کشمیری دستکاری کا شاہکار’پشمینہ شال‘

 سرینگر // کشمیری دستکاریوں میں اگر شالبافی اور قالین سازی کی صنعتیں کما حقہ باقی رہ گئی ہیں تو بیجا نہ ہوگا۔ دیگر سبھی دستکاریوں کی جانب  حکومت کی عدم توجہی، انکے زوال کا سبب بن رہی ہے۔شالبافی کی صنعت سب سے پرانی ہے اور کثیر تعداد میں ہنر مند اسکے ساتھ وابستہ ہیں۔شالبافی میں کشمیری پشمینہ شال کا پوری دنیا میں کوئی متبادل نہیں ہے۔پشمینہ شال صرف کشمیر میں بنتا ہے اسی وجہ سے اسکی قیمت بہت زیادہ ہے اور عام لوگ اسے خریدنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔خام مال کی کمی کی وجہ سے پشمینہ شالوں کی مانگ میں کافی حد تک کمی آئی ہے اور اسی وجہ سے دستکار پشمینہ دستکاریاں چھوڑ کر دیگر کاموں کی طرف مائل ہورہے ہیں۔محکمہ ہنڈی کرافٹس کے اعداد و شمار کے مطابق اسوقت وادی میں کانی اور پشمینہ شال بنانے والے دستکاروں کی تعداد صرف 1343 ہے۔پشمینہ ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ خام مال میں کمی اور اسکی قیمتوںمیں اضافہ سے برآمدات میں کمی سے دستکار شالبافی چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ایسوسی ایشن صدر روف احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ 35قبل جب میںنے پشمینہ شال بنانے کا کام شروع کیا تھا تو اسوقت وادی میںپشمینہ دستکاروں کی تعداد 40ہزار سے زیادہ تھی جو اب چند سو رہ گئی ہے ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’خام مال کی خریداری سے لیکر پشمینہ شال بننے تک کے سفر کے دوران کئی لوگوں کو روز گار میسر ہوتا تھا لیکن آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اب پشمینہ شال تیار کرنے کا کام بھی تیزی سے چھوڑ رہے ہیں‘‘۔روف احمد نے بتایا ’’پشمینہ شال کی تیاری میںہزاروں خواتین کو بھی اپنی روزی روٹی کمانے کا موقع ملتا تھا، پشمینہ کی بھرائی اور رنگنے سے بھی کئی لوگوں کو روز گار میسر ہوتا تھا ‘‘۔روف نے بتایا ’’ اب نہ تولداخ سے خام مال آتا ہے ، نہ ہی خام مال کو شال بنانے کیلئے قابل استعمال بنانے کیساتھ جڑے ہوئے ہزاروں لوگوں کو روزگار مل رہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پشمینہ اون کا میٹرئیل خاص بھیڑوں سے حاصل کیا جاتا ہے جو لداخ کے تبت علاقے میں عمومی طور پر پائے جاتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ پشمینہ اون پہلے ہی تبت سے آنا کم ہوگیا تھا اور پچھلے 3برسوں سے اس میں مزید کمی آگئی ہے۔روف نے بتایا کہپشمینہ شال بنانے والوں کی تعداد اب مشکل سے 2ہزار رہ گئی ہے، کیونکہ خام مال نایاب اور کافی مہنگا ہوگیا ہے، نیز پشمینہ شال بنانے میں تقریباً 6ماہ لگتے ہیں۔روف نے بتایا کہ جی آئی ٹیگ ملنے سے پشمینہ صنعت یقینی طور پر بحال ہونے لگے گی اور ضرورت اس امر کی ہے کہ شالبافی کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے حکومتی مراعات دیئے جائیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس شارق اقبال نے بتایا ’’ جی آئی ٹیگ ملنے سے پشمینہ شال کی شان رفتہ آہستہ آستہ بحال ہونے لگی تھی لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈائون نے پھر سے مشکلات کھڑی کی ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ جی آئی ٹیگ ملنے سے نقلی اور اصلی پشمینہ شال کی پہچان آسان ہوگئی ہے اور اسی وجہ سے اب خریداروں میں دوبارہ دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ی پشمینہ کے نام پر دیگر ریاستوں سے لئے گئے یا غیر معیاری شال فروخت کرنے کے عمل کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے اور اگر ایسا کرتے ہوئے کسی کو پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔ شارق اقبال نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آمدنی اورکام کی کمی کی وجہ سے دستکار شال بافی چھوڑ رہے ہیں۔