کشمیری قیدیوں کا جیل حکام کے نام مشترکہ مکتوب

سرینگر//کشمیری قیدیوں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے کہا ہے کہ جو کشمیری قیدی تہاڑ جیل میں ایام اسیری کاٹ رہے ہیں،وہ سخت ترین ایام سے گذر رہے ہیں کیونکہ اُنہیں نفسیاتی طور پر ناقابل برداشت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان قیدیوں کو یا تو چھوٹی سیلز کے اندر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے یا بڑے وارڈس میں اُن اخلاقی مجرموں کے ساتھ ، جن کی حرکتیں غیر مہذب ہیں اور جن کے ساتھ و ہ خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں، میں مقید رکھا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ صاف محسوس ہورہا ہے کہ تہار جیل کشمیری قیدیوں کیلئے گانتا نامو بے ثابت ہورہا ہے۔ دلی کے ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات کے نام تہار جیل میں مقید کشمیری قیدیوں کی ایک درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے فریڈم پارٹی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں مذکورہ ڈائریکٹر جنرل پر زور دیا کہ وہ مزید وقت ضائع کئے بغیر کشمیری قیدیوں، بشمول شبیر شاہ کی حفاظت نیز مناسب طبی امدادکے اقدامات کریں۔ذرائع ابلاغ میں شائع ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یا این اے آئی کے ہاتھوں گرفتار شدہ کشمیری قیدی، جو تہار جیل دلی میں مقید ہیں، نے ڈائریکٹر جنرل جیلخانہ جات دلی کو ایک مشترکہ درخواست بھیجی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اُنہیں ایک ساتھ کسی کمپارٹمنٹ میں منتقل کیا جائے ۔ درخواست میں ان قیدیوں نے جیل میں بنداخلاقی مجرموں سے علیحدگی پر بھی زور دیا ہے کیونکہ وہ ان مجرموں کے ساتھ رہتے ہوئے اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ فریڈم پارٹی سربراہ شبیر شاہ تہار جیل کی ایک چھوٹی سی سیل کے ااندر قید تنہائی میں رکھے گئے ہیں جہاں ایک کھلا کمونڈ اُ ن کے مصائب میں اضافہ کررہا ہے۔ شبیر شاہ، کئی امراض میں مبتلاء ہیں اور جیل حکام بھی اُن کی خرابی صحت سے واقف ہیں۔ یہی وقت ہے جب ڈائریکٹر جنرل جیلخانہ جات، دلی کو چاہئے کہ وہ کشمیری قیدیوں کی درخواست پر عمل کریں۔فریڈم پارٹی ترجمان نے کہا ہے کہ تہار جیل حکام کو چاہئے کہ وہ سیاست کا شکار نہ بنیں جو شبیر شاہ اور دیگر کشمیری قیدیوں کے ساتھ کھیلی جارہی ہے۔