کشمیری عوام امن کے متلاشی:ڈاکٹر فاروق

 سرینگر//’’کشمیری عوام امن کے متلاشی ہیں، ہم امن و امان کی فضاء میں زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں، ہم نے ہمیشہ تشدد کیساتھ نفرت کی اور عدم تشدد کے حامی رہے، لیکن وادی کے موجودہ حالات انتہائی سنگین ہیں اور حالات ہر گزرتے دن کیساتھ بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، اگرچہ جموں کے حالات قدرے بہتر ہیں لیکن فرقہ پرست عناصر وہاں حالات بگاڑنے کے در ہے ہیں، ہمیں متحد ہوکر ایسے امن دشمن عناصر کیخلاف صف آراء ہونا چاہئے تاکہ ریاست کے صدیوں کے بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کو آنچ نہ آسکے‘‘۔ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل غیر سرکاری تنظیم Peace Of Indiaکی طرف سے امن مارچ کو شیر کشمیر پارک سرینگر سے ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر راجیہ سبھا ممبر نذیر احمد لاوے، تنظیم کے چیئرمین وشال بردھواج، تنظیم کے ریاست صدر سید خالد، تنظیم کے ضلع صدر کرگل و ہل کونسل کے کونسلر سید عباس رضوی اور این سی لیڈر مشتاق احمد گورو کے علاوہ کئی معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔ یہ امن ریلی 30رضاروں پر مشتمل ہے، ریلی گجرات کے گاندھی آشرم میں اختتام کو پہنچے گی۔ ’ہند، مسلم، سکھ، عسائی، ہم سب ہیں بھائی بھائی ‘ پیس آف انڈیا کا نعرہ ہے اور اسی مقصد کی خاطر ریلی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس موقعے پر نامہ نگاروں کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ہر کسی کونے کے لوگ امن و امان کی زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں،کیونکہ امن کی صورت میں ہی ہماری ترقی، خوشحالی اور فارغ الباری کا راز مضمر ہے۔ اسی مقصد کی خاطر نے بار بار ہندوستان اور پاکستان کے درمیان صلح صفائی اور مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کا مطالبہ کرتے آتے ہیں اور ساتھ ہی ہم ریاست کے اندر مذہبی ہم آہنگی اور آپسی رواداری کی مشعل کو فروزان رکھنے کے خواہاں اور کوشاں رہے ہیں۔ کویندر گپتا کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوا ل کے جواب میںانہوں نے کہا کہ بھاجپا لیڈر کا بیان نہایت افسوسناک اور شرمناک ہے۔ اس بیان سے فرقہ پرستی کی بو آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان گھناونے واقعہ نے جہاں پوری دنیا کو جھنجوڑ دیا وہیں کویندر گپتا جیسے لوگ فرقہ پرستی کے بھنور میں ڈوب کر اتنے سنگ دل ہوگئے ہیں کہ انہیں یہ ایک معمولی معاملہ لگ رہا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی بیٹی بچائو اور بیٹی پڑھائو کے نعرے دے رہے ہیں اور دوسری جانب اپنی پارٹی میں شامل کویندر گپتا جیسے لوگوں کے شرمناک اور افسوسناک بیانات و اقدامات کو اَن دیکھا کررہے ہیں۔