کشمیری نوجوان آبائی پیشے اپنائیں: میر واعظ

سرینگر//حریت (ع) چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے  رزق حلال کی تلاش جستجو اور تگ و دو کو عظیم عبادت قرار دیتے ہو ئے کشمیر کی نوجوان نسل پر زور دیا ہے کہ وہ خود روزگار کے مواقع تلاش کریں اور کسی بھی جائز اور حلال پیشے کو کم تر اور حقیرنہ سمجھیں۔شہر خاص کے رعناواری علاقے میں ایک نجی کاروباری مرکز کے افتتاح کے موقعہ پر وہاں موجود نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے ان پر زور دیا کہ وہ Dignity of Labour کو کسی بھی طور نظر انداز نہ کریں اور از خود اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے محنت و مشقت کو اپنا شعار بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری ریاست میں بہت سے ایسے شعبے ہیں جن سے استفادہ کرکے نوجوان اپنا روزگار کما سکتے ہیں ۔ میرواعظ نے  اس امر پر انتہائی فکر و تشویش کا اظہار کیا کہ جموںوکشمیر خاص طور پر ہماری وادی میں افرادی قوت اور مختلف کاموں میں مہارت رکھنے کے باوجود ہمارے نوجوان محنت و مشقت سے نہ صرف جی چرا رہے ہیں بلکہ بہت سے ایسے کام اور آبائی پیشے ہیں جن کو وہ اچھی طرح انجام دے سکتے ہیں لیکن وہ ان کاموں کو اختیار کرنا اپنے لئے باعث شرم اور عار سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے ہزاروں افراد اگر کشمیر آکر مختلف کاموں کو اختیار کرکے اپنا روزگار کما سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ کشمیر میں ہمارے اپنے نوجوان محنت و مشقت سے جی چرا رہے ہیںجس وجہ سے بے روزگاری کی شرح دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔میرواعظ نے کشمیری سماج کو درپیش مسائل ، سماجی بے راہ روی ، دین سے دوری اور اخلاقی گراوٹ پر زبردست فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہ گزشتہ دو روز کے دوران کئی معصوم بچیوںنے خودکشی کے واقعات رونما ہوئے اور کئی مقامات پر  لاوارث حالت میں نوزائد بچوں کی موجودگی سماجی بے راہ روی کی عکاسی کرتی ہے جو کہ نہ صرف حد درجہ تشویش کا باعث ہے بلکہ سماج کے ہر ذمہ دار فرد کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔