کشمیری مرچ اُگائیں اور خوب نفع کمائیں زراعت

سہیل بشیر کار۔بارہمولہ
خوش قسمتی سے ہمارا تعلق اس علاقے سے ہے جہاں کی بہت سی چیزیں مشہور ہیں۔ ان میں کشمیری مرچ ایک ہے۔کشمیری مرچ وہ مرچ ہے جو کہ مارکیٹ میں بہت بکتی ہے، مرچ ہر گھر میں استعمال ہوتی ہے۔لہٰذا ضرورت ہے کہ اس کو ہر جگہ اُگایا جائے،ساتھ ہی اگر آپ یہ کمرشل بنیادوں پر اُگانا چاہیںتو اس کے لیے مارکیٹ دستیاب ہے۔یہاں بہت ساری مصالحہ کمپنیاں ہیں، جو اچھی قیمت پر آپ کی پیدوار کو خریدیں گے۔
مرچ کی ابتدا بر اعظم امریکا سے ہوئی۔ کولمبیئن تبادلے کے بعد کئی کاشتکاروں نے اسے پوری دنیا میں پھیلا دیا۔بھارت دنیا کا سب سے بڑا مرچ پیدا کرنے والا، صارف اور برآمد کنندہ ہے۔مرچ کے بغیر چٹ پٹے کھانوں کا تصور ناممکن ہے ۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ زیادہ مرچ کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے تاہم کیا آپ جانتے ہیں کہ سرخ مرچ میں موجود ایک نباتاتی کیمیائی مادہ کیپ سائسن درد سے نجات دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ سرخ مرچ کے اس کیمیائی مرکب کیپ سائسن سے بنی کریمیں سرجری کے بعد ہونے والے درد اور بعض مخصوص نوعیت کے اعصابی درد میں بھی استعمال ہوتی ہیں ۔ ادویات میں استعمال کے علاوہ سرخ مرچ کے اور بھی بہت سے طبی فوائد ہیں ۔ کھانے میں صرف مرچ پیٹ میں درد گیس اور مروڑ سے محفوظ رکھتی ہے ۔ یہ تھوک اور معدے میں کھانا ہضم کرنے والے مادوں کا اخراج بڑھا دیتی ہے جو کھانا جلد ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔ سرخ مرچ خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے اور فبرن کو حل کرکے خون میں پھٹکیاں بننے سے روکتی ہے ۔
ہمارے گھروں میں کھانے میں ہری مرچ کھانے کا رواج بھی ہے۔ہری مرچ کے بہت سے طبی فوائد ہیں۔ہری مرچ نیوٹریشنز سے بھر پور ہوتا ہے، اس میں وٹامن اے وٹامن B6 اور وٹامن سی ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ اس میں آئرن پوٹاشئیم اور کوپر کی بھر پور مقدار بھی پائی جاتی ہے۔ہری مرچ میں کوئی کیلوریز نہیں ہوتیں ہری مرچ فائبرز سے بھر پور ہوتی ہے۔ ہری مرچ میں آئرن پوٹاشئیم اور کوپر کی بھر پور مقدار بھی پائی جاتی ہے، ہری مرچ میں کوئی کیلوریز نہیں ہوتی ،ہری مرچ فائبرز سے بھر پور ہوتی ہے۔
ہری مرچ میں بہت زبردست اینٹی ایجنگ خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں جو آپ کو لمبے عرصے تک جوان رکھ سکتی ہیں،جو ہری مرچ کا باقاعدہ استعمال کرتے ہیں ،لمبے عرصے تک ان کے چہرے پرجھریاں نظر نہیں آتیں۔خشک سکن کے لیے ہری مرچ کو سلاد میں شامل کرکے کھائیں۔ہری مرچ کا استعمال آنکھوں کے لیے بہت بہترین ہے کیونکہ اس میں بیٹ کیروٹین پایا جاتا ہے جو کہ آنکھوں کےلیے بہت مفید ہے، آنکھیں مختلف قسم کے انفیکشنز سے محفوظ رہتی ہیں۔ہری مرچیں جسم کے امیون سسٹم کو مضبوط کرتی ہیں جس سے جسم میں بیماریوں کے خلاف لڑنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔سبز مرچیں زبردست اینٹی کینسر خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں۔ مختلف تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ مرچوں کا ستعمال کرتے ہیں وہ مختلف قسم کے کینسر سے بچے رہتے ہیں کیونکہ ہری مرچوں میں طاقت ور قسم کے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔یہ آکسیڈنٹس کینسر سے بچاتے ہیں اور ساتھ ہی مختلف بیماریوں کے خلاف جسم میں مدافعت پیدا کرتی ہیں۔ہری مرچوں کا استعمال دل کی صحت کے لیے بھی بہت مفید ہے،ان کے استعمال سے خون نہیں جمتا اور نہ ہی کولیسٹرول کا لیول بڑھتا ہے، جس کی وجہ سے دل کی مختلف بیماریوں سے انسان بچا رہتا ہے۔ہری مرچوں کا استعمال دماغ کے لیے بھی بہت مفید ہے، ہری مرچوں میں ایسے کمپاؤنڈز پائے جاتے ہیں جو ڈپریشن سے بچاو میں مدد دیتے ہیں۔
مرچ اُگانا آسان ہے، مرچ کا بیج یکم اپریل سے وسط مئی تک ہم اگا سکتے ہیں۔سب سے پہلے پنیری تیار کرنی ہے۔پنیری کے لیے زمین اچھے سے تیار کیجئے۔کم از کم تین بار زمین کھودئیے۔زمین کو اچھے سے پلین کیجئے، بہتر ہے کہ ہم ریزڈ بیڈ بنائیں۔مرچ لگانے سے پہلے مرچ کے سیڈ کو پانی میں رات بھر بھگو کر رکھیے۔بہتر ہے کہ سیڈ لگانے کے لئے بیج کو سیڈ ٹریٹمنٹ کریں۔اس کے لیے آپ آپ thiram3 گرام یا carbandazom 2gram /kg استعمال کر سکتے ہیں، ایک کنال لال مرچ کے لیے 75 سے 100 گرام بیج درکار ہوتا ہے، 4 سے 5 ہفتے میں seedling تیار ہوتی ہے، عام طور پر پودے کا سائز جب دس سے پندرہ سینٹی میٹر لمبا ہوجائے تو اس seedling کو ہم ٹرانسپلانٹ کر سکتے ہیں، جون کے تیسرے ہفتے تک ہم ٹرانسپلانٹنگ کر سکتے ہیں۔جب نرسری تیار ہو جائے تو مرچ لگانے سے پہلے زمین کو اچھے سے تیار کیجئے، کراپ روٹیشن کا خاص خیال رکھیں۔کوشش کیجئے جس جگہ آپ نے گزشتہ سال مرچ لگائے ہوں دوسرے سال کسی اور جگہ لگائیں ، ایک کنال زمین میں 12 ٹن سڑا ہوا گوبر استعمال کیجئے۔ساتھ ہی زمین تیار کرتے وقت ایک کنال زمین میں 4.5 کلو یوریا، 10 کلو ڈی اے پی، اور 5 کلو ایم او پی لگائیں ، کوئی بھی فصل کے بہتر نتائج کے لیے ایک بات یقینی بنائیں کہ پودے لین میں لگائیں. قطار سے قطار 60cm کا فاصلہ رکھیں اور پودے سے پودے کے درمیان 45 سینٹی میٹر کا فاصلہ رکھیں. وقفہ وقفہ سے گوڈائی کرتے رہیں ، زیادہ پانی نہ دیجئے. پانی ہر 7 سے 10 دن بعد ہی دیجئے. پانی شام کے وقت دینا زیادہ بہتر ہے،جب پودے میں پھول آنے شروع ہو جائے اور پھل بننا شروع ہو جائے، اس وقت پانی دینا ضروری ہے۔عام طور پر مرچی میں ڈمپنگ آف اور fusarium wilt بیماری لگ سکتی ہے،اس کا علاج ہے کپٹان 50 ڈبلیو پی – 0.25 فیصد یا منکوزب 75 ڈبلیو پی 0.25 فیصد شرح پر جو کہ 2 سے 5 گرام فی کلو ملایا جائے، نرسری میں منکوذب 75 ڈبلیو پی بحساب 2 سے 3 گرام فی دس لیٹر پانی سے تر کیجئے ،اگر آپ کو سبز مرچ ہی چاہیے تو تیار ہونے کے بعد آپ picking کر سکتے ہیں لال مرچ کے لیےتھوڑا انتظار کیجیے۔لال مرچ کو سکھا کر اگر ہم پوڈر چاہیں تو وہ بھی بنا سکتے ہیں۔اگر ایسے ہی بھیجنا چاہیں تو اس کے لیے لوکل مارکیٹ کے ساتھ ساتھ کنول، عرفا، وغیرہ سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔یہ کمپنیاں اچھی قیمت پر آپ کا مال خریدیں گے۔
(مضمون نگار محکمہ زراعت میں جونیر ایگریکلچر ایکسٹنشن افسر ہیں)
رابط 9906653927
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔