کشمیری شاعر رجب حامد

انگریزی زبان دنیا کی بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔اس کا سرمایہ ادب بہت وسیعاور زرخیز ہے۔اس زبان میں بڑے ادباء اور شعراء پیدا ہوئے ہیں۔ہماری مادری زبان کشمیری کا جہاں تک تعلق ہے ،یہ انگریزی کے مقابلے میں بہت چھوٹی زبان ہے۔ایک بات تو واضح ہے کہ انگریزی زبان کا سرمایہ ادب کشمیری زبان سے اعلیٰ۱ اور برتر ہے۔وادیٔ کشمیر میں بہت سارے شعراء اور ادباء پیدا ہوئے ہیں، جنہوں نے اپنی ادبی صلاحیتوں اوع علمی کمالات کا لہو منوایا ۔بیسویں صدی کا ایک معروف کشمیری زبان کا شاعر رجب حامد بھی ان میں سے ایک ہیں، جو اپنی خوبصورت شاعری کی بدولت ریاست بھر میں مشہور ہیں۔ان کی ایک لاثانی غزل’’افسوس دنیا‘‘ کی مقبولیت صرف ریاست جموں و کشمیر میں ہی نہیں بلکہ یہ دنیا کے کئی حصوں میں کشمیری جاننے والو ں کی دلچسپی کا باعث بنی۔اس غزل سے رجب حامد کی شاعرانہ صلاحیتوں کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔ انگریزی زبان کے ایک مشہور و معروف شاعر اور ادیب ولیم شیکسپیئر نے سولہویں صدی میں ایک نظم all the world's stageمیں انسانی زندگی کے سات منازل(stages) پیش کئے ہیں۔ جب ہم مذکورہ نظم اور رجب حامد کی غزل "افسوس دنیا "کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ان میں کافی مماثلت نظر آتی ہے۔حالانکہ ان میں اگر کچھ تفاوت ہے تو وہ ثقافتی پس منظر کی عدم موافقت ہے،یعنی شیکسپیئر نے اپنے ماحول کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور رجب حامد نے اپنے گردونواح کی عکاسی کی ہے۔شیکسپیئر اپنی مذکورہ نظم میں فرماتے ہیں کہ دنیا ایک ڈرامہ کے سٹیج کے مانند ہے۔کردار سٹیج پر آتے ہیں اور مختلف رول ادا کرکے چلے جاتے ہیں۔شاعر کے مطابق انسانی زندگی کے ڈرامے میں سات بڑے مراحل (stages) ہیں۔
۱۔سب سے پہلے انسان ایک بچے کے رول میں آتا ہے اور نرس (Nurse) کی گود میں روتا ہے اور ا س کے منہ سے رال ٹپکتی ہے۔
۲۔دوسرے سٹیج میں وہ ایک اسکول جانے والے بچے کا کردار نبھاتا ہے۔وہ کتابوں کا بستہ لے کر بے دلی سے اسکول کی طرف جاتا ہے۔
۳۔نظم کے مطابق انسان تیسری منزل میں جوانی میں قدم رکھتا ہے اور عاشق کے روپ میں سامنے آتا ہے۔وہ اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے اور اپنی محبوبہ کی تعریف میں نظمیں لکھتا ہے۔
۴۔چوتھے مرحلے میں وہ کچھ اور ہی کردار نبھاتا ہے اور گندی زبان کا استعمال کرتا ہے۔اس مرحلے میں وہ چیتے کی طرح دکھائی دیتا ہے اور شہرت کے پیچھے اپنی جان تک قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔
۵۔پانچویں ایکٹ میں انسانی جج کا کردار ادا کر تا ہے۔وہ اچھا کھانا کھاتا ہے اور موٹا ہو جاتا ہے۔اس دور میں وہ لوگوں کو اپنی عقل سے متاثر کرتا ہے۔
۶۔زندگی کے چھٹے باب میں انسان کی طاقت کم ہونی شروع ہوجاتی ہے۔وہ بوڑھا ہوجاتا ہے۔اس کی آنکھوں پر عینک چڑھ جاتی ہے۔
۷۔آخر کار مرنے سے پہلے انسان ساتویں اور آخری مرحلے میں آجاتا ہے۔وہ ایک بچے کی مانند بے بس ہوجاتا ہے۔اس کی یادداشت اور دوسری قوتیں کمزور ہو جاتی ہیں اور لوگ اس کا خیال تک نہیں کرتے ہیں ،پھر آخر کار انسان کی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
دوسری جانب کشمیری شاعر رجب حامد نے ایک غزل ’’افسوس دنیا‘‘ تخلیق کی۔حامد صاحب نے انسانی زندگی کے مختلف ادوار عمر کے مطابق پیش کئے ہیں۔اگر ان ادوار کو الگ الگ کیا جائے، تو وہ بھی سات اسٹیج بن جاتے ہیں:
۱۔ رجب حامد کے مطابق انسانی زندگی کا پہلا مرحلہ پیدائش سے تین سال کی عمر تک ہوتا ہے، اس دور میں ماں بچے کو پیار سے دودھ پلاتی ہے اور بعد میں بچہ تھوڑا بڑھا ہو کر کھیلنے لگتا ہے۔
۲۔زندگی کا دوسرا دور چھٹا اور ساتواں سال کا ہوتاہے، اس دور میں ماں باپ بچے کا بڑا ہوتا ہوا دیکھ کر پھولے نہیں سماتے ہیں اور پھر بچہ اسکول جانے لگتا ہے۔
۳۔’’افسوس دنیا ‘‘غزل کے مطابق زندگی کا تیسرا مرحلہ آٹھ سے چودہ سال کی عمر تک ہوتا ہے، اس دور میں انسان فکر مند بن جاتا ہے اور اس کی شادی بھی ہو جاتی ہے۔
۴۔اس کے بعد چوتھا دور شروع ہوتا ہے۔یہ دور پندرہ سال سے پچیس سال کی عمر تک کا ہوتا ہے۔اس مرحلے میں انسان اچھے برے لوگوں میں تمیز کرتا ہے اور گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔وہ باپ کی جگہ گھر کا سربراہ بن جاتا ہے۔
۵۔رجب حامد کے مطابق چھبیس سال سے تیس سال کی عمر انسان کی زندگی کا پانچواں دور ہوتا ہے ،اس مرحلے میں وہ اپنے ہی باپ کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کو پاگل سمجھتا ہے کیونکہ وہ بڑھاپے میں ہوتا ہے۔
۶۔اس کے بعد چھٹا مرحلہ شروع ہوتاہے، یہ اکتیس سال سے چالیس سال کی عمر کا ہوتا ہے، اس منزل میں انسان کو پھر اپنے ہی بچے گھر سے باہر نکالتے ہیں۔یوں یہ انسان اپنی ساری زندگی اپنے بچوں کی فلاح و بہبود میں صرف کرتا ہے اور خود دین وایمان سے کوسوں دور رہ جاتا ہے۔
۷۔آخر کار ساتواں مرحلہ آتا ہے جو پچاس سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے۔یہ دور بڑھاپے کا ہوتا ہے،اس کے ہاتھ میں لاٹھی آجاتی اور خدا کی عبادت کیلئے مسجد کا رُخ کر لیتا ہے اور اس طرح اس کی زندگی پھر خاتمے کی طرف جاتی ہے۔
شیکسپیئر اور رجب حامد کی نظموں کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ دونوں شعراء یا تخلیق کاروں نے دراصل ایک ہی بات مختلف پیرائیوں میں کہی ہے۔انسان کی ابتداء اور انتہا دونوں شعراء نے اپنے اپنے انداز سے پیش کی ہے۔شکسپیئر کہتا ہے کہ بچہ ابتداء میں نرس(nurse)کی گود آ کر روتا ہے ،رجب حامد فرماتے ہیں کہ بچہ ابتداء میں ماں کی گود میں دودھ پیتا ہے۔دونوں کے مطابق بچہ اسکول جاتا ہے۔شکسپیئر کہتا ہے کہ انسان پھر فوجی بن کر ملک کے لئے جنگ لڑتا ہے جب کہ رجب حامد کے مطابق انسان گھر کی ذمہ داریاں لے کر زندگی کی جنگ لڑتا ہے۔شکسپیئر کی نظر میں انسان کی زندگی کے آخری مرحلے میں بڑھاپا آتاہے اور اس کی ناک پر عینک لگ جاتی ہے، رجب حامد فرماتے ہیں کہ اس دور میں انسان کے ہاتھ میں لاٹھی آجاتی ہے۔اس طرح دونوں شعراء کے خیالات تو یکساں ہیں لیکن سماج کی عکاسی صاف صاف نظر آتی ہے۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ رجب حامد نے صرف پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور وہ بھی عربی اور فارسی میں ، لیکن وہ انگریزی زبان سے بالکل ناآشنا تھے، مگر خداداد صلاحیتوں اور عالموں کی صحبت کی وجہ سے خیالات کی بلندی شیکسپیئر سے جا ملتی ہے۔اگر ہم رجب حامد کو کشمیری زبان کا شیکسپیئر کہیں تو شاید بے جا نہ ہو گا۔
یہاں پر مجھے یہ لگتا ہے کہ رجب حامد کی زندگی کا ایک مختصر سا تعارف پیش کرنا ضروری ہے۔ رجب حامد کا اصلی نام محمد رجب حجام تھااور حامدؔتخلص کرتے تھے۔ان کی ولادت ۳۲ ۱۹ عیسوی میں قصبہ ترال سے تقریبا چودہ کلو میٹر دور ایک گاؤں ستورہ میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم ایک مقامی مکتب سے عربی اور فارسی میں حاصل کی۔مروجہ تعلیم کے حصول کے لئے اگرچہ ایک پرائمری اسکول میں داخلہ لیا، جو ان ہی دنوں ستورہ ترال میں قائم کیا گیا تھا، لیکن گھر کی کمزور معاشی حالت کی وجہ سے پانچویں درجے سے آگے جاری نہ رکھ سکے۔حامد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے کافی ذہانت عطا کی تھی۔وہ کم عمری میں ہی اپنے والد صاحب کا گھر یلو کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے اور ان کا فہم و فراست دیکھ کر ان کا والد ان سے اکثر و بیشتر مختلف معاملات میں مشورے طلب کیا کرتے تھے۔پندرہ سال کی عمر سے ہی رجب حامد نے شعر و شاعری کا سلسلہ شروع کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب کشمیر میں شخصی راج قائم تھا اور لوگوں پر بے انتہا مظالم ڈھائے جاتے تھے۔اس ماحول سے متاثر ہو کر رجب حامد اکثر شعر کہتے رہتے۔ رجب حامد کو بھی شخصی حکومت کے مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔اس وقت لوگوں سے  بے گار لی جاتی تھی۔رجب حامد اپنے والد کے بدلے بے گاری کے لیے رضاکارانہ طور خود کو پیش کیا۔وہ اس کام کے دوران چھوٹے چھوٹے گیت لے میں گاتا تھا ،اس سے دوسرے مزدوروں کا کام آسان ہو جاتا تھا۔کم وقت میں زیادہ کام انجام دیا جاتا تھا۔یہ دیکھ کر ٹھیکیدار خوش ہو جاتے تھے، اس لیے انہوں نے رجب حامد کو اس کام سے چھوٹ دے رکھی تھی۔ان کو صرف گیت گانے ہوتے تھے اور باقی مزدور ان کا ساتھ دیتے تھے۔یہ ان کی عمر کشوری کا زمانہ تھا۔ایسے مشکل حالات سے متاثر ہو کر رجب حامد نے کئی نظمیں تخلیق کیں۔ نمونے کا ایک شعر یہ ہے   ؎ 
طوفانن بہ کوتاہ وچھان روزء  یا رب  
جوانن یوان جوش بہ کر بوزء یا رب
رجب حامد کو چونکہ شعر و شاعری کا بہت شوق تھا، لیکن ساتھ ہی صراط مستقیم پانے کی بھی تڑپ تھی،اس لیے وہ بزرگوں کی محفلوں میں اکثر آتے جاتے تھے۔ان بزرگوں میں محترم میرک شاہ کاشانی،محترم عبدالغفار تانترے مڈورہ ترال ،محترم غلام رسول خان فداؔ اسلام آبادی،محترم صوفی عبدالنبی لاہوری وغیرہ شامل تھے۔ان بزرگوں کی صحبت سے رجب حامد کی شخصیت اور شاعری دونوں میں نکھار اور پختگی پیدا ہوئی۔رجب حامد اوائل عمر سے ہی تصوف کے دلدادہ رہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ سکون قلب کے لیے یکے بعد دیگرے کئی مرشدوں سے فیض یاب ہوتے رہے۔آخر کار ان کی ملاقات غلام رسول خان اسلام آبادی (لسہ خان فداؔ ) سے ہوئی، جس نے ان کی تمام آرزوئیں اور تمنائیں پوری کر دیں اور کئی دہائیوں کی کدوکاوش کے بعد اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔لسہ خان صاحب نے رجب حامد صاحب کو اپنا جانشین مقرر کیا۔رجب حامد ایک بااصول اور خوددار شخص تھے۔ساری عمر اگرچہ غربت  میں گزاری لیکن کبھی اپنی شہرت کا نامناسب فائدہ اٹھانے کی کوشش تک نہیں کی۔وہ قلندرانہ اوصاف کے مالک تھے۔ہمیشہ ذکر و اذکار میں محو رہتے تھے۔ان کے دولت خانے پر ہمیشہ لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔رجب حامد کی صرف ایک بیٹی تھی، جو ہر دم اُن کی اور ان کے پاس آنے والے مہمانوں کی خوب خدمت کیا کرتی تھی۔رجب حامد کی بیٹی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔یہی رجب حامد کا خاندان ہے۔ان کی بیٹی کا بڑا بیٹا ندیم الطاف ہے۔وہ بھی اپنے نانا کے نقش قدم پر چل کر کشمیری زبان میں شعر و شاعری کرتے ہیں۔ندیم الطاف کی کتاب "معرفتک جام"پچھلے سال شائع ہوئی۔رجب حامد نے چونکہ مروجہ تعلیم کم ہی حاصل کی تھی،اس لیے وہ جب شعر کہتے تھے تو وہ اپنے ایک بھانجے غلام نبی ہویداہ سے لکھواتے تھے، غلام نبی ہویداہ بھی اپنے ماما جان رجب حامد کی پیروی کرکے کشمیری اور اردو دونوں زبانوں میں شعر و شاعری کرتے ہیں۔ رجب حامد کی شاعری پہلی مرتبہ ’’بیاض رجب حامد‘‘اور ’’دیوان رجب حامد‘‘کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔بعد میں ترال کے ایک مشہور استاد محترم محمد الطاف چاڈورہ نے اپنی ذاتی کوشش سے رجب حامد کی شاعری کو ’’افسوس دنیا ‘‘کے نام سے شائع کروایا۔رجب حامد کی ابھی بھی کچھ شاعری تشنہ ٔاشاعت ہے۔اس میں ایک مثنوی ’’گل بہار ‘‘بھی شامل ہے۔رجب حامد اپنے ہم عصر شعراء میں کافی ممتاز ہے۔ان کی شاعری میں تصوف، دنیا کی بے ثباتی اور خدا پرستی کا درس ملتا ہے۔کشمیری ادب کا یہ شہسوار طویل عمر پا کر۲ ؍اپریل ۲۰۰۸ عیسوی کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔ان کے مقبرے پر ریاستی کلچرل اکادمی کی طرف سے ایک سنگ مرمر کا لوح ِمزار نصب کیا گیا ہے، جس پر رجب حامد کی مختصر سوانح حیات کندہ ہے۔ رجب حامد نے اگر چہ کشمیری زبان کی بہت خدمت کی لیکن ہم نے ان کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔مشہور گلوکار مرحوم غلام حسن صوفی کو ’’افسوس دنیا‘‘ کو اپنی آوازدینے پر بڑا اعزاز ملا،لیکن اس غزل کے تخلیق کار کو پس پشت ڈالا گیا۔ سال۲۰۱۸ عیسوی کو انہیں ’’فخر ترال‘‘کے اعزاز سے ان کو بعداز مرگ نوازا گیا۔بہرحال رجب حامد کشمیری ادب کا وہ چمکتا ہوا تارا ہے ،جس کی چمک تب تک قائم رہے گی جب تک کشمیری زبان وادب زندہ ہے۔ 
