کشمیری پنڈتوں نے وطن واپسی کیلئے ووٹ کیا

جموں //ریاست کے دو پارلیمانی انتخابات میں جمعرات کو ہوئی پولنگ میں کشمیری پنڈت بے گھر لوگوں نے بھی ووٹ ڈالے۔ بارہمولہ ۔ پارلیمانی حلقہ کی پولنگ کے لئے الیکشن کمیشن نے مائیگرنٹوں کو حق رائے دہی میں شرکت کرنے کے لئے مناسب انتظامات کئے تھے۔ جہاں پر مائیگرنٹوں کے لئے جموں میں متعدد پولنگ بوتھ قائم کئے گئے تھے وہیں اودہمپور میںایک اور نئی دہلی میں چار پولنگ بوتھ قائم کئے گئے تھے۔ ایک79سال عمر کے ایک بزرگ اوتار رکرشن نے اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے کشمیر میں اپنے آبائی وطن کو واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔اس نے کہا کہ کشمیر میں 1989-90. میں ملی ٹینسی کی وجہ سے سات لاکھ کے قریب کشمیری پنڈتوں کو وطن سے بھاگنا پڑا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ نئی سرکار اسکی تین دہائی کی جلا وطنی کا خاتمہ کرے گی۔جگتی کیمپ کے باشندے کرشن نے کہا کہ اس نے بارہمولہ پارلیمانی حلقہ میں اس امیدوار کے حق میں ووٹ کیا جو اسے اپنے آبائی وطن میں بازآباد کاری کرے گا۔اس کا کہنا تھا کہ اس نے 1996, 2002, 2008  اور 2014 اسمبلی انتخابات میں شرکت کی ہے اور پارلیمانی انتخابات 1999, 2004, 2009, 2014  میں بھی اپنا ووٹ ڈالا ہے۔اس نے کہا کہ میں نے بہت سی سرکاریں بنتی دیکھی ہیں لیکن کسی نے بھی میری گھر واپسی کے ووٹ پر عمل نہیں کیا ہے۔اسکی خواہش ہے کہ وہ اپنی آخری سانس اپنے آبائی وطن میں ہی لینے کی خواہش رکھتاہوں۔اس نے کہا کہ میری آخری خواہش گھر واپسی کی ہے۔18سال کے پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والی ونشکا نے کہا کہ میں نے اگرچہ بارہمولہ کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالا لیکن مجھے احسا س ہے کہ میری اپنے آبائی وطن کی واپسی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔