ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اجلاس میں حریت پسند عوام سے دردمندانہ اپیل کی گئی کہ وہ بھارت کے حکمرانوں کی طرف سے ریاست کے مسلم اکثریتی کردار اور تحریک حقِ خودارادیت کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کو ناکام ونامراد بنانے کے لیے بھارت کے کسی بھی الیکشن عمل سے دُور رہیں۔ اجلاس میں ریاست کے یمین ویسار بالخصوص جنوبی کشمیر میں معصوم عوام کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال اور قتل وغارت گری کی کارروائیاں روا رکھے جانے کی مذمت کرتے ہوئے عوام کی قوت مدافعت اور تحریک حقِ خودارادیت کے ساتھ والہانہ وابستگی کو خراج تحسین ادا کیا گیا۔ اجلاس میں حریت چیرمین سید علی گیلانی کو انتظامیہ کی طرف سے مسلسل خانہ نظربند کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دراصل بھارت گیلانی  کی عوامی مقبولیت سے خائف ہوچکی ہے اور بھارت اپنی خفت مٹانے کے لیے انہیں پچھلے 8برسوں سے زائد عرصہ سے نظربند رکھے ہوئے ہے۔ اجلاس میں کولگام کے فیاض احمد وانی کو راست فائرنگ کے دوران جاں بحق کئے جانے کو ایک بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے معصوم شہریوں کے قتل عام کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقاتی کمیشن بٹھانے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ ریاست جموں کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے جنگی جرائم کے ارتکاب میں ملوث اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دلائی جاسکے۔