’ کشمیری افسانے کی صورتِ حال‘

 سرینگر //ریاستی کلچرل اکیڈیمی کے زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ کشمیری کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کا موضوع تھا ’’ کشمیری افسانے کی صورتِ حال‘‘۔ اس سلسلے میں کانفرنس کے دوسرے روز کل تین نشستیں منعقد ہوئیں۔ پہلی نشست میں ایک پینل ڈِسکشن کی صورت میں ایک دلچسپ بحث و مباحثے کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں پروفیسر بشر بشیر، پروفیسر شاد رمضان، ڈاکر سوہن لال کول اور شکیل الرحمان نے شرکت کی جبکہ غلام نبی شاکر نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ اس نشست کا موضوع تھا ’’ موجودہ کشمیری افسانہ اور اس کا مستقبل‘‘ اور اس موضوع پر حاضرین میں سے بھی کئی لوگوں نے سوالات پوچھ کر بحث و مباحثے میں حصہ لیا۔ دوسری نشست میں ’’ کشمیری افسانہ … فن اور معیار‘‘ کے موضوع پر ایک پینل ڈِسکشن کی صورت میں منعقد کی گئی۔ اس بحث و مباحثے میں پروفیسر شفیع شوق، رحیم رہبر، ڈاکٹر رتن لال تلاشی اور ڈاکٹر مشتاق احمد منتظر نے حصہ لیا جبکہ ستیش وِمل نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ کانفرنس کی آخری نشست میں ’’ محفلِ افسانہ‘‘ کی صورت میں کئی نوجوان افسانہ نگاروں نے اپنے افسانے پیش کئے۔ اس نشست کی صدارت ظریف احمد ظریف نے کی جبکہ ایوانِ صدارت میں اُن کے ساتھ شمشاد کرالہ واری بھی موجود تھے۔ افسانہ نگاروں میں ڈاکٹر ریاض الحسن، ڈاکٹر نصرت اقبال، ڈاکٹر شوکت شان، دیبا نذیر اور طاہر بھگت شامل تھے۔ ان افسانوں پر نثار ندیم، فاروق شاہین، روف عادل، ڈاکٹر قیصر ملک اور عادل محی الدین نے تبصرے پیش کئے۔ اس نشست کی نظامت کے فرائض ایڈیٹر کشمیری جاوید اقبال نے انجام دئے۔ کانفرنس کے آخر پر ظفر مظفر چیف ایڈیٹر انسائیکلو پیڈیا نے مہمانوں، ماہرین اور افسانہ نگاروں کے علاوہ کانفرنس میں شریک زعماء، قلمکاروں، صحافیوں اور دیگر لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔